بریکنگ نیوز

پنچاءت اور تنازعات کے متبادل حل کے بل کو جلد پارلیمنٹ میں متعارف کرایا جائے گا

44c0b254-f933-4d37-b12c-c76aa0cf2131.jpg

ریاض فتیانہ

اسلام آباد (منگل، 14 مئی 2019):

چیئرمین نیشنل اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی لاء اینڈ جسٹس ریاض فتیانہ نے کہا کہ عدالتوں پر کیسوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے حکومت پنچاءت اور تنازعات کے متبادل حل کے بل کو جلد پارلیمنٹ میں متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کا نظام شفاف، سستا اور فوری انصاف فراہم کرے گا جس سے خاص طور پر خواتین اور کمزور افراد بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے ۔ وہ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ’ پاکستان میں خواتین کی انصاف تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ‘ کے عنوان سے ایک سیمینار میں کر رہے تھے ۔ اس موقع پر محترمہ خاور ممتاز، سابقہ جج رفعت بٹ اور ایس ڈی پی آئی سے رابعہ منظور نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ ملک میں خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے بہت سے قوانین موجود ہیں ، جس میں سے کچھ قوانین باقی تمام قوانین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے جن کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سول اور کریمنل کورٹ کے طریقہ کار میں اصلاحات ہونی چاہیے اور اسلامی نظریاتی کونسل میں زیادہ خواتین ججوں کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے، جس سے خواتین کی انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے ۔

خواتین کےسٹیٹس پر قومی کونسل (این سی یس ڈبلیو) کی چیئرپرسن محترمہ خاور ممتاز نے کہا کہ حکومت کی طرف سے متعارف کرایا جانے والے کسی قسم کا بھی متبادل عدالتی نظام تمام شراکت داروں کی حمایت اور ایک قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحط ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی انصاف تک رسائی کا مسئلہ ہمای سوچ سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی فیصلہ سازی میں شراکت (خاص طور پر عدالتوں میں ) ، اقتصادی با اختیاری اور تشدد کی روک تھام کمیشن کی تین اہم ترجیحات ہیں جس سے خواتین کو انصاف تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہو گی ۔

سابق جج اور وکیل رفعت بٹ نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام شرعی قوانین اور دیگر مذہبی روایات اور اقدار کی آج کے معاشرتی ضروریات کے مطابق انتہائی جدید تشریح کرے ۔ انہوں نے ملک بھر میں مساوی قوانین کو یقینی بنانے کے لئے حکومت پر زور دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی انصاف تک رسائی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنوں کو بھی فوری اپنائے اور ضروری قانون سازی کے بعد جلد لاگو کرے ۔ سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، ایس ڈی پی آئی رابعہ منظور نے کہا کہ صنفی مساوات کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 149 ممالک میں دوسرا سب سے بدترین ملک قرار دیا گیا ہے اور قانون کی حکمرانی کی درجہ بندی میں 126 ملکوں میں سے 117 نمبر پر ہے ۔ جبکہ، 2015 میں صرف ایسڈ حملوں میں 65 خواتین کو جلا دیا گیا تھا، 1515 خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 713 کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیاجبکہ بہت سے مقدمات ابھی درج بھی نہیں ہوئے ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ