بریکنگ نیوز

جنگیں فوجیں نہیں قومیں لڑتی ہیں

Dr.-Muhammad-Zarrar-Yousuf.jpg

تحریر: ڈاکٹر محمد ضرار یوسف

آج کل طاقتوروں کے خوشامدی اور چاپلوس دانشوروں نے قوم کو یہ باور کرانے اور یقین دلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں کہ اگر قوم سکون کی نیند سوتی ہے تو یہ فوج اور آئی ایس آئی کی بدولت ہے۔ مجھے ایسے دلائل سے شدید اختلاف ہے۔ فوج اور تمام ادارے ریاست کا حصہ ہیں۔ فوج اور تمام ادارے جن کے ملازمین اس قوم کے سپوت ہیں، اپنی پسند کے مطابق اِن اداروں میں ملازمت اختیار کرتے ہیں۔

جنگیں فوجیں نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔ فوج کو جنگ کی تربیت دی گئی ہوتی ہے اور فوج اپنی قوم کی مدد کرتی ہے۔

اگر فوج ہی سب کچھ ہے تو پھر افغانستان میں دنیا دو سپر طاقتوں یعنی روس اور امریکہ دونوں کی فوجیں ناکام ہو گئیں؟

امریکی فوج ویت نام میں بری طرح ناکام ہوئی۔ اسی طرح دنیا میں بہت سی جنگوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

1971ء میں ہماری فوج مشرقی پاکستان میں ناکام ہو گئی۔ اور تو اور جنگ 1971ء میں مغربی پاکستان کے تقریباً دس ہزار سے زائد کلو میٹر کے رقبے پر انڈین فوج کا قبضہ ہو چکا تھا۔ جبکہ 1965ء کی جنگ میں عوام بھی شامل جنگ تھی اور کئی سولینز نے اپنے جسم پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور اپنے وطن کا دفاع کیا۔

ہماری جنگی تاریخ میں سب سے لمبی جنگ 1947ء سے جنوری 1949ء تک لڑی گئی جو صرف قوم نے لڑی جبکہ فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس جنگ میں پاکستانی عوام نے 86368 مربع کلو میٹر رقبے کو انڈیا کے قبضے سے چھڑایا تھا۔

ہمیں اپنی فوج پر اعتبار تو 1984ء میں بھی تھا جب 2600 مربع کلو میٹر سیاچن گلیشیئر کے رقبے پر انڈیا نے قبضہ کر لیا تھا (جو آج بھی انڈیا کے قبضے میں ہے)۔ اس موقع پر میڈیا نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور قوم اتنی بری اور اہم خبر سے لاعلم رہی جبکہ عالمی میڈیا پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی تھی۔ ہر چند سال بعد اسلام آباد فتح کرنے والے بھی اپنی ہر ناکامی پر پردہ پوشی کئے ہوئے تھے۔

جنگ کشمیر 22 اکتوبر 1947ء سے جنوری 1949ء تک لڑی جانے والی جنگ کو کبھی کسی درس و تدریس کے نصاب میں اس شان و شوکت سے نہیں پڑھایا جاتا جتنی شان و شوکت سے 1965ء کی جنگ کو پڑھایا جاتا ہے حالانکہ اس جنگ میں سندھ، پنجاب (لاھور کا تھانہ برکی) اور کشمیر کا درہ حاجی پیر سمیت تقریب 1840 مربع کلومیٹر کا رقبہ بھارت کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ جبکہ پاکستان کے عسکری ادارے کی جانب سے دعوٰی کیا گیا کہ بھارت کا 640 مربع کلو میٹر کے رقبے پر پاکستان کا قبضہ ہو گیا تھا۔ غیر جانبدار مبصروں کے مطابق پاکستان نے 540 مربع کلو میٹر کے بھارتی رقبہ پہ قبضہ کیا۔

پاکستان کی پیدائش کے وقت برصغیر پاک و ھند کی تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق دو نئے آزاد ہونے والے ممالک میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو ترغیب دی کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق کریں۔

جونا گڑھ کی ریاست کے نواب محمد محبت خان جی نے اپنے وزیرِ اعظم سر شاہنواز بھٹو کی تجویز پر جونا گڑھ کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کا اعلان 15 اگست 1947ء کو کیا اور پاکستان نے اس الحاق کی منظوری 13 ستمبر 1947ء کو دی۔ جونا گڑھ کی ہندو اکثریت نے بغاوت کر دی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا۔ ان فسادات کا بہانہ بنا کر بھارتی فوج جونا گڑھ میں داخل ہو گئی اور جونا گڑھ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاستِ کشمیر کا الحاق بھارت سے کرنے کا اعلان کیا۔ کشمیری عوام نے اس الحاق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بغاوت کر دی۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستانی فوج کے چیف آف سٹاف کو کشمیری عوام کی مدد کرنے کے احکامات جاری کئے اور چیف آف سٹاف جنرل ڈگلس گریسی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا۔ افسوس اس امر کا ہے کہ اس وقت کے دوسری اور تیسری لائن کے جنرلز نے بھی قائدِ اعظم کے احکامات کو قطعاً اہمیت نہ دی۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح کو جنرل ڈگلس گریسی کے سیدھے سیدھے اور صاف انکار کے بعد مورخہ 12 ستمبر 1947ء کو ایک اعلٰی سطحی اجلاس بلایا گیا، جس کی صدارت وزیرِ اعظم پاکستان لیاقت علی خان نے کی، اس اجلاس میں پنجاب کے سیاستدان میاں افتخارالدین، سردار شوکت حیات، کرنل اکبر خان، برگیڈیئر زمان کیانی، برگیڈیئر حبیب الرحمن خان اور خورشید انور نے شرکت کی۔ بظاہر اس اجلاس میں کوئی خاص فیصلہ نہ ہوا۔ مگر سردار شوکت حیات پشتون، محسود اور وزیرستانی قبائل کے لشکروں کو منظم کرنے لگے۔

مغربی سرحدی صوبہ کے وزیرِ اعلٰی خان عبدالقیوم خان نے پیر آف مانکی شریف اور پیر آف وانا کو کشمیر میں جہاد کے آغاز کے لئے رضا مند کیا اور دونوں پیران کی بدولت ایک کٹیر پشتونوں کی تعداد میں نوجوانوں نے کشمیریوں کے شانہ بشانہ بھارتی تسلط کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا۔ راولپنڈی کے کمشنر خواجہ عبدالرحیم نے آفریدی قبائل کے لشکر کو کشمیریوں کے شانہ بشانہ جنگ کے لئے آمادہ کیا۔ اس جنگ کے لئے بڑی تیزی سے قوم کے شہری شامل ہونے لگے اور جانثار رضاکاروں کی تعداد ساٹھ ہزار نفوس سے تجاوز کر گئی۔ ان جان نثار رضا کاروں میں عام شہریوں کے علاوہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کے باغی سپاہی، مسلم لیگ گارڈ کے نوجوان، وزیرستان کے پشتون قبائل، کرم ایجنسی قبائل کے لشکر، فرنٹیئر سکاؤٹ، سوات آرمی، فرقان فورس آف جماعت احمدیہ اور گلگت سکاؤٹ شامل تھے۔ جبکہ پونچھ کے باغیوں کو سردار ابراھیم نے منظم کرنا شروع کر دیا۔ لشکروں اور غیر تربیت یافتہ شہریوں کو میدانِ جنگ میں اتارنا ایک خطرناک مرحلہ تھا۔ جس کے لئے افواجِ پاکستان سے چند گنتی کے افسران نے اپنی مرکزی کمان سے بغاوت کرتے ہوئے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے احکامات کی تعمیل میں عوامی لشکر کے ساتھ آ کھڑے ہوئے، ان میں قائدِ اعظم کے ملٹری سیکریٹری کرنل اکبر خان، کرنل شیر خان، برگیڈیئر زمان کیانی اور حبیب الرحمن خان شامل تھے۔

کرنل اکبر خان جو بعد میں برگیڈیئر ہوئے اور پھر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا گئے۔ جب جنرل محمد ایوب خان کو مورخہ 23 جنوری سنہ 1951ء میں چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تو ایوب خان کے مستقبل میں اقتدار پر قبضے کے منصوبے میں میجر جنرل اکبر خان کو ان کے سابقہ کردار اور مرکزی کمان سے بغاوت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے لئے بہت خطرہ تصور کرنے لگے اور جنرل اکبر کو میدان سے ہٹانے کے لئے راولپنڈی سازش کیس کا منصوبہ تیار کیا۔ اور اس سازش کے تحت 9 مارچ سنہ 1951ء کو میجر جنرل اکبر خان ان کی بیوی نسیم شاہنواز، فیض احمد فیض، سجاد ظہیر بانی رکن پاکستان کیمونسٹ پارٹی اور دوسرے بارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔ اور منصوبے کے مطابق 16 اکتوبر 1951ء کو وزیرِ اعظم پاکستان کو قتل کیا جا چکا تھا۔

نوزائیدہ پاکستان کی پیدائش کو ابھی صرف دو ماہ اور پانچ دن ہوئے تھے اور پاکستان کے ساتھ وسائل کی تقسیم میں ناانصافی کی گئی۔ مالی بحران کی شکار ایسی قوم جس کے سامنے مشکلات و مسائل کے پہاڑ کھڑے تھے۔ اور ایک وسیع وسائل و افرادی قوت کے حامل دشمن سے مقابلہ درپیش تھا۔ ریاست کشمیر کے راجہ ہری سنگھ بھارتی فوج کے گھیراؤ میں خوف و یاس کی علامت بنے ہوئے تھے۔ بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو کر اپنا تسلط مستحکم کر رہی تھی۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کے جرنیل یہ جنگ نہ لڑنے کا صاف جواب گورنر جنرل قائدِ اعظم محمد علی جناح کو دے چکے تھے۔ جبکہ پاکستان کے شہری خاص کر پشتون کشمیریوں کی مدد کرنے کشمیر میں پہنچ چکے تھے۔ کشمیر کے گلی کوچوں میں جنگ طبل سنائی دیتے تھے لیکن مسلح افواج کے جرنیل اپنے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ڈگلس گریسی کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ دھرے دیکھ رہے تھے۔ مگر چند ایک فوجی آفسیران جن کو قائدِ اعظم کے ملٹری سیکریٹری کرنل غلام اکبر پیشہ وارانہ قیادت فراہم کر ریے تھے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کے مسلمان کشمیری سپاہی بغاوت کر گئے اور تن من دھن کی بازی لگا کر اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہ رہے تھے۔ یہ ایسا موقع تھا کہ پاکستان کی فوج کے چند برگیڈیئر، کرنل اور سپاھیوں نے فوج کی مرکزی کمان سے بغاوت کرتے ہوئے پاکستانی اور کشمیری عوام کے شانہ بشانہ غاصب دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس جنگ کی ابتدائی جھڑپیں راولا کوٹ سے بیس کلو میٹر دور تھیوراڑ کے مقام پہ 3-4 اکتوبر 1947 کو شروع ہوئیں اور 22 اکتوبر سنہ 1947 کو ڈومیل مظفر آباد کے مقام پہ باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔ یہ جنگ عوام اور پاکستان کی مختصر فوج کا مشترکہ جہاد کا آغاز تھا۔ گلگت ایجنسی ریاست، ریاست نگر اور ریاست شگر نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔ اور ریاست چترال، گلگت اور شگر کے نیم فوجی دستے بھی عوامی فوج کو مستحکم کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ پونچھ کے باغیوں کو سردار ابراھیم نے منظم کیا اور راجہ ہری سنگھ کی فوج کو شکست دے کر کوٹلی کو فتح کر لیا۔ سردار ابراھیم کو بانی کشمیر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ مورخہ 25 نومبر 1947ء کو میر پور فتح کر لیا۔ عوامی فوج کے لشکر نے 19 جولائی 1948ء کو کارگل فتح کرنے کے بعد لداخ کے مرکزی شہر لیہہ کے قریب تک 213 کلومیٹر کا رقبہ فتح کر چکے تھے۔ بھارتی افواج نے بارہ مولا اور اڑی پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ کارگل اور لیہہ کے ملحقہ علاقوں کو فتح کرنے کے لئے گلگت سکاؤٹس، چترال باڈی گارڈز اور عوامی لشکر نے کمال جوانمردی اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ اس جنگ میں عوام اور سپاہیوں کا اس قدر جوش و خروش تھا کہ ہزاروں مربع کلو میٹر کا رقبہ فتح ہو گیا۔ اس جنگ میں شامل ہزاروں نامعلوم شہریوں کی شہادت ہوئی اور غیر جانبدار ذرائع دعوٰی کرتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً چھ ہزار مجاہدین کی شہادت ہوئی۔ ان شہداء کے ورثاء نے کوئی مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی حکومتِ پاکستان نے شہداء کے ورثا کو پلاٹس یا کسی قسم کی جائیداد گفٹ کی۔ جبکہ سنہ 1965 کی چند روزہ جنگ میں جہاں کشمیر کا کارگل اور لیہہ کے علاقوں کو بھارتی افواج نے چھین لیا اور سنہ 1984 اپریل میں شیاچن گلیشیئر کے 2600 مربع کلو میٹر کے رقبے پر بھی قبضہ کر لیا۔ جبکہ ء1965 کی جنگ کی “مثبت رپورٹنگ” کرتے ہوئے قوم کو بتایا جاتا ہے کہ ہم نے بھارت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔ فتح کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کا 1100 مربع کلو میٹر کے رقبے پر بھارتی افواج کا قبضہ ہو گیا۔

میں اس قول سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ جنگیں فوجیں نہیں لڑتیں، قومیں لڑتی ہیں اور فوجیں اپنی پیشہ وارانہ دی گئی تربیت کی بدولت قوم کی معاونت کرتی ہیں۔ جو فوجیں اپنی قوم کی تذلیل کرتی ہیں وہ اس طرح سے شرمندہ ہوتی ہیں جیسے مشرقی پاکستان میں ذلیل و رسوا ہوئیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ