بریکنگ نیوز

مہنگائی

9a7f47d9-9556-41e1-afa6-c91075589f81.jpg

ڈاکٹر ظہیر کاظمی، اسلام آباد؛ پاکستان

مہنگائی کے اسباب میں سے ایک اہم اور بنیادی سبب افراد و گھرانوں کی خرچ و صرف کی عادات کا غیر متوازن ہونا ہے.
امیر افراد و گھرانے اسراف سے کام لیتے ہیں اس کے علاوہ وہ اپنے ارد گرد مفلس و نادار لوگوں کا خیال نہیں رکھتے – متمول لوگ فراوانیء مال کی وجہ سے خرچ کرتے وقت سوچتے ہی نہیں اور غیر ضروری اشیاء بھی خرید لیتے ہیں جس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا یے لحاظہ اسراف بھی مہنگائ کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے- پس ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی طور پر اپنی عادات میں میانی روی لائیں اور بخل و فضول خرچ سے گریز کریں. اس کے علاوہ اپنے ارد گرد غربا کا خیال رکھیں.
سرمایہ دارانہ نظام چونکہ سُود پر چلتا ہے اور اس میں منافع کا رجحان بھی ہے اس لیے سرمایہ دولت مند یا سرمایہ دار کی جانب ہی منتقل ہوتا یے- مزید یہ کہ لوگوں کو بینک یا دیگر مالی اداروں یا Financial Institutions میں پیسہ رکھ کے بغیر کسی خطر یا risk کے ہی سودی منافع ملتا رہتا ہے لحاظہ وہ اصل کاروبار کہ جس میں نقصان کا خدشہ یا رسک بھی ہوتا یے اس سے گریز کرت ہیں. جو لوگ بینک سے قرض لے کر کاروبار کرتے ہیں ان کو بھی اس قرض پر سود لوٹانا پڑتا ہے یوں دولت سرمایہ داروں ہی کی جانب منتقل ہو کر منجمد ہوتی رہتی ہے اور امیر و غریب کے فرق میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہتا ہے. دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں سرمایہ دارانہ نظام کا کلیدی کردار ہے.
اسلامی معاشی نظام میں تجارت کو فروغ دیا گیا ہے سود کو حرام کہا گیا اور ضرورت مند کو قرض دینا نیکی شمار کیا گیا ہے. مزید یہ کہ سمایہ فراہم کرنے والا تاجر محنت کرنے والے تاجر یاEntrepreneur کے ساتھ نفع نقصان کا شریک ہوتا یے. زکات و صدقات کے نظام کے ذریعے غربا کو سہارا دیا گیا ہے. زکات کے نظام کا مقصد غریب کو بھکاری بنانا نہیں بلکہ اسے اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنا ہے مگر صد افسوس کہ ہم اس نظام پر عمل نہ کر سکے.
امریکہ بلکہ عالمی مالی بحران 2007 – 2008 کی وجوہات میں سے سب سے بنیادی وجہ افراد کی غیر متوازن عاداتِ خرچ و صرف ہیں کہ وہ کریڈٹ کارڈ اور مورٹگیج کے ذریعے قرض لیتے رہے اور وہ قرض ضرب ہوتا رہا اور یوں بحران جنم لیا
اب دنیا چین کے state controlled capitalism یا “ریاستی شکنجے میں سرمایہ دارانہ نظام” کی جانب دیکھ رہی ہے حالانکہ اس وقت اصل بحث وہی افراد، گھرانوں، اداروں اور قوموں کے مزاج میں توازن و میانہ روی لانا ہے. جی ہاں بالکل وہی جو اللہ کریم نے اپنے حکیم کلام میں فرمایا تھا کہ “کھاؤ اور پیو مگر اسراف سے کام نہ لو”
ڈاکٹر سید ظہیر عباس
اسٹنٹ پروفیسر
شعبہ مینجمنٹ سائنسز
قومی جامعہ برائے جدید لسانیات
National University of Modern Languages
اسلام آباد

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ