بریکنگ نیوز

خارجہ پالیسی کی کامیابی کاراز

new-logoo.jpg

Aamir Shahzad

تحریر:عامر شہزاد
مودی کی سفاکی پر پاکستانی قوم نے 73واں یوم آزادی یوم یک جہتی کشمیر کے طور پر ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے جذبے سے منایا، جب کہ 15اگست کو بھارت کے غاضبانہ عزائم کیخلاف ”یوم سیاہ“ منایا گیا۔کشمیر کے تنازعہ پر بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 اور 1999میں دو جنگیں ہو چکی ہیں۔تاریخ گواہ ہے پاکستان کی سالمیت پر جب بھی حملہ ہواپاکستانی قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ بہادری سے لڑی۔1971 کے بعد ایک بار پھر بھارت نے کشمیر کی جداگانہ اہمیت پر حملہ کرتے ہوئے غاضبانہ قبضے سے اسے اپنی ریاست کا درجہ دے کر نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حدود میں غیر قانونی مداخلت کی ہے۔مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اسی لئے اسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے مگر افسوس ہمارے حکمرانوں اور مقتدر اداروں کی ناقص پالیسیوں سے ہماری شہ رگ عرصہ دارز سے بھارت جیسے مکار اور درینہ دشمن نے دبوچ رکھی ہے۔ مسئلہ کشمیرپر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے21 اپریل 1948ء کو جو قراردادمنظور کی اس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیر سے پاکستانی قبائلیوں کا انخلا، وادی سے ہندوستانی فوج کی واپسی اور جموں و کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک نگراں حکومت کا قیام کی تجاویز رکھی گئی، جو ریفرنڈم کے ذریعے معلوم کرے گی کہ کشمیری پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
کشمیرپر قبضہ کرنا نریندر مودی کا پرانا خواب تھا۔ 2014 ء میں نریند مودی وزیر اعظم کو سادہ اکثریت حاصل ہوئی جبکہ 2019 ء کے عام انتخابات میں مودی نے کھل کراعلان کیا کہ اگر انہیں واضح اکثریت ملی تو وہ آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو حزف کر دیں گے۔مطلوبہ اکثریت ملنے پر مودی حکومت نے 72 سال گزرنے کے بعد بالآخر زبردستی کشمیر پر قبضہ کر لیا اور مقبوضہ کشمیر سے خود مختار ریاست ہونے کا آئینی حق زبردستی چھین لیا گیا۔کشمیر اور لداخ کی صورت حال پر غور کرنے کے لئے سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ملکوں کا خفیہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جو کسی باقاعدہ اعلامیہ کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔ اجلاس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد کو روکنے کے لئے کوئی قدم اٹھاناتو ایک طرف، اس بارے میں کوئی بیان جاری کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ بند کمرے میں منعقد ہونے والے اس خفیہ اجلاس میں چونکہ پاکستان اور بھارت کے نمائندے شریک نہیں تھے اس لئے ان کے بیانات کو عمومی قومی پالیسی کا عکاس ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی حیثیت ٹرمپ کے اس بیان سے واضح ہو جاتی ہے کہ اقوام متحدہ نشستن و گفتن و برخاستن کلب ہے۔کشمیر اور لداخ ایشو پر بھی اقوام متحدہ نے یہی کچھ کیا۔ دنیا میں چین کے علاوہ کسی ملک نے باقاعدہ طور پر پاکستان کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔
سیاست میں ٹائمینگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔اگر حکومت کشمیر ایشو پر سیاسی وابستگیوں کو بالا طاق رکھ کر احتساب کے ڈرامے،اپوزیشن ارکان کی گرفتاریوں کو کشمیر جیسے حساس ایشو پر اہمیت دیتی اور ن لیگ کے مظفر آباد کے ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے احتجاجی اجتماعات کو بھی میڈیا پر دیکھانے میں بغض سے کام نہ لیتی تو ساری دنیا کو پاکستان کے اندر سے سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پیغام بھرپور طاقت کے ساتھ جاتا۔ عمران خان نے اپوزیشن کے خلاف اس کٹرے وقت میں بھی مخالفت کے محاذگرم کر رکھے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتارکرنے اورفریال تالپور کو رات 12بجے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کہا یہ مناسب وقت تھا۔ اپوزیشن خاص کر ن لیگ کامیڈیا پرا تنا شدید بائیکاٹ ہے کہ کشمیر میں ن لیگی وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرجب عمران خان کے ساتھ ہوتے ہیں تو ان کوساری دنیا دیکھتی ہے مگر وہی کشمیری وزیر اعظم اپنی ن لیگی قیادت کے ساتھ مظفر آباد میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں پرنٹ میڈیا پر بھی جگہ نہیں ملتی۔ اپوزیشن کی تذلیل سے بیرونی دنیا کو ہماری سیاسی عدم استحکام جیسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے شائد اسی لئے بھارت نے سینہ تان کر ہمیں پیغام دیا کہ کشمیر ایشو پر پاکستان سے اب بھی بات ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کی طرف کے قابض کشمیر پر،کیونکہ بھارت کی طرف کا کشمیر تو اب ہندوستان کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔
بھارت اس خطے میں امریکا کا طاقتور تھانیدار بن چکاہے،اسی لئے امریکا بھارت کو ہر طرح سے مضبوط بنانے میں اس کی جائز و ناجائز باتیں مان رہا ہے۔لیکن افسوس پاکستانی قیادت امریکا کو ہر دور میں اپنا خیر خواہ اور ”ثالث“ سمجھنے کی غلطی کرتی آئی ہے۔حالیہ کشمیر ایشو سے پہلے عمران خان نے بھی امریکہ کی خاطر ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے سلامتی کونسل کی نشست کے لیے ہندوستان کی حمایت کی، پاکستان کی فضائی حدود کو ہندوستانی طیاروں کے لیے کھولنے کے علاوہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو دہشت گردوں کا سہولت کاربنا کرواشنگٹن اور دہلی کو اپنے اخلاص کا یقین دلایا گیا۔
صدر ٹرمپ کا کشمیر ایشو پر ثالث بننے کے بیان پرعمران خان نے کہا تھا کہ اگر امریکی صدر کی کوششوں سے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کم ہوجائے تو خطے کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ صدر ٹرمپ کو دعائیں دیں گے۔ایک ایٹمی طاقت رکھنے والا مضبوط دفاع کے حامل ملک کے وزیر اعظم کواپنے ملک کی سلامتی کے ایشو پر اس طرح کمزور انداز سے بات کرنا زیب نہیں دیتا۔سفارتی محاذ پر کامیابی کے لئے کیا ہمیں اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے مستقل ممبر ممالک کا ہنگامی دورہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ شوکت خانم فند ریزننگ کے لئے اگرحکومت کے وزراء اورسینئٹرز دنیا کے دورے کر سکتے ہیں تو پاکستان کے لئے ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔کیا یہی راز ہے خارجہ پالیسی کی کامیابی کا؟۔تحریک انصاف کو 2018کے انتخابات میں 22کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک کروڑ ستر لاکھ لوگوں نے ووٹ دئے ہیں۔عمران خان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ تحریک انصاف کے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ملکی مفاد میں اہم ایشوز پر اپوزیشن کو ساتھ لے کر فیصلے کرنے چاہیے۔پچھلے کئی سالوں سے ہمیں اس تلخ حقیقت کا سامنا کہ اگر آپ کے ایک ہاتھ میں ایٹم بم اور دوسرے ہاتھ میں کشکول ہے تو دنیا آپ کے ایٹم بم کو شب برات پرچلنے والے پٹاخے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ