بریکنگ نیوز

چین و روس باہمی اشتراک کے پھیلائو کے حوالے سے پر عزم

Chinese-President-Xi-Jinping-Belt-and-Road-Forum-OBOR-one-belt-one-road-cpec-silk-route-china-770x433.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ چین کا تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام 6سال قبل چینی صدر شی جنپگ کی ویژن کے تحت شروع کیا گیا اور گزشتہ 6سالوں میں اس پروگرام کے تحت عالمی سطع چین کے دوست ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت چین تمام دنیا میں بھر پور انداز میں مختلف شعبوں میں مختلف ممالک کیساتھ اشتراکی منصوبوں کو تیزی سے پھیلانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ اور چینی خصوصیات کے ساتھ مسائل کے حل کے حوالے سے چین کی عالمی شہرت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آج سلکِ روڈ سپرٹ اپنی بنیادی خصوصیات اور مقاصد جن میں امن، باہمی خوشحالی، مشترکہ مفادات، باہمی لرننگ اور اشتمالیت اس پروگرام کے بنیادی ماخذ میں شامل ہیں اور یہ ہی وہ بنیادی خصوصیات اور عوامل ہیں جس کے باعث بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام عالمی اور علاقائی سطع پر بھر پور انداز میں تمام ممالک اور ریجنز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام آج عالمی معیشت کے استحکام کے حوالے سے ایک کلیدی اہمیت حاصل کرنے میں تیز ی سے کامیاب ہو رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام آج عالمی سطع پر عوامی فلاح کے حوالے سے ایک اہم ترین فورم کی طرح سے اہمیت حاسل کر رہا ہے اور انہی عوامل سے عالمی معیشت بھی نہ صرف استحکام حاصل کر رہی ہے بلکہ تیزی سے تجارتی اور سرمایہ کاری سے ماحول بھی عالمی سطع پر مثبت اعشاریوں کیساتھ بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے تحت جاری بیشتر پراجیکٹس کی تکمیل کے حوالے سے روس ان جاری پراجیکٹس کی تکمیل کے حوالے سے چین کا بھر پور انداز میں سپورٹ کر رہا ہے۔ اور دونوں ممالک بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے تحت تمام مجوزہ پراجیکٹس پر مکمل ہم آہنگی کیساتھ ایک دوسرے کی بھر پور سپورٹ کر رہے ہیں ۔ اور باہمی و دو طرفہ تعلقات اور روابط کی مضبوطی کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ اس طرح سے مختلف شعبوںمیں چین اور روس کے مابین جاری شراکت اور باہمی تعاون سے بہترین ثمرات کیساتھ سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ سال 2018میں چین اور روس کے مابین مجموعی تجارتی حجم کی مالیت 107.06بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، جو چین کے بیرونی ممالک کیساتھ مجموعی تجارت کے حوالے سے پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چین اور روس کے مابین جن نمایاں شعبوں میں تجارتی حجم میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ان میں انرجی، نیوکلیئر توانائی، ایوی ایشن اور اسپیس سائنسز سے متعلق وہ بنیادی شعبے ہیں جن میں تییزی سے دونوں ممالک کے مابین باہمی ڈیویلپمنٹ کو فروغ حاصل ہے، گزشتہ سال2018میں جولائی کے وسط میں روس کی بندرگاہ آرکٹک رشیا سے مائع قدرتی گیس کا پہلا جہازایمل LNGپراجیکٹ کے تحت چین کو فراہم کیا گیا، اسی طرح سے چین اور روس کے مابین دوسری آئل پائپ لائن کمرشل استعمال کے حوالے سے گزشتہ سال2018میں ہی جنوری کے آغاز میں شروع کر دی گئی تھی۔ جبکہ روس اور چین کے مابین قدرتی گیس پائپ لائن برائے مشرقی روٹ سے بھی روس سے گیس کی فراہمی جلد شروع ہونے کی توقعات ہیں۔ اسی طرح سے چین اور ورس کے مابین مختلف شعبوں بشمول نیوکلیر توانائی کے حوالے سے بھی بہت سے معاہدات طے پا چکے ہیں ، اور دونوں ممالک اس باہمی تعاون اور معاونت کو اعلی ترین ٹیکنالوجیز اور جہازوں کی مینو فیکچرنگ تک ہر شعبے میں تیزی سے بڑھا ر ہے ہیں ، اسی طرح سے گزشتہ کئی سالوں سے چین اور روس باہمی تعاون کو زندگی کے مختلف شعبوں میں تیز ی سے بڑھا رہے ہیں ٹرانسپورٹیشن سمیت ریلوے کراس بارڈر پلوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر سے متعلق بیشتر عوامل میں دونوں ممالک باہمی تعاون کو تیزی سے بڑھا رہا ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین کراس بارڈر ریلوے بریج جو چین اور روس کے مابین تانگجیان ریلوے بریج کے نام سے مشہور ہیاور چینی صوبے ہیلونجیانگ کے شمال مشرقی شہر ٹانگجیانگ اور روسی شہر نیذن لینسکئو کے مابین قائم ہے، اسی طرح سے دونوں ممالک کے مابین کراس بارڈر ہائی بریج جو چینی سوبے ہیلونجیانگ کے شہر ہیتھی اور روسی شہر بیلگووینشک کے مابین قائم ہے، اس طرح کے پراجیکٹس بینالاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈورز کے حوالے سے بہت شہرت رکھتے ہیں ان کوریدورز میں پری موریو ون اور پری موریو ٹو خصوصی شہرت رکھتے ہیں اسی طرح سے منگولیا، چائینہ اور روس کے مابین قائم اکنامک کوریوڈور اور چین اور یورپ کے مابین فریٹ ٹرین ریلوے نیٹ ورک پر بھی تیزی سے کام کی رفتار جاری ہے۔ چین اور روس کے مابین صنعتی عوامل کے ساتھ ساتھ زرعی تجارت اور سروسز سمیت دیگر شعبوں ای۔ کامرس، آرکٹک ڈیویلپمنٹ اور ہائی ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون اور باہمی معاونت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں چین اور روس کے مابین پیپل ٹو پیل اور ثقافتی سطع پر وفود کے تبادلوں کے حوالے سے اہم ترین پیش رفت بھی ریکاڑد کی گئیی ہے، اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے ریاستی سطع پر مشترکہ طور پر بہت سے ایونتس آرگنائز کیئے جا چکے ہیں اس حوالے سے گزشتہ سال دونوں ممالک نے سیاحت کے سال کے حوالے سے منایا اور چین روس یوتھ فرینڈلی ایکسچینج سال دونوں ممالک کے اطراف سے مشترکہ طور پر منایا گیا، اسی طرح سے چائینہ اور روس کے مابین میڈیا ایکسچینج سال مشترکہ طور پر منایا گیا، اور اسی طرح سے دونوں ممالک نے مقامی سطع پر لوگوں اور معاشرے میں باہمی روابط اور ہم آہینگی کے حوالے سے ماضی میں سال مشترکہ طور پر منایا، اس کیساتھ ساتھ دونوں اطراف سے ثقافتی وفودکے تبادلوں سے چین اور روس کے مابین عوامی سطع پر باہمی مضبوط روابط کے حوالے سے ایک مثبت آغاز بھی ہو چکا ہے جس سے اطراف میں اہم ترین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں اطراف ایک دوسرے ممالک میں کلچرل پروموشن کے حوالے سے فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے، کتب کے ترجمے ایک دوسرے ممالک میں شائع کر کے بھیجے جا رہے ہیں اسی طرح سے میوزیم ، تھیٹر، اور فائن آرٹس کے اجراء سے باہمی روابط مزید مضبوط اور استحکام کی جانب گامزن ہیں ، حال ہی میں روس اور چین کے مابین کلچرل پروگرامز اور فورمز کے فروغ کے حوالے سے ایک کلچرل مارکیٹ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے حوالے سے تیزی سے مقبولیت حاصل کر ہی ہے، یوں چین اور روس کے مابین بیلٹ اینڈ روڈ عالمی سطع پر باہمی اشتراک کے حوالے سے ایک مضبوط ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ دوسری جانب چین اور روس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک ہونے کے ناطے اور دیگر بین الاقوامی آرگنائزیشنز پر اکھٹے ہونے کے حوالے سے بھی دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی سطع پر امن و سلامتی کے حوالے سے مشترکہ اقدامات اور ویژن کو لیکر چلتے ہیں اور بنی نوع انسان کی مشترکہ فلاح و ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے خاصے سنجیدہ ہیں چین روس اور دیگر ممالک کے ساتھ جو بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ہیں باہمی اشتراک اور تعاون کی فضا کو تیزی سے بڑھا رہا ہے، اس ضمن میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ سے منسلک ممالک میں انفراسٹرکچر اور دیگر پراجیکٹس کی تعمیرو ترقی کے حوالے سے ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے قیام کو یقینی بنایا ہے، مزید سلکِ روڈ فنڈ، اور برکس نیو ڈیویلپمنٹ بینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، ماضی کے تجربات کو دیکھا جائے تو بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام مستقبل کے عوامل سے ہم آہنگ ہے، جو دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کی بھر پور عکاسی کرتا ہے، اور باہمی تعاون اور معاونت کے نئے مواقع پیدا کریگا۔رواں سال دونوں ممالک مین سفارتی تعلقات کے ستر سال پورے ہوجائیں گے،اور اس موقع پر دونوں اقوام باہمی روابط کو عملی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ایک تجدیدِ عہد کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ اور اپنی روایتی دوستی سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو عالمی سطع پر اجاگر کرنے میں معاون ہیں تاکہ ایک طرف عالمی معیشت کو گروتھ حاصل ہو وہیں مشترکہ مفادات سے منسلک ایک بین الاقوای کمیونٹی کا قیام عمل میں لایا جائے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ