بریکنگ نیوز

ججوں کا مواخذہ

10995363_787277164690944_4968671905126972992_n.jpg

تحریر: نذیر لغاری

امریکہ میں منتخب ایوانوں نے ایک دو یا پانچ آٹھ نہیں بلکہ بے شمار ججوں کا مواخذہ کیا کیونکہ امریکی جج بہرحال انسان ہوتے ہیں، وہ فرشتے نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ آسمان سے نازل ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ججوں کے انصاف کیلئے ہمارا ادارہ جاتی نظام ہی کافی ہے۔ امریکہ میں طاقت کا سرچشمہ کوئی ایک ادارہ یا کسی قسم کا ادارہ جاتی گٹھ جوڑ نہیں بلکہ وہاں طاقت کا سر چشمہ امریکی آئین، امریکی عوام اور عوام کے منتخب کردہ ادارے اور منصب دار ہوتے ہیں۔

یہ 10 مئی 1796ء کا واقعہ ہے، امریکہ کو آزادی حاصل کئے ابھی 20 سال ہی گزرے تھے، امریکی ایوان نمائندگان میں اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی، یہ رپورٹ جنوب مغربی کے جج جارج ٹرنر کے بارے میں تھی، رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جج جارج ٹرنر نے رشوت کا مطالبہ کیا تھا اور مقدمہ چلائے بغیر ایک فریق پر جرمانہ عائد کر دیا تھا۔ ایوان نے اٹارنی جنرل کی رپورٹ مزید کارروائی کیلئے سلیکٹ کمیٹی کو بھجوا دی۔ 16 فروری 1797ء کو جج ٹرنر نے درخواست کی کہ ان کے خلاف الزامات کی سماعت اس وقت کی جائے جب وہ شہر میں موجود ہوں۔ سلیکٹ کمیٹی نے جج کی درخواست مسترد کر دی۔

27 فروری 1797ء کو مواخذے کی کارروائی جنوب مغربی علاقے میں کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد پیش ہونے کے چند ماہ بعد جج جارج ٹرنر نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔

4 فروری 1803ء کو امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کی طرف سے ایوان نمائندگان کو ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ تھامس جیفرسن کو امریکی جنگ آزادی کے چند مرکزی کرداروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ ایک ماہر قانون، ایک عالی دماغ دانشور، ایک بلند پایہ سفارتکار اور ایک ذہیں قومی معمار سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1801ء سے 1809ء تک امریکی صدر کے منصب پر فائز رہے، ان کا ایک بڑا کارنامہ امریکی آئین میں پہلی ترمیم کا مسودہ تیار کرنا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا:

“کانگریس مذہب کو اختیار کرنے یا مذہب کی آزادانہ پیروی میں رکاوٹ ڈالنے یا آزادی اظہار یا پریس کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کے پُر امن طور پر احتجاج کرنے اور اپنی شکایات کے ازالہ کیلئے حکومت کے سامنے پٹیشن دائر کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے کوئی قانون نہیں بنائے گی۔”

صدر جیفرسن کی ایوان نمائندگان کو بھیجے جانے والی رپورٹ ضلع نیو ہمپشائر کے جج جان پائکرنگ کے طرز عمل کے بارے میں تھی۔ ایوان نے صدارتی رپورٹ موصول ہونے کے 14 روز بعد 18 فروری 1803ء کو معاملے کی تحقیقات کیلئے سلیکٹ کمیٹی کا تقرر کیا۔ 2 مارچ کو ایوان نے جج کے مواخذے کیلئے قرارداد منظور کی۔ 20 اکتوبر 1803ء کو ایوان نے مواخذے کی شکوں کا مصودہ تیار کرنے کیلئے ایک سلیکٹ کمیٹی کا تقرر کیا۔ سلیکٹ کمیٹی نے 27 دسمبر 1803ء کو مواخذے کے چار نکات ایوان کے روبرو پیش کئے، 30 دسمبر کو ایوان نے مواخذے کی چاروں شکوں کو تسلیم کر لیا۔ 4 جنوری 1804ء کو جج جان پائکرنگ کے خلاف مواخذے کے مقدمے کا آغاز ہوا۔ 12 مارچ 1804ء کو ایوان نے منصف کو مجرم قرار دیا اور مواخذے کے چاروں نکات کو درست تسلیم کرتے ہوئے جان پائکرنگ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے، جب 1861ء میں امریکی خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا تھا۔ امریکہ عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ امریکی یونین کی صدارت کا منصب ابراہام لنکن اور امریکی کنفڈریشن کی صدارت کا عہدہ جیفرسن ڈیوس کے پاس تھا۔ ابراہام لنکن بطور ریاست امریکہ کے اتحاد اور ملک میں غلامانہ نظام کے خاتمہ کی جنگ لڑ رہا تھا جبکہ جیفرسن ڈیوس امریکی کنفڈریشن میں غلامانہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

4 مارچ 1862ء کو ایوان نمائندگان کے رکن مسٹر بنگھم نے عدالتی کمیٹی کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی۔ جس میں جج ہمفریز کے مواخذے کی سفارش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ:

• جج ہمفریز نے کھلے عام علیحدگی کا اعلان کیا اور مسلح باغیوں کو امداد فراہم کی۔

• جج ہمفریز نے کنفڈرل امریکہ کے سربراہ جیفرسن ڈیوس کے ساتھ مل کر سازش تیار کی۔

• جج ہمفریز نے فوجی گورنر اینڈریو جانسن اور امریکی سپریم کورٹ کے جج جسٹس جان کیٹرون کی جائدادیں ضبط کیں۔

• جج ہمفریز نے امریکہ کو متحد رکھنے کے ایک حامی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جیل بھجوایا۔

ایوان نے یہ رپورٹ عدالتی کمیٹی کو واپس بھجوا دی۔ 6 مئی 1862ء کو عدالتی کمیٹی نے رپورٹ دوبارہ ایوان میں پیش کی۔ اس بار ایوان نے رپورٹ منظور کر لی اور 14 مئی 1862ء کو مواخذے کے نکات طے کرنے کیلئے معاملہ سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ 19 مئی 1862ء کو مواخذے کے نکات ایوان میں پیش کئے گئے اور اسی روز ان نکات کو منظوری دے دی گئی۔

26 مئی 1862ء کو امریکی سینٹ نے مواخذے کی کارروائی شروع کی اور اسی روز ایوان نے جج کو مجرم قرار دے کر سزا دینے اور اسے منصب سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔

جہاں قانون کا راج ہوتا ہے وہاں کوئی ادارہ، کوئی منصب دار، کوئی جج، کوئی جرنیل، کوئی صحافی، کوئی افسر اور کوئی خاص یا عام فرد قانون سے بالا تر نہیں ہوتا۔ جہاں قانون کا راج ہوتا ہے وہاں عوام کے منتخب ادارے دیگر تمام اداروں سے بالاتر ہوتے ہیں، جہاں قانون کا راج ہوتا ہے وہاں اعلیٰ عدالتی یا انتظامی عہدوں پر متمکن شخصیات کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ قانون نہیں ہوتے بلکہ قانون وہ ہوتا ہے جسے عوام کے منتخب نمائندے اپنے ایوانوں میں مقررہ قوائد کے مطابق طے کرتے ہیں۔ ایک بات تو بہرحال طے ہے کہ اقتدار، تمام اختیارات اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ