بریکنگ نیوز

پاکستان کی معیشت کے لیے کون سی سیاسی جماعت سب سے بہتر ہے؟

5cdbc53bd0839.png

تحریر: امام بخش

16 مئی 2019ء کو ڈان نیوز پیپر میں مرتضٰی حیدر کا آرٹیکل شائع ہوا ہے، جس میں پرویز مشرف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار کے تجارتی اعداد و شمار کو دکھایا گیا ہے، جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے سیاسی جماعتوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بہتر ہے، جس کی وفاقی حکومت کی کارکردگی، پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں سے بدرجہا بہتر رہی ہے۔

ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ وہ سچ سامنے آیا ہے، جس سے برین واشڈ دولے شاہی چُوہوں کے احساس کے نازک آبگینوں کو ٹھیس پہنچے گی کیونکہ سچائی سُن کر ان کی طبیعت فوراً مکدر ہو جاتی ہے۔

جو مَیں سچ کہوں تو بُرا لگے،جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
یہ سماج جہل کی زد میں ہے، یہاں بات کرنا حرام ہے!

لیکن ہماری بھی مجبوری ہے جو کھردرا اور سنگلاخ سچ بولنے سے باز آنے نہیں والے ہیں۔

گو کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی کارکردگی باکمال رہی ہے لیکن ہمیں مندرجہ ذیل اہم حقائق بھی مدنظر رکھنے ہوں گے:

• پاکستان پیپلز پارٹی نے جب 2008ء میں حکومت سنبھالی تو دہشت گردی عروج پر تھی، جس کی وجہ سے ترقی یا سرمایہ کاری کے لیے ماحول ہرگز ہرگز سازگار نہ تھا۔

• 2008ء میں عالمی معیشت تجارتی خسارے کی وجہ سے اقتصادی بحران کا شکار تھی۔

• 1996ء میں پی پی پی کی حکومت ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے پی پی پی حکومت کی طرف سے بجلی کے منظور شدہ پروجیکٹس ختم کر دیئے اور مشرف کی حکومت نے بھی نُونی حکومت کی طرح ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہ کی، جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ ضرورت بڑھنے پر 2008ء میں توانائی کا شدید بحران تھا۔

• پاکستان پیپلز پارٹی دور میں پٹرول کی عالمی قیمت 124 یو ایس ڈالرز فی بیرل کی بلندی تک گئی۔

• پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ، نون لیگ، پی ٹی آئی، عدلیہ اور میڈیا کے گٹھ جوڑ نے حکومت کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔

پس ثابت ہوا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کو مندرجہ بالا کٹھن حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو معاشی حالات کہیں زیادہ بہتر ہو سکتے تھے۔ مزید برآں، یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے بھی یقینی طور پر ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

ویسے تو پی ٹی آئی کسی قطار شمار میں نہیں ہے، جس کی بدترین کارکرگی پچھلے نو ماہ سے ہی الم نشرح ہے۔ پھر بھی ہم مرتضٰی حیدر کے آرٹیکل سے ہٹ کر پاکستان پیپلز پارٹی، نُون لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتوں کے قرضوں کا تقابلی جائزہ فقط دو پوائنٹس سے لیتے ہیں:

• پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں 5 ارب روپے یومیہ قرض لیا۔ نُون لیگ کی حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر 7.7 ارب روپے قرض لیا۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت روزانہ 17 ارب روپے کا قرض لے رہی ہے۔ یاد رہے کہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے قرضوں کے یہ اعداد و شمار آئی ایم ایف کے پیکیج سے قبل کے ہیں۔

• پاکستان پیپلز پارٹی کے پورے دورِ حکومت میں گردشی قرضے 272 ارب روپے، نُون لیگ کے دورِ حکومت میں 1100 ارب روپے اور پی ٹی آئی کے پہلے آٹھ مہینوں میں 1600 ارب روپے بڑھے ہیں۔ یعنی موجودہ حکومت کے دور میں گردشی قرضہ روزانہ 2 ارب روپے بڑھ رہا ہے۔

آخر میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ سچائی پوشیدہ رکھ کر لاکھوں منفی پروپیگنڈے کرنے کے باوجود عوام کو ہمیشہ کے لیے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ سچ دیر سویر سامنے آ کر ہی رہتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ