بریکنگ نیوز

امریکہ تجارتی روابط کے حوالے سے منافع کی شرح میں چین سے کسی طور کم نہیں

06.jpeg

^

(خصوصی رپورٹ):۔ بیشتر امریکی تجارتی ماہرین چین کے تجارتی سر پلس کو لیکر چین کے خلاف ہرزاہ سرائی کرتے پائے جاتے ہیں ، کچھ امریکی تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کے مقابلے میں سالانہ 500بلین ڈالرتجارتی خسارے کا سامنا ک ررہا ہے اور چین کی بڑھتی تجارت اور مارکیٹ کی وجہ سے ہر سال مینو فیکچرنگ کے شعبوں میں لاکھوں امریکی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اس حوالیسے انکا کہنا ہے کہ چین امریکہ تجارتی تعلقات کے پیشِ نظر امریکہ ممکنہ طور پر چینی تجارت کا شکار ہو سکتا ہے۔ یوں یہ وہ بنیادی خدشات ہیں جن کو لیکر ایک عام امریکی سے لیکر امریکی تجارتی ماہرین چین امریکہ تجارت کے حوالے سے سے پالسیز کا ناقد بن چکا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں چین کی جانب سے باہمی تجارتی کاوشوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ جدید دنیا کی مضبوط ترین معاشی طاقت ہونے کیوجہ سے عالمی تجارت اور عالمی معیشت کے حوالے سے تمام تر قواعدوضوابط طے کرتا آیا ہے۔ اس طرح سے عالمی اقتصادی وتجارتی قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ہمیشہ سے اپنے تجارتی مفادات کو فوقیت اور اولیت دی ہے اور کبھی بھی امریکی قیادت نے ایسے تجارتی قوانین وضح نہیں کیے جس سے اس کے تجارات مفادات کو ٹھیس پہنچے، اس طرح اگر ان نظریات کو اور مفادات کو دیکھتے ہوئے امریکی الزامات کو پرکھا جائے تو اس دلیل اور متعلقہ نظریات کو مناسب دلائل کیساتھ پیش کیا جانا ضروری ہے۔ درحیقیت امریکی قیادت(انکل سام) عالمی تجارت و چین امریکی تجارت تعلقات کے حوالے سے کبھی بھی تجارتی شکار نہیں رہا ہے بلکہ امریکی قیادت نے ہمیشہ سے اپنے تجارتی و اقتصادی فواہد کے لیے دیگر ممالک اور آرگنائزیشنز کا استعصال اور استعمال کیا ہے۔ اور یہ وہ بنیادی نقطہ جس سے امریکی انڈسٹریز، صارفین اور اقتصادی ماہرین بخوبی آگاہ ہیں ۔ چین امریکہ تجارتی شراکت داری میں اگر امریکہ کو تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے تو چین کسی صورت اس امر کا زمہ دار نہیں ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو امریکہ کو جن بنیادی عوامل کی وجہ سے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں بنیادی اسباب اضافی کھپت، ریزروز کی غیر مناسب حد تک کمی، اور اقتصادی مسائل کے حوالے سے درپیش مالیاتی خسارہ وہ بنیادی امر ہے جس کیوجہ سے امریکہ کو چین کے مقابلے میں تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو بڑھتے تجارتی خسارے کا یہ بھی فائدہ حاصل ہے کہ عالمی پیمنٹ معیشت کے حوالے سے اور ریزرو کرنسی کے حوالے سے امریکہ ڈالر کی ری سائیکلنگ کے نام پر کم قیمت پر بڑے سرمائے کو حاصل کر پا رہا ہے، امریکہ نے گزشتہ کئی عشروں میں ہائی ٹیک ٹیکنالوجیز سیکٹر اور متعلقہ ہائی ٹیک انڈسٹریز میں کی گئی سرمایہ کاری کی بدولت عالمی اقتصادیت اور آزادانہ تجارت کی بدولت لا متناہی فواہد حاصل کیئے ہیں ، اس حوالے سے ہارورڈ کینڈی اسکول کے پروفیسر برائے انٹر نیشنل فنانشل سسٹم کیمرین ریہارٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ اگر آج دیگر ممالک پر تجارتی سر پلس کے حوالے سے الزامات عائد کرتا ہے تو وہ الزامات بے معنی ہیں انہوں نے اقتصادی عالمی نظام کے حوالے سے بنیادی عوامل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اگر چین کیساتھ تجارتی روابط کے حوالے سے تجارتی خسارے کا سامنا ہے تو یہ خسارہ صرف ظاہری حد تک ہے یہ خسارہ ان عوامل کی نشاندہی نہیں کر رہا ہے جو فواہد امریکہ چین کیساتھ جاری تجارتی شراکت داری کی بدولت حاصل کر رہا ہے۔ آج عالمی معیشت ایک گلوبل ویلیو نیٹ ورک سے منسلک ہے اور امریکہ اس ویلییو نیٹورک کے ہیڈ کی مانند ہے، گلوبل ویلیو نیٹ ورک کے ہیڈ کی مانند امریکہ تمامپراڈکشن سسٹم کی باریکیوں سے آگاہ ہوتے ہوئے امریکی قیادت اس ویلیو نیٹورک سے بھر پور انداز میں فاہدہ سمیٹ رہی ہے، مزید براں ہائی ویلیو پیٹنٹ لنکس کی بدولت بشمول جدید ٹیکنالوجیز کی پیٹنٹ لائنسز، کور پارٹس، ڈیزائن اینڈ ڈیویلپمنٹ اینڈ مارکیٹنگ کے حوالے سے بھیامریکہ ان لنکس سے بھر پور استعفادہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ایپل موبائلز کمپنی کے آئی فون کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اس تناظر میں اگر تجارتی سرپلس کو برامدات کرنے والے ممالک پر عائد کیا جاتا ہے تو یہ کسی صورت بھی ایک معروضی طریقہ کار نہیں ہے کہ جس سے تجارتی ویلیوز کی تقسیم کی عکاسی ہو، درحیقیت عالمی سطع پر گلوبل ویلیو نیٹ ورک کے حوالے سے منافع کی تقسیم کے حوالے سے ہر ملک کی زمہ داری ہے کہ وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، آرگنائزیشن برائے اکنامک کو اپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کے عالمی تجارت کے حوالے سے جاری رہنما اصول2011کے مطابق بین الاقوامی پروڈکشن کے حوالے سے متعلقہ عوامل اختیار کریں۔ تاہم امریکہ صرف وہ ہی عوامل اختیار کرتا ہے جو اسکی معاشی فواہد کو یقینی بنائیں۔ اور جب یہ کثیر الجہتی تجارتی آرگانئزیشنز جیسے WTOکی جانب بڑھتا ہے تب بھی صرف اپنے فواہد ہی مقصدِ نظر رکھتا ہے۔ امریکہ کبھی ایسے عوامل اور رجحانات کی جانب نہیں پیش رفت کرتا جن سے اسے معاشی فواہد حاصل نہ ہوں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ امریکی انٹرپرائسز اپنے چینی اپریشنز کی بدولت سالانہ 700بلین ڈالر کما رہی ہیں جس میں سے لگ بھگ50بلین سے زائد خالص منافع ہے جو اسی صورت ممکن ہے جب چین ان انٹر پرائسز کو بہتر تجارتی و سرمایہ کاری و بزنس کے حوالے سے مستحکم ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ بنیادی ضروریات کی کم قیمتوں کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے جب عالمی سطع پر بیشتر بینک دنیا بھر میں جاری مہنگائی سے نبر آزما تھے اس تمام صورتحال میں بھی امریکہ نے اپنے ملک میں مہنگاہی کی شرح دو فیصد سے کم رکھی۔ اس کی بنیادی وجہ وہ کم قیمت چینی مصنوعات تھیں جو اپنی کم قیمت ہونے کیوجہ سے تیزی سے امریکی معاشرے میں مقبول ہو گہیں۔ ٹائمز میگزین کے مشہور رائیٹر رابرٹ ریٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کو زیرو۔سم گیمز کی حدود سے آگے بڑھ کر نان۔زیرو گیمز کی جانب راغب ہونا ہوگا۔ گزشتہ چار عشروں میں چین ۔امریکہ کے مابین مجموعی تجارتٰ حجم 240گنا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔اس طرح سے اس قدر بڑا تجارتی حجم کسی طور پر زیرو سم گیم کی بدولت ممکن نہیں ہے۔ اور ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس قدر بڑے تجارتی حجم کے ساتھ کوئی ایک پارٹی بڑے پیمانے پر اپنے تجارتی فواہد کو ھاصل نہیںکر پا رہی ہو۔ چین ایک کثیر آبادی اور بڑی مارکیٹ ہونے کے حوالے سے دیگر ممالک کیلئے ایک بڑا امپورٹر ملک رہا ہے اور ڈیویلپمنٹ کے بعد سے بھی چین نے بیرونی دنیا کے لیے اپنے دروازے کھلے دل کیساتھ کھولے ہوئے ہیں ، موجودہ سورتحال یہ ہے کہ چین دنیا کے120ممالک اور ریجنز کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔ چین امریکہ کے حوالے سے کبھی بھی یکطرفہ انداز میں تجارتی سرپلس کی جانب نہیں بڑھا ہے اور چین نے ہمیشہ سے ہی امریکہ کیساتھ بامی تجارت کی مضبوطی کے لیے مسابقتی امپورٹ پراڈکٹس کو ایک متوازن انداز میں لیکر آگے بڑھا ہے۔ اس ضمن میں بیشتر متعلقہ امریکی آرگنائزیشنز کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ چین کے مقابلے میں اپنے موجودہ تجارتی خسارے کی شرح کو آسانی سے 35فیصد تک کم کر سکتا ہے اگر امریکہ اپنی ہائی ٹیک پراڈکٹس کی ایکسپورٹس کو چین کیساتھ آسان بنا دے۔ اس طرح سے انکل سام اگر اپنی ہائی پراڈکٹس دیگر ممالک کو ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے سجنیدہ نہ ہو اور ان ممالک پر تجارتی سر پلس کے حوالے سے اور دیگر عوامل کیساتھ الزام تراشی شروع کر دیں تو یہ امر کسی طور پر درست نہیں ۔ دوسری جانب یہ امر بھی قطعی طور پر فرست نہیں ہے کہ امریکہ چین کی وجہ سے اپنے ہاں مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں لاکھوں ملازمتوں سے محروم ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے اگر مینوفیکچرنگ سیکٹر امریکہ میں لاکھوں ملازمتوں سے محروم ہو ہا ہے تو اس حوالے سے امریکی ایکیڈیمک ورلڈ کا کہناہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں امریکہ اپنے اقتصادی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں نہ کرنے کیو جہ سے مصائب کا سامان کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیشتر ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بیشتر ملازمتیں روبوٹس ایپلیکیشنز اور پراڈکشن یونٹس کے خودکار نظام کے استعمال سے یہ ملازمتیں تحت ختم ہوئیں ہیں ۔غیر ملکی تجارت کا ملکی انڈسٹریز پر بہت نچلے پیمانے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم اس غیر ملکی تجارت کے دیگر شعبوں اور متعلقہ انڈسٹریز پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جس سے مجموعی طور پر ملک میں انڈسٹریل گروتھ کو تقویت ملتی ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک ریسرچ کے مطابق امریکہ ملک میں ہائی ٹیکنالوجی کے سیکٹرز اور متعلقہ شعبوں میں جس تیزی سے ڈیویلپمنٹ اور نئے تجارتی مواقع اور ملازمتیں حاصل کر رہا ہے اسکی شرح غیر ملکی تجارت کے حوالے سے کھونے والی ملازمتوں کے مقابلے میں بہت حد تک کم ہے۔ اس طرح سے اگر امریکی بینانیہ یہ توجیع پیش کرتا ہے کہ نئی ملازمتوں کے سبب امریکہ تجارتی خسارے اور دیگر ایشوز سے نبر آزما ہے تو اس امریکی الزام تراشی اور بیانیہ میں کوئی معقول دلیل موجود نہیںہے۔ امریکہ درحیقیت اپنے مقامی اور ملکی مسائل کو بین الاقوامی تجارتی خسارے کے تحت استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن حقیقیت یہ ہی کہ امریکہ کی جانب کیساتھ جاری تجارتی محاز آرائی سے زیادہ متاثر امریکی صارف ہی ہونگے۔ اس طرح سے امریکہ کی نیشنل ایسوسی ایشن برائے بزنسز اینڈ اکنامکس نے ایک حالیہ جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کے چین پر عائد اضافی ٹیرف کے فیصلے سے امریکی تین تہائی کمپنیز زیادہ متاثر ہو رہی ہیں ۔ اضافی ٹیرف سے انکی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان کمپنیز کے مجموعی سیل اور منافع میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جس سے ان کمپنیز کی جانب سے اپنی سیل پرائسز میں غیر معمولی حد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف جاری تجارتی محاز آرائی سے سب سے زیادہ امریکی صارفین، امریکی انٹر پراسسز، اور امریکی رینکرز سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ، امریکہ نے چینکے ساتھ تجارتی مسابقت کے بجائے اسے تجارتی جنگ کا نام دیا ہے۔ امریکہ تجارت خسارے اور تجارتی محاز آرائی کے سبب کسی طور امریکی معاشرے میں اپنے اقدامات کو عوام کے سامنے دلائل کیساتھ منوانے میں ناکام ہو چکاہے۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت انکل سام اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے روزانہ نئی کہانیاں پیش کرنے پر مجور ہیں ۔ چینی معیشت کے متزلزل اور وسیع پوٹینشل کے سبب چین بڑی حد تک مطمئن ہے کہ چین ہائی ڈیویلپمنٹ کو باآسانی سطع سے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔ اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ تجارتی محاز آرائی کیء منفی اثرات اور عوامل کو آسانی سے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔ اور طویل مدتی اور مستحکم گروتھ کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔ اور چین میں کاری کشادگی پر مبنی پالیسز سے مقامی اور ملکی ڈیویلپمینٹ اور پراڈکشن کو کامیابی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ آج امریکہ جو بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اس سے کسی کو کوئی فاہدہ نہیں ہو رہا صرف نقصان امریکی انٹر پرائسز اور عوام کو ہو رہا ہے، اس صورتحال میں امریکی انتظامیہ انکل سام کے لیے بہتر یہ ہی ہے کہ وہ ان پوانئٹس پر سیاسیات اور پوائنٹ سکورنگ کرنے کی بجائے حیقیت نظری سے عوامل کا جائزہ لے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ