بریکنگ نیوز

این آر او کی اصل کہانی

maxresdefault.jpg

انجنئر تنویر اختر کی زبانی
…………….
‏یہ NRO آخر تھا کیا؟
“سیلیکٹڈ بابا اور چالیس چوروں” کے صبح و شام جس کے غل غپاڑے نے گزشتہ 10 مہینے سے 22 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے؟؟
جی ہاں؛ دخترِ مشرق شہید محترمہ بےنظیر بھٹو نے وطن واپسی کیلئے کسی سے بھی NRO ٹائپ کی کسی سہولت کا مطالبہ نہیں کیا تھا؛
آپ نے البتہ عالمی سطح پر اس وقت شدت سے محسوس کی جارہی “افغانستان میں جنگ بندی” یقینی بنانے کیلئے؛
بالخصوص اس طویل ترین جنگ کے نقصانات سے اکتائے ہوئے فرانس اور جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ کی “جنگ مخالف لابی” سمیت انٹرنیشنل کمیونٹی کو “پاکستان میں بحالیء جمہوریت کی شرط” پر اپنی خدمات ضرور پیش کیں-
اور پھر جنرل نصیر اللہ بابر کی وساطت سے افغان طالبان کو ان کے ملک میں “آزادانہ اور شفاف انتخابات” کی شرط پر جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے بعد
جب محترمہ کیلئے پاکستان واپسی کیلئے ماحول سازگار ہوگیا تو
امریکہ بہادر نے اس وقت کے پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل مشرف اور سابق وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کے مابین ایک معاہدہ طے کرانے کی کوشش کی؛
مشرف دور کے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی گواہی کے مطابق، اس سلسلے میں، محترمہ کے (صرف) دو مطالبات میں جنرل پرویز مشرف کا وردی اتارنا اور تیسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ پر پابندی ختم کرنا شامل تھے؛
بقول چوہدری شجاعت حسین؛ “مشرف نے وردی اتارنے پر آمادگی تو ظاہر کر دی لیکن تیسری بار وزارتِ عظمیٰ پر پابندی اٹھانے سے انکار کر دیا”-
اور اس طرح کسی “معاہدہ” کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی؛
البتہ عالمی برادری کو مطمئن کرنے کی خاطر جنرل نے یکطرفہ طور پر بی بی اور ان کے شوہر سمیت دیگر (بشمول الطاف حسین اور بہت سے) کے خلاف ایک مخصوص مدت کے دوران دائر مقدمات کے خاتمے پر مبنی “قومی مفاہمتی آرڈیننس” NRO جاری کردیا –
یہی وجہ ہے کہ بعدازاں زرداری گیلانی دور حکومت میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب NRO کے خلاف کیس کی سماعت شروع کی تو
پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے NRO کے دفاع کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی
اور افتخار چودھری نے اس آرڈیننس کو Void Abinitio (جیسے کبھی جاری ہی نہ ہوا ہو) قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا
جس کے نتیجے میں زرداری صاحب سمیت پیپلز پارٹی قیادت کے تمام کیسز دوبارہ کھل گئے
اور زرداری صاحب کو اس طرح باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد تمام کے تمام کیسز میں عدم شواہد (تیکنیکی وجوہات نہیں) کی بنیاد پر “باعزت بری” ہونے کا موقع بھی مل گیا-
قصہ مختصر خواتین و حضرات؛
شہید محترمہ بےنظیر بھٹو (سیلیکٹڈ نیازی کے الزام کے برعکس) کسی NRO کے تحت نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ کے تحت “پاکستان میں جمہوریت اور افغانستان میں امن کی ضمانت” بن کر وطن لوٹی تھیں-
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ؛ NRO محترمہ بےنظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے مابین کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی انڈرسٹینڈنگ کے تحت مشرف کا جاری کردہ یکطرفہ آرڈیننس تھا؛
اور بی بی شہید نے نہ تو اس کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی اس پر دستخط کئے-

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ