بریکنگ نیوز

گالف

GOLF.jpg

تحریر: عبدالرحمن

دنیا بھر میں کسی بھی معاشرے کا وہ طبقہ جسے پیشے کے انتخاب کی سوجھ بوجھ اور ترقی کے زینے طے کرنے کی ضروری صفات کا پہلے سے علم ہوتا ہے اس کی تعداد عام طور پہ کم ہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہمارے ہاں بھی وہ آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ بہرحال اس غم میں ہلکان ہونے کے بجائے آٹے میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے کے نتائج کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ ویسے ہم سے زیادہ اس کا کسے تجربہ ہے کہ نمک سے بھی کم لوگ جس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اور جس انداز میں ان کی تربیت ہوتی ہے وہ افسر بننے سے پہلے ہی افسر ہوتے ہیں۔ یوں عام لوگوں کے لیے مشکل سمجھے جانے والے سفر میں ان کے لیےایسی آسانیاں ہوتی ہیں، جیسے شروع دن سے ہی ان کی راہیں جدا اور منزل کا تعین ہو چکا ہو۔ اس کے برعکس عام آدمی جسے منزل کے تعین کا ہوش تو دور کی بات اپنی خبر تک نہیں ہوتی، وہ تو بس اس ٹوھ میں رہتا ہے کہ جہاں اور جیسے موقع ملے وہیں گھس بیٹھے۔ ہوش آتی ہے تو جو سامنے دکھتا ہے اسے ہی منزل سمجھ لیتا ہے۔ غم روزگار کے مارے ہوئے کچھ بھلے مانسوں کو تو ریٹائرمنٹ پہ کہیں جا کے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے رجحان اور لیاقت کے بالکل الٹ پیشہ چنا۔ یوں بقیہ زندگی خود کو اور نظام کو کوسنے میں گزار دیتے ہیں۔ لیکن ایسے ملنگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں منزل سے اور منزل کو ان سے کوئی غرض نہیں؛ وہ سستی اور کاہلی کو فقیری سمجھ کے وقت گزارنے کا دعوی کرتے ہیں جب کہ اصل میں وقت انہیں گزار جاتا ہے۔

اگرچہ اس کشمکش میں کچھ دیر تو ہو گئی لیکن افسری کے ڈھلتے سالوں میں جب آس پاس دیکھنے کا ہوش آیا تو سمجھ آئی کہ کامیابی کے لیے جیسی استادی اور فنکاری کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے ایک آدھ ایسا کھیل کھیلنا بھی ضروری ہے؛ جو کھیلا کم جاتا ہو اور بولا زیادہ۔ اس نتیجے تک پہنچنے میں کچھ یار لوگوں کے شاہانہ رویے نے بھی بڑی راہ نمائی کی جو موقع چاہے عید میلاد کا ہو یا یوم پاکستان، وہ عام ہجوم سے ذرا ہٹ کے اپنی ڈھوک سجا لیتے ہیں۔ ماحول بھلے سنجیدہ ہی کیوں نہ ہو وہ اپنی موجودگی کا احساس قہقہوں اور خوش گپیوں سے دلاتے رہتے ہیں۔ اکثر ایسے موقعوں پہ محسوس کیا کہ ان کی اپنی ایک الگ پہچان ہوتی ہے، اردگرد کھڑے لوگ تو انہیں بہت توجہ دیتے ہیں لیکن وہ بھولے سے کسی کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔ ان کی شان بے نیازی سے متاثر ہو کر کچھ لوگ ان کے حلقے میں داخل ہونے کے لیے ان جیسا ڈھونگ رچانے میں اپنی بے تکی حرکتوں سے جگ ہنسائی کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ اگرچہ چند ایک کو تو جلدی ہی سمجھ آ جاتی ہے اور وہ معاشرے کی بے انصافی کو لعن طعن کرتے ہوئے جہاں کے ہوتے ہیں وہیں واپس تشریف لے جاتے ہیں۔ جب کہ کچھ اس کوشش میں خود کامیاب نہ بھی ہوں تو کم از کم اپنی اگلی نسل کی غلامی کا سامان ضرور کر جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش کرنے کا خیال آیا لیکن کتا پالنے، سگار پھونکنے یا کچھ اور پینے کے بجائے اس طبقے کے پسندیدہ کھیلوں میں سے کسی ایک میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ ناکامی کا خوف تو تھا لیکن ایک امید بھی تھی کہ شاید کسی طرح احساس کمتری کے بوجھ کے نیچے سے نکل سکوں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ احتیاط کے غالب آنے سے خیال آیا کیوں نہ ایسے کھیل کا انتخاب کیا جائے، جس میں خطرات کم ہوں اور مطلب بھی پورا ہو جائے۔ یوں سب سے پہلے برج کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ لیکن جوں جوں برج کھیلنے والوں سے ملا، ان کی کوشش کے باوجود، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے فلسفے کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہ آئی اور نہ ہی اس دلیل میں کوئی وزن، کہ برج سیکھنے کے لیے لمبے چلے کاٹنے پڑتے ہیں۔ اسے خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا کہ جلد ہی برج کے دو ایسے پہلووں سے متعارف ہوا جن کی وجہ سے اس کا شکار ہونے سے بچ گیا۔ پیشگی معذرت؛ جس بھی برج کے کھلاڑی سے ملا، وہ بظاہر کافی مفلوک الحال دکھائی دیا۔ یقینا اس میں کثرت تمباکو کے علاوہ رت جگوں کا زیادہ قصور ہو گا لیکن جب ان میں سے ایک چیمپیئن نے برج کی چالوں کے بارے میں بتایا تو اندازہ ہوا کہ اس کھیل میں جو بڑا چھوٹ بول کے اس پے قائم بھی رہتا ہے، بازی اسی کے نام ہوتی ہے۔ یوں جتنا بڑا کھلاڑی جھوٹ کی مار شکل پہ اتنی ہی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ جیسے کھیل کے دوران ان شہزادیوں کے ہاتھ میں ہونے کا دعوی جن کا ابھی بٹوارہ بھی نہیں ہوا ہوتا برج کی حد تک تو ٹھیک لیکن گھر میں بیٹھی شہزادی اماں کو کبھی کسی کورس کے لیے پڑھائی کا دھوکہ تو کبھی کسی افسر کے بلاوے کے جھانسے میں راتوں کو غائب رہنا یقینا گناہ گبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔ یوں اگر رت جگے سے آنکھوں کی کچھ چمک اور سگریٹ کے دھوئیں سے چہرے پہ ذرا سی رونق بچ بھی جائے تو احساس گناہ رہی سہی کسر نکال دیتا ہے۔

اگرچہ گھوڑے سے گر کے ہڈی پسلی ٹوٹنے کے ڈر کے باوجود چست پتلونوں، چمکتے بوٹوں، ایڑیوں پہ دمکتی تانبے کی پھرکیوں، دست بستہ کھڑے سائیسوں، ہیلمٹ بغل میں دبائے میلٹ گھماتے شاہ سواروں اور پویلین میں رنگ برنگے چشموں اور برینڈڈ بیگوں کے نظاروں نے بہت شدت سے پولو کی طرف متوجہ کیا۔ لیکن جلد ہی پتا چلا کہ مفت کے سرکاری گھوڑوں کے علاوہ بھی کھلاڑیوں کی شان اور عینک والیوں کی اٹھان کے پیچھے لمبے نوٹ لگتے ہیں۔ چلیں لے دے کے اگر کچھ لوازمات پورے ہو بھی جائیں اور ثابت کر بھی لیں کہ خاندانی نواب ہیں تو بھی گھوڑے کو کون سمجھائے۔ جسے قدرت نے سوار کی پہچان کی جو صفت عنائیت کی ہے وہ تو کئی سو سال پہلے خاندان غلاماں کے بادشاہ قطب الدین ایبک جیسے شہسوار کو پہچاننے سے ثابت ہو چکی ہے۔ جسے بے شک شیر شاہ سوری کی بے وقت موت نے حادثاتی بادشاہ تو بنا دیا لیکن گھوڑے کو کبھی شک نہیں تھا کہ اس کی نسبت غلاموں سے ہے۔ اس کی موت والے دن گھوڑے نے اسے کوئی پہلی دفعہ تھوڑا ہی گرایا تھا۔ اس آگاہی کے بعد یقین ہوگیا کہ ایسے مردم شناس جانور کو دھوکہ دینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ صدر سے عینک خرید کے اپنے ہی جیسے انسانوں کو تو چکر دیا جا سکتا ہے لیکن اوپر والے کی عطا کی ہوئی پہچان کی صفت والے گھوڑے کو ہر گز نہیں۔ مجھے یقین ہو گیا کہ سید ضمیر جعفری بھی ایف سولہ طیاروں کے بہانے مانگے کے گھوڑوں اور ان کے سواروں کے بارے میں فکر مند تھے۔ تبھی تو خبردار کرتے ہوئے کہا:

یا رب ہمارے ہوابازوں کی خیر
ادھارے ہوائی جہازوں کی خیر

ان مسائل کے باوجود آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ایک دفعہ پولو دیکھنے چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں؛ بال میدان میں پھینکنے کے ساتھ ہی کمنٹیٹر نے چکروں کا ذکر شروع کر دیا۔ کھیل کے دوران مسلسل چکر پہ چکرکا لفظ سن کے بہت حیرت ہوئی کہ ایسے وقت میں جب ہر کوئی اس قوم کو چکر دینے کی کوشش میں ہے پولو کھیلنے والے اعلی نسل صاحبزادوں کو اس بدنام زمانہ لفظ کا کوئی اپنے جیسا با عزت متبادل کیوں نہیں ملا۔ گھوڑے کی پہچان کے ڈر سے ابھی جان چھڑا نہیں پایا تھا کہ چکروں سے بدنامی کے خوف نے پولو سے دور کر دیا۔ لیکن اب پیچھے دیکھتا ہوں تو اطمینان اور یقین سا ہے کہ زندگی میں پہلی اور آخری دفعہ خوف سے کچھ فائدہ بھی ہوا؛ وہ اس طرح کہ بیٹا جوان ہوا تو پولو کا شوق اس کے سر چڑھ کے بولنے لگا، روزانہ کسی نہ کسی بہانے اس کا ذکر شروع کر دیتا۔ لیکن اس یقین کے ہوتے ہوئے اسے اجازت کیسے دیتا کہ وہ کھیل سیکھے نہ سیکھے چکر دینا ضرور سیکھ جائے گا۔ کئی سال گزر گئے ایک ہونہار کھلاڑی کے ضائع کرنے کا طعنے وہ بلاناغہ دیتا ہے۔ لیکن دل ہی دل میں کسی بڑے چکر سے بچ جانے کی خوشی میں اس کی وقتی ناراضگی گھاٹے کا سودا نہیں لگتا۔
لے دے کے پیچھے بچا یا بچی گالف جس کا ابھی تک تو یہ فیصلہ بھی نہیں ہو سکا کہ وہ مونث ہے یا مذکر۔ سچ تو یہ ہے کہ کم و بیش 25 سال تک گالف سے اس لیے دور رہا ہے کیونکہ گالف کورس میں سپاہیوں کے کام کرنے پہ اعتراض تھا۔ سوچتا تھا بھلا دن بھر گھاس مارنے والے جوان، دشمن پہ ہیبت کیسے طاری کر پائیں گے۔ وہ تو بھلا ہو جرنل اشفاق پرویز کیانی کا جس نے گالفر ہونے کے باوجود سپاہیوں کے گالف کورس میں کام کرنے پہ پابندی لگا دی۔ یوں، اختلاف کا اخلاقی جواز ختم ہوا تو گالف میں قسمت آزمائی کا سوچا۔ اطمینان قلب کے لیے جلد ہی یہ بھی پتہ چلا کہ پاکستان میں سوائے چند کے سب گالف کورس سرکاری ہیں اس لیے نہ صرف کھیلنا بہت سستا ہے بلکہ چائے پانی بہت مناسب قیمت پہ ملنے کے علاوہ فوجی گالف کورسز میں تو مسری کی ڈلیاں اور پھنی ہوئی سونف بھی مفت ملتی ہے۔ ان حکیمی نسخوں کے پیچھے کیا کہانی ہے اس کی کوئی مستند وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کیونکہ گالف کے سرپرست گوروں سے ان دونوں کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

گالف کھیلنے کا فیصلہ کیا اور ایک پرانے گالفر کے پاس پہنچ گیا۔ گالف کٹ، جوتوں اور کپڑوں کی قیمت سن کے ایسے لگا جیسے اس نے میرے اور گالف کے درمیان اخلاقی اختلاف کی جگہ معاشی مشکلات کی دیوار کھڑی کر دی ہو۔ لیکن قدرت کے بھی تو اپنے الگ ہی فیصلے ہوتے ہیں؛ ایک دن کھاریاں کی سب سے بڑی مارکیٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کی اور ڈرائیور سے آنکھ بچا کے سڑک کی دوسری طرف ایک ضروری کام سے لنڈے بازار جا پہنچا۔ وہاں خان کے پاس جوتوں کا ایک بالکل نیاجوڑا دیکھا تو یاد آیا، ہو بہو اس طرح کے جوتے تو گالفر دوست نے بھی پہنے ہوئے تھے۔ قیمت پوچھی تو وہ بہت مناسب تھی اور امید تھی خان اپنی روایات کا بھرم رکھتے ہوئے مزید کم بھی کر دے گا۔ پھر فوراً سوچ آئی، گالف صرف جوتوں سے تو نہیں کھیلی جاتی، اس کے لیے تو کٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی قیمت لاکھوں میں بتائی گئی تھی۔ لیکن غیبی طاقتوں نے جیسے میرے گالف کھیلنے پہ مہر لگا دی ہو اسی لیے تو ایک دن اتفاقیہ چمن سے ایک جاننے والے افسر کا فون آ گیا اور اس نے شکوہ کرتے ہوئے ذکر کیا کہ وہ کچھ عرصے سے فروغ گالف کے فرائض انجام دے رہا ہے اور روزانہ کئی کٹیں ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کا انتظام کرتا ہے۔ یہ بہت حیران کن اور یقہنا عجیب خبر تھی کیونکہ کسی بھی جمع تفریق سے چمن اور گالف کا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ محدود علم کے مطابق آزادی کے بعد سے چمن شیلا باغ کے راستے کوئٹہ کے بازاروں میں ایرانی کمبلوں، واٹر کولروں اور پلاسٹک کے ڈنر سیٹوں کی وجہ سے مشہور ہے (ایک صدی پہلے گوروں کے دور میں شیلا کہاں سے اور کیسے آئی۔ وہ ایک الگ داستان ہے۔ جب کہ اس کی جوانی کی دھوم تو چند سال پہلے مشرقی ہمسائے کے ہاں مچی)۔ اس نے مزید انکشاف کیا کہ سمگلنگ کے مبارک کاروبار سے منسلک چمن کے خوانین (خواتین نہیں پڑھنا) نے ملک میں گالف عام کرنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے سامان سے بھرے کئی کنٹینر بھی منگوا لیے ہیں۔ خانوں کی کھیل سے بے انتہا محبت ہی کی بدولت چمن میں گالف کٹ اتنے میں مل رہی ہے جتنے میں محترم شبر زیدی کے محکمہ ٹیکس کی سربراہی سنبھالنے کے بعد رانگلا گلی ڈنڈا ملنا بھی ناممکن ہے۔

اس کی کہانی سن کے بجائے ہمدردی کے اظہار میں وقت ضائع کرنے کے فورا پانچ ہزار بھجوائے اور بیگ سمیت گالف کٹ منگوا لی۔ خان سے اڑھائی سو کے Foot Joy کے بالکل نئے جوتے مل گئے، کافی مقدار میں پرانی پولو اور پینٹیں پہلے سے موجود تھیں۔ باقی کی مشکلات گالف کے لباس کے قوانین نے حل کر دیں اور ایسی تمام پولو جو دھوبی کی 14 کلو کی استری کے نیچے پس کے کرتے بن چکے تھے وہ پتلوں میں کیا گھسیں واپس اصل سائز کی لگنے لگیں۔

چمن کے خانوں کی کھیلوں سے محبت اور لنڈے کے تاجر کے بڑے پن سے میں ایک بار پھر سوچنے پہ مجبور ہوا کہ پٹھان کو رکھا ہوا تو پاکستان کے دشوار گزار سرحدی علاقوں میں ہے لیکن ان کے جذبوں کو دیکھتے ہوئے بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ایک نسل کو اس بہت تیزی سے بکھرتی ہوئی قوم کا مرکز ثقل (centre of gravity) کہا جا سکتا ہے تو شاید کوئی بھی ان کے مقابلے کے قابل نہیں ہے۔ اگرچہ ان کی غیرت، دلیری اور سخت جان ہونے کے بارے میں سب کتابیں غیروں نے ہی لکھی ہیں لیکن سوات کی جنگ کے دوران اپنی آنکھوں سے ان کی اعلی نسلی کے کئی مظاہرے دیکھے۔ سستی گالف کٹوں اور جوتوں کا انتظام کر کے اب کھیلوں کے فروغ میں بھی ان کی خدمات سنہری حروف میں لکھنے جیسی ہیں۔

ساڑھے پانچ ہزار روپے میں گالف کا سامان مکمل ہوا اور آخرکار کورس پہ جانے کا مرحلہ آ گیا (اضافی اڑھائی سو کہاں خرچ ہوئے آگے چل کے پتہ چل جائے گا)۔ گالف کورس گیا تو کچھ مشکوک مناظر دیکھ کے ایک بار پھر اپنے انتخاب کے بارے میں شش و پنچ کا شکار ہوا ۔ کیونکہ جہاں بھی گیا پارکنگ میں اچھے خاصے شرفاء کی گاڑیوں کے دروازوں سے چپکے کچھ لڑکے مشکوک انداز میں خفیہ جیبوں سے نکال کے کچھ دیتے ہوئے دیکھائی دیے۔ ایسے کرتوت دیکھ کے بہت غصہ آیا کہ کچھ قابل احترام شخصیات جنہیں روزانہ کئی کئی دفعہ سلام کرتے ہیں وہ بھی شرمناک عادت کا شکار ہیں۔ گالف کورس انتظامیہ کی لاپرواہی اور بے خبری پہ حیرت بھی ہوئی کہ ان کی ناک کے نیچے ایسا دھندا ہو رہا ہے اور انہیں کچھ فکر ہی نہیں۔ چند دنوں بعد بالکل ویسی ہی حرکت ایک لڑکے نے میرے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے چپکے سے کار کے دروازے کے پاس آ کے جونہی شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو بے اختیار اسے کہا، مجھے کبھی سگریٹ پیتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ اسے گھبراہٹ کی وجہ سمجھ نہ آئی اور یکایک مختلف جیبوں سے کئی قسم کی بالیں نکال کے قیمت بتانا شروع کر دی۔ غرضیکہ گالف کیا کھیلنا شروع کی انسانی رویوں کے کئی بہت فرق پہلووں سے واسطہ پڑا۔ جیسے کورس میں اچانک پھولوں کی کیاری سے مالی برآمد ہو اور وہ سلام کے ساتھ مسکرائے بھی تو جان لیں اس کی مسکراہٹ اخلاقی نہیں بلکہ خالصتا کاروباری ہے۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے وہ شلوار میں ہاتھ ڈال کے اضافی بال آپ کے سامنے پیش کر دے گا۔

اگرچہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر بھی اگر گالف کا کھیل دن بدن مقبول ہو رہا ہے تو وہ صرف ان لوگوں کے جذبوں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ لیکن حالات جس ڈگر پہ چل رہے ہیں مستقبل قریب میں بھی ان بے لوث ہستیوں کی خدمات کو تسلیم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ جن کے پاس اختیار ہے ان کی چمکتی دمکتی گالف کٹیں اور ڈبوں سے نکلی تازہ بالیں جو بالآخر کیاریوں سے ہوتی ہوئی شلوار کی جیب کے راستے ہم جیسوں کے گالف کو چلائے ہوئے ہیں، وہ سب تو سیدھی کہیں اور سے آتی ہیں۔ اس لیے ہمارے صاحبان کو ان بے لوث لوگوں کی خدمات تسلیم کرنے سے کیا غرض۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ