بریکنگ نیوز

کھیل ختم پیسہ ہضم

azhar-syed-300x192.jpg

اظہر سید

س طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کھیل پانامہ نے ختم کیا تھا اس طرح تیزی سے تباہ ہوتی معیشت نے عمران خان کا کھیل بھی ختم کر دیا ہے۔ نواز شریف کی فراغت کا عمل پانامہ سے شروع ہو کر واٹس اپ جے آئی ٹی سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور اقامہ پر نا اہلی کے فیصلے سے مکمل ہوا۔ تحریک انصاف کی فراغت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے لیکن یہ عمل نواز شریف کی طرح دو سال نہیں لے گا غالب امکان یہی ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو بیٹھے گی اور میاں شہباز شریف ملک کے نئے وزیراعظم بن جائیں اور سلسلہ دو ڈھائی ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں اکثر گھومنے والے سیاح یہ کہتے ہیں وزیراعظم سے جوائنٹ چیفس اف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات اصل میں کھیل ختم اور پیسہ ہضم والی ملاقات تھی۔

تبدیلی کا عمل ملکی معیشت کے استحکام اور خطہ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ اور داخلہ پالیسوں پر ملکیت برقرار رکھنے کی ایک کوشش تھی لیکن معاشی ترقی کے ہدف کی ناکامی نے باقی اہداف کی تکمیل کو بھی مشکوک کر دیا ہے اور یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ میاں شہباز شریف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول رہے ہیں لیکن اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف سے بے وفائی نہ کرنے پر انہیں وزارت عظمی بھی نہ مل سکی اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی صورت میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی خفگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ حکومت کی تمام محاذوں پر ناکامی اور اس سے زیادہ نا اہلی نے شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا نمائدوں کے درمیان تجدید تعلقات کا موقع فراہم کیا ہے۔

شہباز شریف اگر دونون فریقین میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کوئی قابل عمل تصفیہ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میاں نواز شریف واپس جیل میں نہیں جائیں گے۔ سابق وزیراعظم کو جس طرح فارغ کیا گیا ہے اس کی حقیقت سے تمام فریق واقف ہیں۔ میاں نواز شریف اس وقت مضبوط وکٹ پر ہیں اور ان کو مضبوط پوزیشن حکومت کی نا اہلی اور معاشی تباہی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ معاملہ اب اس بات ختم ہو گا کہ مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی سربراہی میں اپنے پتے کس طرح کھیلتی ہے۔

میاں نواز شریف سیاست سے دستبردار ہونے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں لیکن وہ مریم نواز کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی سیاست سے دست برداری پر تیار ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی بلاول بھٹو کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے اور اگر دونوں سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی اسے معاملہ پر رضامند ہو گئیں تو مستقبل مریم نواز اور بلاول بھٹو کا ہو گا اور اسٹیبلسمنٹ کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ جہاں تک لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے اور این آر او لینے کا سٹنٹ ہے اس معاملہ پر اسٹیبلشمنٹ کو کچھ نہیں ملے گا نہ میاں نواز شریف سے اور نہ آصف علی زرداری سے۔ پیسے دے کر ڈیل لینے کا عمل دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دے گا اور یہ کام کرنا دونوں سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاس آپشن محدود ہو چکے ہیں ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ جس گھوڑے پر داؤ لگایا تھا وہ ریس ہار چکا ہے وہ ہارا ہی نہیں اس نے جوکی کا مستقبل بھی مشکوک کر دیا ہے اس گھوڑے پر اب داؤ نہیں لگے گا۔ اس گھوڑے کا کھیل ختم ہو چکا ہے اور دوبارہ یہ کبھی بھی کھیل میں شامل نہیں ہو گا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ