بریکنگ نیوز

اجتماعی استحصال

19401969_1086080391526250_6060677958190660570_o.jpg

مہرعدنان گلزار

میں آسمان کو چھوتی ایک اونچی بلڈنگ میں واقع فلیٹ سے مخالف سمت واقع فلیٹ پر کھڑے ایک خوبرو نوجوان سادھو کو دیکھ رہا تھا۔فرق صرف اتنا تھا کہ میں اپنی سستی اور کاہلی کو ختم کرنے کے لیے کافی کے مگ سے سِپ لے رہا تھا اورسادھوسگریٹ کے کَش لگا رہا تھا ۔سادھو کے ڈیپریشن سے یوں لگتا تھا کہ سادھو کچھ ہی دیر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لے گا۔ سادھو کا باپ سرکار میں ایک چھوٹے درجے کا ملازم تھاجس نے اپنی ساری زندگی سرکار میں جی جی کر کے گزار دی ،خود اَن پڑھ تھا لیکن سادھو کو اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھایا،اپنے لیے کبھی کپڑے نہیں خریدے لیکن سادھو کو ہر مہینے نیا ٹائی کوٹ لے کر دیتا تھایہ سادھو کی ہر ضرورت پوری کرتاکیونکہ ہر باپ کی طرح اسے بھی اپنے سادھو کی قابلیت پر ناز تھا۔سرکار میں ہونے کی وجہ سے وہ یہ جانتا تھا کہ سادھو کو کچھ پانے کے لیے سی ایس ایس کا امتحا ن دینا ہوگادوسری طرف سادھو کے شوق نرالے تھے وہ بڑا آدمی بننے کے خواب دیکھتا تھا اپنا بزنس ،بڑا کام، بڑا نام۔عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد سادھو کے ساتھ بھی وہی ہوا جو ہر دوسرے قابل نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے ۔سادھو کو جب کئی ملازمت نہ ملی تو اک کمپنی نے اسے تجربہ نہ ہونے کا کہہ کر انٹرنشپ؍تربیت آفر کی یوں اس کا استحصال شروع ہوا۔انٹرنشپ ختم ہوتے ہی سادھو ڈگریاں لیے سڑکوں پر گھومنے لگا جب کئی ملازمت نہ ملی تو سادھو کو اک اور کمپنی نے یہ کہہ کر انٹرنشپ آفر کی کہ آپ قابل ہیں آپ کے پاس تجربہ ہے لیکن کم ہے ۔سادھو نے قابلیت ،ڈگریاں اور عملی تجربہ ہونے کے باوجود چھپ سادھ لی اور اس شرط پر کام کرنے لگا کہ کمپنی اسے ملازمت دے گی،سادھو نے چھ ماہ کا قیمتی وقت بمعہ اپنی قابلیت اس کمپنی کو دیا اور اپنی صلاحیتوں کی بدولت کمپنی کو لاکھوں کے کنٹریکٹ لے کر دیے۔مالک کی خوشی نا خوشی میں اس وقت بدلی جب چھ ماہ گزرے اورسادھو نے تنخواہ مانگی اور بدتمیز کا لیبل بھی لگوالیا۔ سادھو نے یہاں سے نکلنے کے بعد بھی ہمت نہ ہاری ،سادھو کا استحصال جاری رہااور ہر جگہ میٹھے لفظوں میں قابلیت کی بدولت پھانس لیا جاتااورکپمنیاں اسکی صلاحیتوں کو استعمال کرتی اور لاکھوں ،کڑوروں کے منافع کماتی اور اسے چلتا کرتی۔دوسری طرف سادھو کا دوست اس پر نظر رکھے ہوا تھا جسے اپنابزنس چلانے کے لیے سادھو جیسے قابل اور محنتی لڑکے کی ضرورت تھی اس نے سادھو کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ ملایا کہ تم قابل ہو تمہیں کام آتا ہے اپنے لیے کام کرو۔ اس طرح سادھو نے دو سال اپنے دوست کو دیے ۔خود کے پاس سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو بزنس جنریٹ کر کے دیا ،جب کمپنی کا نام ہوا جس کمپنی کو کھڑا کرنے کے لیے سادھو نے اپنا خون پسینہ ایک کیا ، نیندیں حرام کی اسی کمپنی سے اسے دھکے دے کر نکال دیا گیا یہاں بھی اس کا استحصال ہوا۔سادھو کے معاملات دیکھتے ہوئے سادھو کے باپ نے اپنے افسر سے کہہ کر سادھو کو سرکار میں بھرتی کروا دیا، سادھو زندگی سے کچھ اور چاہتا تھا سرکار میں کچھ دن تو سادھو نے دل سے کام کیا لیکن بہت جلدی ہی رنگ میں رنگا گیا ۔سادھو یہ جان گیا کہ سرکار سے اب اتنی آسانی سے کوئی نہیں فارغ کر سکتا ،سادھو نے اپنا دماغ استعمال کرنا چھوڑدیا ،کام چور ہو گیا،سارا دن دفتر بیٹھ کر گپیں ہانکتا رہتا ، چائے پیتا ، دو چار فائلیں اِدھرادھر کرتا اور گھر آجاتا ۔ ایسے کتنے ہی سادھو ہیں جن کی صلاحیتوں کو قابلیت کو سرکار میں زنگ لگ رہا ہے سرکار انہیں بروئے کار نہیں لا رہی ۔یہ سب سادھو سمجھتے ہیں کہ ان کا وظیفہ لگا ہوا ہے انہوں نے بھی اپنے اندر کی صلا حیتوں کو دریافت کرنا ہی چھوڑدیا ہے۔چھٹی ہوتے ہی سارے سادھوہاتھوں میں لنچ باکس پکڑے حاضری کی مشین کی طرف انگو ٹھالگانے ایسے بھاگتے ہیں جیسے بند مرغیاں ڈربے سے نکلتی ہوں یا پھر ریوڑ سے بھیڑبکریاں۔ جب بھی سرکاری مشینری میں اصلاحات کی بات آتی ہیسرکارکی توجہ بیوروکریسی پر پرکوز رہتی ہے در حقیقت اک عام سادھو کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ایسی اصلاحات جس سے اس کا استحصال بندہو سکے، اس کی قابلیت کو زنگ لگنے سے بچایا جا سکے ،ان کی صلاحیتوں کو سرکاری مشینری سے ملا کر ملکی ترقی کے لیے راہ ہموارکی جا سکے۔سرکار کو پرائیویٹ اداروں پر بھی اپنا چیک اینڈ بیلنس رکھنا چائیے جو سادھو جیسے مجبور اور قابل نوجوانوں کا استحصال کر کے اپنے لیے لاکھوں،کروڑوں کماتے ہیں لیکن سادھو کو استحصال کے بعدمعاشرے کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔سرکار کو فلفور پرائیویٹ اداروں خصوصاََالیکٹرونک میڈیا میں انٹرنشپ اور تربیت کے لیے پالیسیاں مرتب کرنی چائیں اورسرکار خود تربیتی ادارے بنائے، تربیت کرے جو دریعہ معاش میں معاون ثابت ہوں۔ پھر ان پالیسیوں پر عمل در آمد رکرو اکر اس جبری اجتماعی استحصال کوبند کرکے اس نحوست کا خاتمہ کرے تاکہ لاکھوں سادھو اپنے خواب پورے کر کے عزت سے جی سکیں اور اپنی قابلیت کو منوا کر کیش کرسکیںَ ناکہ استحصال کرواتے کرواتے تنگ آکر کسی دن ڈیپڑیشن میں خودکشی کر لیں۔اسی دورانیے میں مجھے لوگوں کے چینخنے کی آوازیں آتی ہیں ۔میں کھڑکی کی طرف بھاگتا ہوں کہ کہیں سادھو نے ڈیپڑیشن میں چھلانگ تو نہیں لگادی،کیا دیکھتا ہوں کہ فلیٹ کا مالک سادھو کا سا ما ن باہر پھینک رہا ہے کہ اس نے تین مہینے کا کرایہ نہیں دیا

۔(اپنی رائے کا اظہار ضرور کریںwhatsapponly03009898938)

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ