بریکنگ نیوز

گردےاورصحت

WhatsApp-Image-2019-04-03-at-10.11.05-PM.jpeg

ڈاکٹر فرقان علی
گردوں کا کام یہ ہے کہ وہ خون کی صفائی کرتے ہیں یعنی زائد پانی اور نمک کو نکال دیتے ہیں۔لیکن جب گردے اپنا یہ کام نہیں کر سکتے تو اسے گردوں کی دائمی بیماری (CKD) کہتے ہیں. اس کے اندر گردے آہستہ آہستہ خون کی صفائی کرنے کی اہلیت کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ مکمل طور پر کام نہیں کرتے۔اہم یہ ہے کہ ہم اس بیماری کو بڑھنے سے روکے۔
 گردے زیادہ کس وجہ سے خراب ہوتے ہیں؟

بہت سے عوامل ایسے ہیں جس کی وجہ سے گردے کی بیماری بڑھ سکتی ہے جیسا کہ زیادہ شوگر، زیادہ بلڈپریشر،موٹاپا، تمباکو نوشی وغیرہ، جن لوگوں کو چھوٹے پیشاب میں جھاگ آتی ہے یا پروٹین آتی ہے یا وہ لوگ جن کو جوڑوں کی بیماری ہوتی ہے یا وہ لوگ جن لوگوں کے خاندان میں کسی کو گردے کی بیماری ہے ، ان سب کو گردے کی بیماری کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے ۔
 گردے کی بیماری کی وجہ سے کون سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں؟

شروع شروع میں تو گردے کی بیماری کی کوئی علامات نہیں ہوتی ہیں اکثر مسئلہ کا پتہ تب چلتا ہے جب خون یا پیشاب کا ٹیسٹ کسی اور وجہ سے کروایا جاتا ہے عام طور پر خون کا ٹیسٹ جو کے گردے کے Function کو دیکھنے کے لئے کرایا جاتا ہے اس کو Creatinineکہتے ہیں. جیسے جیسے گردے کا فنکشن خراب ہوتا ہے Creatinine بڑھنا شروع کردیتا ہے اور چھوٹے پیشاب کا ٹیسٹ جسے Urine RE کہتے ہیں کے اندر پشاب میں ضائع ہونے والی پروٹین اور خون کو دیکھا جاسکتا ہے،بعض اوقات لوگوں کو پیروں ٹخنوں پر سوجن ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر لوگوں کو چھوٹا پیشاب ٹھیک آ رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ ان کے گردے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہوتے ہیں درحقیقت مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کے گردے پیشاب تو بنا رہے ہوتے ہیں لیکن خون کی صفائی نہیں کر رہے ہوتے۔جب گردے کا فنکشن مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے تو آپ کے پیروں پر بہت زیادہ سوجن ہونا شروع ہوجاتی ہے. اس کے علاوہ بھوک ختم ہو جاتی ہے متلی اور الٹی کی کیفیت رہتی ہے غنودگی رہتی ہے اور سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
مریضوں کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے نمکیات میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہیں اور پوٹاشیم خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے . خون کی کمی کی وجہ سے بہت زیادہ کمزوری ہوجاتی ہے اور ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں ان تمام علامات کو Uremic Symptoms بھی کہا جاتا ہے.
 کیا میں اپنے گردوں کی بیماری کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟

جی ہاں آپ اپنے گردوں کو ان ہدایات پر عمل کر کےبچا سکتے ہیں
1. آپ اپنی بلڈپریشرکی یا کوئی دوسری دوائی جو کہ ڈاکٹر نےتجویز کی ہے اس کو باقاعدگی سے استعمال کریں
2. اگر آپ کو شوگر ہے تو اس کا اچھا کنٹرول رکھیں
3. آپ اپنی خوراک میں تبدیلی لائیں جیسا کہ آپ کو ڈاکٹر یا نرس نے کہا ہو
4. اگر اگر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے
5. اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو وزن کم کیجیے
6. تمام وہ دوائیاں جس سے گردے خراب ہوتے ہیں اس سے بچے . خاص طور پر درد کی دوائیاں جن کو این سیڈز (NSAIDs)کہا جاتا ہے
7. کوئی بھی دوا شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا نرس سے ضرور پوچھ لیں.
 گردوں کی بیماری کے لیے کیا کوئی علاج موجود ہے؟

جی ہاں۔ مریض شروع میں کچھ ایسی دوائی استعمال کرسکتے ہیں جس سے گردے کی بیماری کو روکا جاسکتا ہے جس میں ایک قسم کی دوائی جسے ACE Inhibitor or Angiotensin receptor blocker کہتے ہیں استعمال کی جاتی ہے اس سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور پیشاب میں ضائع ہونے والی چربی (Protein) کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے.اگر آپ کے ڈاکٹر نے یہ دوائی تجویز کی ہیں تو آپ کو چاہیے کہ باقاعدگی سے ان کا استعمال کریں.
 اگر میرے گردے مکمل طور پر ختم ہو جائیں تو میرے پاس کیا آپشنز موجود ہیں ؟

گردے ناکارہ ہو جانے کی صورت میں آپ کے پاس تین آپشنز ہیں
1. گردے کی پیوند کاری یا یعنی کڈنی ٹرانسپلانٹ : اس کے اندر ڈاکٹر ایک صحتمند گردہ ایک مریض کے اندر لگا دیتا ہے جس کے اپنے گردے فیل ہوچکے ہوں. اس طرح یہ صحت مند گردہ وہ تمام کام کرتا ہے جو مریض کے اپنے گردے کام کر رہے تھے. واضح رہے کہ انسان ایک گردے پر زندہ رہ سکتا ہے .
یہ گردہ دو طریقوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے پہلا تو یہ ہے کہ خاندان یا دوستوں میں سے کوئی گردہ دے دے یا اگر کوئی انسان مر جائے تو اس کا گردہ مریض کے اندر لگا دیا جائے۔
گردے کی پیوند کاری کے بعد مریض کو عمر بھر کچھ دوائیں کھانی پڑتی ہیں تاکہ گردہ جڑ پکڑ سکے اور اس کا جسم اس پر آئے گردے کو ریجیکٹ (reject ) نہ کر دے۔
2. دوسرا طریقہ علاج پیٹ سے خون کی صفائی کرنے کا ہےجس کو پیری ٹونیل ڈاءلسز (Peritoneal dialysis) کہتے ہیں اس طریقہ علاج میں انسان کو گھر کے اندر روزانہ خون کی صفائی کرنی پڑتی ہے اس کے لیے پیٹ کے اندر جلد کے نیچے نلکی ڈال دی جاتی ہے. اس نلکی کے ذریعے ایک خاص پانی اس کے پیٹ کے اندر ڈالا جاتا ہے یہ پانی فاضل مادے, زائد نمک اور پانی کو خون سے نکال لیتا ہے پھر اس پانی کو تقریبا تین گھنٹے بعد پیٹ کے اندر سے نکال دیا جاتا ہے. یہ عمل اسی طرح دن میں تین سے چار دفعہ دہرایا جاتا ہے.

3. تیسرا طریقہ علاج میں ایک مشین مصنوعی گردے کے طور پر کام کرتی ہے جس میں خون جسم سے نکالا جاتا ہے اور فلٹر کے اندر سے گزار کر واپس جسم میں بھیج دیا جاتا ہے اس طریقہ علاج کے لئے آپ کو فسٹولا یا گرافٹ بنوانا پڑتا ہے یا ایک نلکی ڈالنی پڑتی ہے. یہ ڈایلسس ہفتے میں دو سے تین دفعہ کروانی پڑتی ہے.

ڈاکٹر فرقان علی
نیفرولوجسٹ/ ٹرانسپلانٹ فزیشن
انچارج نیفرولوجی یونٹ
فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ہسپتال، اسلام آباد

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ