بریکنگ نیوز

بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام قیام کے 6سال میں ہی دنیا کے دوسرے بڑے فورم میں تبدیل

3addd10a7080636784d399b3898bab86.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ رواں ماہ اپریل کے اختتام میں بیلٹ اینڈ پروگرام کے حوالے سے چین کے شہر بیجنگ میں اس عظیم والشان ویژن اور پروگرام کے حوالے سے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر سے سربرہانِ مملکت، دنیا کے 100سے زائد ممالک کے اعلی سطعی وفود ، 40ممالک کے اعلی حکومتی عہدیدار اور دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے ہزاروں وفود اس فورم میں خصوصی طور پر شرکت کیلئے چین کے شہر بیجنگ میں پہنچ چکے ہیں ، بیلٹ اینڈ روڈ فورم جس کا آغاز 6سال قبل چینی صدر شی جنپگ نے شروع کیا تھا آج اپنی ویژن اور عظیم منصوبے کی بدولت عالمی سطع پر دوسرے بڑے فورم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، عالمی سطع پر باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے رواں ماہ اپریل کے اختتام میں چین کے شہر بیجنگ میں اس دوسرے بڑے فورم کو عالمی سطع پر باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بعنوان: شنگھاہی ایک روشن مشترکہ مستقبل کے حوالے سے منعقد کیا جا رہا ہے، بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا آغاز 2013میں چینی صدر شی جنپگ نے کیا تھا اور چھ سال قبل اس فورم کے قیام کے ساتھ ہی دنیا کے بیشتر ممالک نے اس فورم اور اس کے منسلک پروگرامز اور منصوبوں میں شراکت کے حوالے سے شمولیت کا اظہار کیا تھا، اس طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی ساتھ ہی 2015میں سلکِ روڈ اکنامک بیلٹ اور 21ویں صدی کے حوالے سے میری ٹائم سلکِ روڈ کی تکمیل کے حوالے سے بھی ایک نئی ویژن کے تحت کام شروع کیا گیا، اور اس فلاسفی کے تحت چین نے بیرونی دنیا کیساتھ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے حوالے سے دنیا کیساتھ اس پروگرام سے منسلک پروگرامز اور دیگر منصوبوں میں شمولیت کا بھی آغاز کیا، جس کے تحت گزشتہ سال دسمبر کے مہینے ایک نئے کثیر الجہتی فنانشل ادارے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمینٹ بینک کا بھی قیام عمل میں لایا گیا، اور بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت اس بڑے مالیاتی ادارے کی تکمیل کو یقینی بنایا گیا، اور گزشتہ چند مہینوں میں ہی اس مالیاتی ادارے نے اس سے وابسطہ توقعات کے برعکس اہم ترین سنگِ میل حاصل کیئے ہیں، اسی طرح سے مئی 2017میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقادعالمی سطع پر باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بیجنگ میں کیا گیا، جس کے تحت ان بنیادی عوامل اور ایشوز کی نشاندہی کی گئی جہاں پر عالمی سطع پر باہمی تعاون کے عمل کو یقنی بنایا جا سکتا ہے، اور اس طرح ایک مختصر عرصے میں ہی پانچ بنیادی شعبوں میں 279ایسے عوامل کی نشاندہی کی یقنی بنائی گئی جہان پر عالمی سطع پر باہمی تعاون کے زریعے سے اہم سنگِ میل حاصل کیا جا سکتا ہے، ان شعبوں میں بالخصوص پالیسی انفرا سٹرکچر، تجارتی فنانشل سے متعلق عوامل اور عوامی سطع پر پیپل ٹو پیپل روابط کو فروغ سے متعلق عوامل شامل تھے، اور اس ضمن میں حالیہ جاری اعدادوشمار کے مطابق ان تمام279شعبوں میں مجوزہ عوامل کو کامیابی سے یقنی بنایا جا چکا ہے، اس طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کو عالمی سطع پر باہمی تعاون اور باہمی اشتراک کے حوالے سے تیزی سے اسکی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے منسلک ممالک نے اس فورم کی پالیسی اور ویژن کے تحت مقامی سطع پر ڈیویلپمینٹ عوامل کو بھی یقینی بنایا ہے، اور اس فورم کے مجوزہ عوامل اور منصوبوں سے مقامی سطع پر ڈیویلپمینٹ اور گروتھ ریٹ کے تسلسل کو کامیابی سے بڑھایا جا رہا ہے، اس ضمن میں حالیہ چند سالوں میں دنیا کے 129ممالک اور 40سے زائد عالمی تنظیموں نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم اور چین کے ساتھ اس فورم کے پروگرامز میں شمولیت کے حوالے سے عندیہ بھی دیا ہے، اس حوالے سے حال ہی میں ایک عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ فورم اور اس کے منسلک پروگرام کے حوالے سے دنیا بھر سے اس پروگرام کے مثبت عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے، اور اس پروگرام کو ایک مثبت امر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی معیشت اور علاقائی معیشت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے بہت مثبت انداز میں سراہا گیا ہے، اس طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے منسلک ممالک باہمی روابط سکو تیزی سے فروغ دے کر اہم معاشی اور مالیاتی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں ، اس فورم کی مدد سے مشرقی افریقہ کو پہلا موٹر ویز حاصل ہوا ہے، اور مالدیپ کو جزیروں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے پلوں سے متعلق مربوط نظام حاصل ہوا ہے، اور اس فورم اور منسلک پروگرامز کی مدد سے بلا روس کو مسافروں سے متعلق اہم آمدورفت کے زرایع حاصل ہوئے ہیں اور اس فورم کی مدد سے قازقستان کو سمندر تک رسائی کامیابی سے حاصل ہوئی ہے، اسی طرح سے فورم اور دیگر پروگرامز کی مدد سے جنوبی مشرقی ایشیا کو ٹرین سروس اور فریٹ سروسز تک رسائی حاصل ہو رہی ہے، اور اس کیساتھ ساتھ یوریشیا براعظم ریل اور فریٹ سروسز کے زریعے سے اہم تجارتی اور معاشی عوامل حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، اس طرح سے عالمی انٹر پرائسز اور عوام کی نظر میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی اہمیت میں اہم اضافہ ہورہا ہے، جس سے نہ صرف تجارتی روابط کو فروغ حاصل ہو رہا ہے بلکہ روزگار اور دیگر شعبوں میں اہم عوامل بھی حاصل ہو رہے ہیں ، اس طرح سے اس فورم کے تحت اس فورم سے منسلک ممالک کو 6راہداریوں اور مختلف ممالک کو فعال اور اہم ترین بندرگاہوں تک کامیابی سے رسائی بھی حاصل ہو رہی ہے، اسی فورم کی بدولت چین کی لائوس اورتھائی لینڈ تک ریل اور فریٹ سروسز فعال ہو چکی ہیں اسی طرح سے ہنگری سے سائبیریا ریلوے لائن، تیز رفتار ریلوے لائن جکارتہ اور بنڈونگ کے مابین ور جنوبی ایشیا میں گوادر بندرگاہ جیسے بڑے پراجیکٹس تکمیل پر گامزن ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے دیگر پراجیکٹس کی تکمیل دیگر ممالک کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا، اس طرح دنیا بھر سے بڑی معاشی اور مالیاتی کمپنیز مثلا CNBCتیزی سے چین کی جانب راغب ہو رہی ہیں ، ان عوامل کو دیکھتے ہوئے جنرل الیکٹرک نے کہا ہے کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے ممالک میں پیداواری گروتھ اور ریونیو کو تیزی سے دہرے عدد میں تبدیل ہوتے دیکھ رہا ہے، ان مثبت عوامل کو دیکھتے ہوئے معاشی جن سٹی گروپ نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم پر کمپنیز کو تعاون کا یقین دلا ہے، اس طرح ان ایریاز میں چین کی جانب سے خصوصی اکنامک زونز کے قیام سے مقامی سطع پر تین لاکھ نئی ملازمتوں کے بھی مواقع پیدا ہونگے، بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی بدولت ہی لائوس کے پہاڑی علاقوں میں گھرے لوگ جو کبھی مقامی کھتی باڑی سے زیادہ نہیں سوچ سکتے تھے آج فارمنگ کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں ان علاقوں کے بچے بجلی کی سہولت کیساتھ مٹی کے تیل سے جلتے لالٹین سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں ، بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی بدولت ہی ایلیس کینیا میں پہلی ٹرین ڈرایئور بن سکی ہے، اور اپنی فیملی کو کامیابی سے سپورٹ کر رہی ہے، اور ماضی کے مقابلے میں آج اسکی آمدن تین گنا زیادہ ہے، ایک جرمن مقامی بندرگاہ نے کارگو جہازوں سے 250ملین یورو کی آمدن حاصل کی اور بڑھتی آمدن کا سہرا بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک پروگرام کو ہی جاتا ہے، یوں بیلٹ اینڈ روڈ عالمی ڈیویلپمینٹ میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہے، اور جدید گوررننس سے متعلق ای کنئی جہت بھی متعارف کروا رہا ہے، دوسری جانب بیلٹ اینڈ فورم کے اہم عوامل یو این اور دیگر بین الاقوای اداروں کا بھی حصہ بن چکے ہیں ،اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم عالمی معیشت کے ڈیویلپمینٹ پلان کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ قومی اور عالمی گورننس کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ایک متحرک امر کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے، حال ہی میں لگسمبرگ اور چین کے مابین نئی فریٹ ٹرین متعارف کروائی گئی ہے، اور پہلی ٹرین، یورپین میکینکل الیکٹریکل، فوڈ اینڈ میڈیکل اپریٹس سے متعلق ایک بڑی کھیپ لیکرچین کی مارکیٹ کی جانب مثبت انداز میں پیش رفت کر چکی ہے، بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور یورپ کے مابین فریٹ ٹرین سے تجارتی اور معاشی ایؤہم ترین سنگِ میل حاصل ہو گا، اور بیلٹ اینڈ روڈ فورم مغربی تجارتی پالیسز کے سدِ باب کا فورم چابت ہوگا، اور باہم اشتراک سے ایک مستحکم معیشت سامنے آئیگی۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ