بریکنگ نیوز

پاکستان کیسے دبئی بنے گا؟

sofia-kashif-2-660x445.jpg

متحدہ عرب امارات میں رمضان کیا شروع ہوتا ہے کہ رنگ و روشنی کی بہار امڈ آتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں، عمارتوں پر، بڑی شاہراہوں پر رمضان کریم کے نام کے قمقمے جلنے بجھنے لگتے ہیں اور ہر کونہ خوبصورت چاند ستاروں اور لالٹینوں کی چمکتی روشنیوں سے جگمگا جاتا ہے تو اس روحانیت کا احساس ضرور ہوتا ہے جو تلاشنے کی خاطر پاکستان میں جستجو کا آغاز ہو چکا۔ مگر کیا کیجیے کہ کچھ تاثیر کن اخلاق واعمال اگر اداروں اور یونیورسٹیوں میں سکھائے جاتے تو آج ایک بڑی عوام ان اداروں سے نکلنے کے بعد بہترین اخلاق و کردار کی امت میں بدل ہی چکی ہوتی۔

مگر جب یہ ادارے ڈھنگ کے انساں پیدا کرنے میں ناکام رہیں تو پھر ان کی روحوں کو بالیدگی دینے میں کامیاب کیسے ہوں گے؟ یہ بھی ایک اسرار ہے۔ شاید ایک تحقیقی یونیورسٹی اس مقصد کے لئے بھی ضروری ہے۔ شاپنگ سنٹر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ سپر مارکیٹ اپنی حدوں سے باہر نکل کر وسیع ہال میں پھیل چکی اور کجھوروں، انجیروں، اور میوہ جات کے ساتھ زعفران اور عربی اچار کے لوازمات خصوصی خیموں میں سج چکے۔ خیمے جو عرب تہذیب کا ایک لازم جزو ہیں، کجھور جو ان کی زندگی کا ایسا اہم حصہ ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں روٹی۔

جس کے بغیر کھانے کو کھانا گردانا ہی نہیں جا سکتا۔ اگرچہ اتنے سالوں میں اس قدر گرم علاقوں میں گرم تاثیر سے لبالب کجھوریں اس قدر کھانا ہمارا معدہ برداشت کر ہی نہیں پایا۔ مگر آفرین ہے کہ ایسی آگ میں جلتے صحرا میں رہتے ہیں اور کجھوروں کے ساتھ گرم کڑوے عربی قہوے پیتے ہیں اور یہ عرب لوگ خوش رہتے ہیں۔ یقینا ہر مٹی پر رہنے والے اسی مٹی سے بنتے ہیں اور اسی مٹی کے لئے بنتے ہیں۔ شاید یہی وہ راز ہے کہ اس کی حدوں سے دور جا کر بھی انساں اپنی مٹی بھول نہیں پاتا۔

چناچہ یہاں پر گزاری دہائی ہمیں عرب نہیں بنا پائی اور ان کی شہری زندگیوں میں جا بجا ائیر کنڈینشنگ، لگثری، سہولیات کا افراط ان کو اپنے خیموں اور لالٹینوں کو بھلا نہیں پایا۔ اماراتی عرب بی ایم ڈبلیو، پراڈو اور لینڈ کروزرز سے نکلتے ہیں تو اکثر ننگے پاؤں ہوتے ہیں اور مسجد کے گرم صحن میں تپتی دھوپ میں سجدہ کرنے لگتے ہیں جہاں ہمارے غریب ملک کے لوڈ شیڈنگ سے بھرپور مہینوں میں پنکھوں کے بغیر رہنے والے عوام بھی پاؤں اچھال اچھال تھک جاتے ہیں۔

رمضان کی شروعات سے ہی ہر جگہ علامتی اور فنکشنل قسم کے خیموں اور لالٹینوں کی بہتات ہو جاتی ہے۔ کہیں محض خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے اور کہیں روزہ داروں کی روزہ کشی کے لئے! پھر چاہے کسی مصروف سڑک کا کنارہ ہو یا شیخ زید مسجد کا وسیع و عریض دالان سفید خیموں سے اٹ جاتا ہے۔ شیخ زید مسجد جہاں بڑے بڑے ان گنت خیمے نصب کر کے ان میں دریاں بچھائی جاتی ہیں اور ان پر روزانہ سینکڑوں روزہ دار خاندانوں اور افراد کو بہت ترتیب اور تہذیب کے ساتھ بٹھا کر افطار کی دعوت کی جاتی ہے۔

یہاں اعلی معیار کا بہترین کھانا مفت مہیا کیا جاتا ہے جیسا شاید ہم پاکستان میں فائیو سٹار ہوٹل سے بھی توقع کرتے ڈرتے ہیں، اور یقینا بات معیار کی ہی ہے کہ وہاں اپنے پاکستان میں خوبصورت پرتعیش کھانا بھی بندہ سونگھ سونگھ کھاتا ہے اور دل میں دعائیں کرتا ہے کہ یاخدا بکرا ہی ہو اور صحت مند بھی! گلی محلے میں پھرتی کوئی اور مخلوق نہ ہو۔ صرف شیخ زید مسجد ہی نہیں، یہی پریکٹس حکومتی یا نجی لیول پر ہر مسجد میں دہرائی جاتی ہے۔

مسجد میں اور شاہراؤں پر رضاکارانہ طور پر بانٹا جانے والا یہ افطار کا انتظام خصوصی محکلمے کے زیر انتظام بہترین نگرانی اور معیار کے ساتھ تیارکروایا جاتا ہے اور اعلی ترین انتظامی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی اصل ترقی دیکھنی ہو تو اس کی بلند و بالا عمارتیں اور کارپٹڈ سڑکیں نہیں، ماہ رمضان میں شیخ زید مسجد میں جا کر یہ افطار خیمے دیکھ لیں۔ شاید ہی ایسا نظم و نسق آپ کو یورپ اور امریکہ میں ملے۔

عوام کی فلاح اور تہذیب ہی کسی قوم کی سب سے بڑی ترقی ہوتی ہے۔ وہ نہ ہو تو اونچی عمارتوں میں پھرتی تیز رفتار میٹرو بھی کوڑے کے ڈھیر پر لگے سنگ مر مر سے زیادہ نہیں لگتی۔ عرب دنیا کو قنوطی سمجھا جاتا ہے مگر یہ ہمارے پاکستانی معاشرے سے بہت زیادہ پرسکون، کشادہ دل اور مذہبی ہے۔ عرب لوگ نمازوں کے عادی ہیں، ان سے گھبراتے نہیں۔ اذان ہوئی اور ہاتھ باندھے جائے نماز بچھا کر جہاں تھے وہیں کھڑے ہو گئے۔ پاکستان میں کتنے لوگوں کی کاروں میں جائے نماز ہوتے ہیں؟

نماز نہ پڑھنے والے پاکستانی یہاں آ کر اپنی کاروں میں جائے نماز رکھنے لگتے ہیں کہ جدھر دیکھتے ہیں عرب قوم کو بانماز دیکھتے ہیں اور شرمندہ ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک روایت سمجھ کر سیکھ ہی جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو اکثر تصاویر آپ دیکھتے ہوں گے سڑک کے کنارے کھڑے نمازیوں کی وہ اکثر ان ہی ریاستوں کی تصاویر ہوتی ہیں جہاں ایشیائی باشندوں کو لے جاتی لیبر کی بس بھی اذان ہونے پر سڑک کنارے نماز کے لئے رک جاتی ہے۔

ان پر خدا کی کرامات کے پیچھے کہیں نہ کہیں اس نماز کی برکت بھی ہو گی جو یہ عرب قوم اپنے کاندھوں پر ایسے اٹھائے بیٹھی ہے جیسے اس کا کوئی بوجھ ہی نہیں۔ ان کی مسجدیں رمضان کے علاوہ بھی ہمیشہ بھری رہتی ہیں اور ان کی پارکنگ میں بڑی بڑی مہنگی گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ ایک ہماری قوم ہے کہ آج تک یہی فیصلہ نہیں کر پائی کہ نماز پڑھ کر قدامت پسند بننا ہے یا نہ پڑھ کر لبرل؟ مذہب اپنا کر غریب مسکین دکھائی دینا ہے یا غیر مذہب ہو کر نواب!

عرب دنیا میں بربری Burberry اور گوکی gucci کے پہناووں والے اور والیاں بھی مصلوں پر بیٹھے ملتے ہیں اور ان کو کوئی بھی جاہل، ان پڑھ، قدامت پسند اور پینڈو نہیں کہتا۔ مذہب اور امارت میں یقینا کوئی تعلق نہیں۔ اخلاقیات اور رتبے میں بھی کوئی جھگڑا نہیں۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہیں۔ یہاں بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے دفتری اوقات میں سر پر ٹوپیاں لئے قرآن پڑھتے ملتے ہیں۔ عرب امارات ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں انسان مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے، جہاں مسلمان غیر مسلم کو متاثر کرتا ہے، اپنی اونچی اوقات کے ساتھ اپنے رویے اور رواج سے بھی اور اس کی بہترین پریزنٹیشن سے بھی۔

کسی بھی قوم کو بنانے کے لئے ایک مضبوط نظریہ ہونا اور پھر اس پر مضبوطی سے فخریہ جمے رہنا بہت ضروری ہے پھر چاہے وہ کسی مذہب کی بنیاد پر ہو یا کسی اخلاقی درجے کے آئین کے نام پر۔ دنیا کی بڑی ریاستیں عیسائی ہیں، یہودی، مسلمان یا ہندو! یہ نام ایک ہونا اور کردار دوسرا ہونے کا کوئی وجود نہیں ہوتا نہ انسانوں کی تقسیم میں نہ قوموں کے معیار میں۔ قوموں کو تخلیق کیا جاتا ہے۔ صرف پیسہ لگا کر عمارتوں کو تعمیر نہیں کیا جاتا۔

ملک نہ تیز رفتار ٹرینوں سے بنتے ہیں نہ ٹیڑھے میڑھے، بل کھاتے پلوں سے۔ ملک ان رستوں پر چلتے ہوئے عوام سے اور ان کے رویوں سے، ان کے اچھے برے معیارات سے، فکر اور عمل کی بلندی سے تعمیر ہوتے ہیں۔ دنیا پر راج کرنے والی قوموں نے کلیشے بن جانے والے مذاہب کے نام بدل کر ان کا نام اخلاق رکھ لیا اور اپنا لیا۔ اور ہم دیکھ کر، سن کر نہ نقل کر کے ہی، مذہب کے نام پر نہ وقار اور اخلاق کے نام پر، ان رویوں اور روایات کو اپنا سکے جو مذہب بنا کر ہم پر اتارے گئے تھے یا ہم نے ان کو بالاتر سمجھ کر اپنایا تھا مگر آج تک اسے اپنی زندگیوں میں نافذ نہ کر سکے۔

ہم نے برتری کا معیار ذہنی اور اخلاقی گمراہی، بیمار رویے، اور بدتر اخلاق کو جانا۔ حکومتیں عوام کی صحت، سلامتی اور شعور کی ذمہ داری لے کر مضبوط ہوتی ہیں۔ اور متحدہ عرب امارات نے پچھلی چالیس دہائیوں میں یہ کام بہت محنت سے کیا ہے۔ اپنے مذہب، اپنی روایت کو اپنی شناخت کے لئے استعمال کیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے۔ افراد کے رویے جیسے بھی ہوں، حکومتی لیول پر اور قومی سطح پر اجتماعی رویے وہ چیزیں ہیں جن کی نقل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کی عمارات کی نقل سے پہلے ان کے اطوار کا تفصیلی جائزہ بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ سیاست کے ٹھیکیداروں نے یہ تاثر دیا ہے کہ میٹرو اور موٹر ویز یا بلند بالا عمارتیں دبئی کی پہچان ہیں اور یہی بنانے کے خواب پاکستانی عوام کو دکھائے جاتے رہے۔ ان بلند عمارتوں اور موٹر ویز پر چلنے والے عوام کو حکومتوں نے کس طرح ایک بامراعات آسودہ حال طبقہ بنا کر، بے اختیار رکھ کر مگر اعلی معیار زندگی دے کر کس طرح تعمیر کیا ہے اس کو کبھی اجاگر نہ کیا گیا۔

اماراتی عرب لوگوں کو سیاست کرنے کی آزادی نہیں۔ وہ گلی محلوں میں، ریسٹورنٹ اور کھلے بازاروں میں، قہوہ خانوں میں بیٹھ کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر حکومت اور حکومتی نظام پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ وہ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر حکومت یا حکومتی پالیسی کے خلاف ایک ڈھکا چھپا تبصرہ بھی نہیں کر سکتے۔ اور ان کو اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ بادشاہت کے ایک غیر پارلیمانی نظام میں تقریبا ہر اماراتی عربی کو اعلی تنخواہوں پر اعلی روزگار مہیا ہیں، گھروں کی عورتوں سے لے کر نوجوانوں تک سب کے سب باروزگار ہیں۔

حکومت کی طرف سے مفت یا محض نمائشی قیمت پر تعمیر شدہ گھر یا تعمیر کے لئے رقبہ ہر خاندان کو نہ صرف مہیا کیا جاتا ہے بلکہ زندگی کی آسائشوں کے لئے مختلف بہانوں سے وظیفے اور قرض بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ضروریات زندگی کے لئے خصوصی رعایتی قیمتوں پر راشن کارڈ، صحت انشورنس کارڈ اور مفت یا بہت حقیر قیمت پر اعلی تعلیمی اداروں سمیت ہر سہولت اور آسائش ان کے دروازے پر مہیا کی جاتی ہے۔ پاکسان میں جہاں سرکاری تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا دوسرا نام خواری اور بربادی ہو یہاں اس کا نام بہترین مہیا ادارے اور اعلی ترین سہولتیں ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سرکاری ہسپتال اور سکولوں کا مقابلہ پاکستان کے مہنگے ترین پرائیویٹ ادارے بھی نہیں کر پاتے مگر یہ بات وہاں پر صاحب اختیار نہیں بتاتے۔ اماراتی عرب لوگ غریب نہیں، یا یوں کہیں کہ اپنی بادشاہت کی طوالت کے لئے ان کو غریب رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اماراتی عرب اس قدر آسودہ حال ہے کہ انہیں اس چیز سے غرض ہی نہیں کہ صدارتی نظام ہو کہ پارلیمانی، بادشاہت ہو کہ جمہوریت، جب تک ان کے لئے بہترین صحت اور تعلیم، بہترین رہائش اور عظیم مستقبل ان کے گھر کے دروازے پر موجود ہے ان کے لئے ہر چیز قابل قبول ہے۔

آسودہ حالی نے اماراتی عرب عوام کو شعور کی منزلیں طے کرنے میں مدد دی ہے۔ جب ہر ضرورت چیخے چلائے بغیر پوری ہونے لگے تو معاشرے رونا دھونا بھول جاتے ہیں۔ طمانیت اور وقار، دیکھنے سمجھنے کی صلاحیت اور ذہنی اور نفسیاتی بالیدگی خود بخود چہروں پر اور رویوں پر اترنے لگتی ہے۔ یہی فرق پاکستان اور امارات اور ان کے عوام کے چہروں پر ہے۔ جہاں ایک طرف سکھ چین کی بانسری بچتی ہے تو دوسری طرف ہر وقت قیامت کا سماں ہے۔

ایک طرف چہروں پر اطمینان ہے تو دوسری طرف وحشت۔ کیا کبھی دبئی کا نام کیش کروانے والے سیاستدان نے یہ کہا کہ ہم آپ کے چہروں کو دبئی کی عوام جیسا روشن کر دیں گے؟ سڑکوں پر بلب لگنے بھی بہت ضروری ہیں مگر ان سے پہلے کچھ روشنی چہروں پر بھی اترنے کی شدت سے ضرورت ہے۔ اماراتی عرب عوام کا سستا ترین معیار زندگی جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہمارے ملک کی اپر مڈل کلاس تشریف فرما ہے۔ امارات کا غریب تیسری دنیا کا وہ ایشیائی ہے جو انتہائی عامیانہ مزدوری مناسب معاوضے کی خاطر کرنے کے لئے پاکستان بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکا سے آیا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ