بریکنگ نیوز

چین کے صحت کے شعبے سے متعلق اعدادوشمار بین الاقوامی اوسط سے کہیں بہتر

9.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ چین میں صحت کے شعبے سے متعلق چین کی عوام کے بہتر صحت کے حوالے سے جاری اعدادوشماردنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں ، اس حوالے سے چین کی ریاستی کونسل کی جانب سے 13ویں نیشنل پیپلز کانگریس میں رواں سال کے حوالے سے جمع کروائی گئی ہیلتھ رپورٹ کے مطابق چینی عوام کا صحت کا معیار دنیا کے دیگر ترقی یافتہ اور بہتر آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں بین الاقوامی اوسط سے کہیں بہتر ہے۔ چین میں اس وقت رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد 3.670ملین ریکارڈ کی گئی ہے۔ اور گزشتہ سال 2018کے اختتام تک سالانہ ٹریٹ کیئے گئے مریضوں کی تعداد 8.31بلین ریکارڈ کی گئی تھی۔ جس کی شرح میں 1998کے مقابلے میں 80 .فیصد سے بڑھ کر 290.01فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین عالمی سطع پر صحت کے حوالے سے سب سے بڑے نظام اور میکنزیم کو لیکر آگے بڑھ رہا ہے، عالمی سطع پر میڈیکل کے مشہورو معروف میگزین The lancetکی جانب سے دنیا کے195ممالک میں بہتر صحت اور بہتر معیارِ صحت کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے جس کے مطابق 1995 میں اس فورم کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق بہتیر صحت کے عالمی معیار کے حوالے سے چین کا نمبر110 پر تھا جبکہ 2015میں چین کی پوزیشن 60واں نمبر پر تھی تاہم ایک سال کیبعد2016میں چین کی صحت کے حوالے سے جاری معیار کے مطابق پوزیشن مزید بہتر ہوئی اور چین 48ویں پوزیشن پر برجمان ہو گیا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین صحت کے بہتر معیار اختیار کرنے کے حوالے سے ایک بہتر ملک کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا کہ چین کے بیشتر ڈاکٹرز ملک کے شہری علاقوں میں قائم فرسٹ کلاس ہسپتالوں میں کام کرنے کو ترجیع دیتے ہیں اور اس تناسب سے چین کے دہیی اور دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی تعداد بہت حد تک محدود ریکارڈ کی گئی۔ اس حوالے سے 2018میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق چین میں ایک ہزار آبادی کے لیے فئی کس 2.59ڈاکٹرز کی اوسط آتی ہے، جبکہ جرمنی میں یہ ہی شرح چار داکٹرز فی ایک ہزار آبادی ہے، اس ی طرح سے آسٹریا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ شرح چار ڈاکٹرز فی ایک ہزار آبادی تک ریکارڈ کی جاتی ہے۔ جبکہ دہیی علاقوں میں یہ ہی شرح مزید سکٹر کر 1.8فیصد تک ہو جاتی ہے یوں چین کے دہیی علاقوں میں فی کس ایک ہزار آبادی کو 1.8فیصد ڈاکٹرز دستیاب ہیں ۔ اسی تناسب سے میڈیکل کے دیگر شعبوں بشمول بحالیِ صحت، پیڈیاٹرکس، ایمر جنسی ڈیپارٹمنٹ، سائیکائٹری اور اسپیشلسٹس کی تعداد بھی مزید محدود ہو جاتی ہے، اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں ریاستی کونسل نے 13ویں نیشنل پیپلز کانگریس میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں صحت کے شعبے کو مزید فعال کیا جائے گااور میڈیکل ورکرز کے معیار اور استطاعت میں بھی بھر پور اضافہ یقینی بنایا جائے گا، اور ڈاکٹرز کو ملک کے دہیی علاقوں میں کام کرنے کے لیے پر کشش پیکجز بھی دیئے جائیں گے اور ملک کے طول و عرض میں میڈیکل سروسز کے ڈھانچے کو مزید فعال اور بہتر انداز میں استوار کیا جا ئے گا۔ اس کیساتھ ساتھ رپورٹ میں اس حوالے سے بھی واضح کیا گیا کہ ڈاکٹرز اور مریضوں کے مابین باہمی تعلق کو ایک خوشگوار ماحول میں یقینی بنایا جائے گا اور میڈیکل پریکٹشنرز سے متعلق تمام قوانین کی نظر ثانی بھی کی جائیگی۔۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ