بریکنگ نیوز

میری بغض سے بھری تحریر!!!

ادھورا کالم
تحریر: سعد مدثر

آج قریب ایک سال کے بعد الفاظ کو جوڑنے کی دوبارہ کوشش کر رہا ہوں، اس دوران کافی دفعہ تحریر تو کیا پر صرف اپنی ذات کے لئیے۔ کہ میرا ماننا ہے ہر موقع پر اپنی سوچ دوسروں کے سامنے کھول کر نہیں رکھ دینی چاھیئے ، تحریر مشاہدہ مانگتی ہے اور جب آپ اپنی سوچ سامنے رکھ دیں تو سامنے والا آپ کی سوچ کے مطابق ہی آپ کو مشاہدہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
میں زباں سے ادا ہوئے الفاظ سے رقم ہوئے الفاظ کو تا دیر اور مہر سمجھتا ہوں۔ اس لئیے بھی تحریر کو اپنے ساتھ رکھنا زیادہ پسند ہے، الفاظ جو رقم ہو جائیں وہ تحریر لازمی نہیں تمہید کے ساتھ ہو، وہ بس ایک جملہ پر بھی محیط ہو سکتے ہیں۔
میں چونکہ عملی طور پر حکومتِ وقت کے ناقدین کا نا صرف ہامی ہوں بلکہ وقتا فوقتا ان کے تجزیے کی روشنی میں ان جملوں میں اپنے الفاظ کی امیزش کر کے آگے بڑھانا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ ہاں میں بھی ناقد ہوں کہ مسلسل تعریف اور مستقل حمایت آپ کو اطمینان کی طرف لے جاتی ہے اور اطمینان مزید کی تگ و دو کا سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔
گزشتہ دو دن سے ہر فورم پر وزیراعظم عمران خان صاحب موضوعِ گفتگو ہیں، زہنی ہم آہنگی والے حضرات اُن کی تقریر کو خطبہ حجة الوداع کے بعد سب سے اعلیٰ تقریر گردانتے ہیں تو ناقد اس کو جذبات سے بھرپور مگر عمل سے دور نظریات شمار کرتے ہیں۔
تمہید کو طویل کرنا قاری سے بدسلوکی ہے سو سیدھا موضوع پر آتا ہوں۔وزیراعظم صاحب کی یو این کے اجلاس میں شرکت اور تقریر۔اول تو خان صاحب نے اس تقریر کو کرنے میں ایک سال کا وقت لیا کہ پچھلے سال آپ نے اجلاس کو شرکت کے قابل ہی نہ سمجھا۔اور جب ایک سال بعد تقریر کی تو یہیں ایک سوال اُٹھتا ہے کہ خان صاحب نے یو این کے اجلاس میں رقم کیا کیا؟ الفاظ تو ادا ہو گئے، جذبات کی ترجمانی بھی ہو گئی، پر رقم کیا کیا؟ ۔ تو جناب اس کا جواب ہے حاصل وصول صفر۔ زبان سے سب ادا ہو گیا پر تحریری طور پر کشمیر کا مسئلہ میز پر لانے میں ناکام۔ بات کشمیر سے شروع کی کہ اس اجلاس میں شرکت کی سب سے بڑی وجہ یہی بتائی گئی تھی۔

دوسرا موضوع تھا اسلام، وزیراعظم صاحب ایک ہی وقت میں ملاں اور مجاہد بھی بنے جب انہوں نے پہلے اسلام کے بارے میں ایک ملاں بن کر سمجھایا اور پھر کلمہ پڑھ کر مجاہد کی طرح آخری سانس تک لڑنے کا اشارہ دے دیا۔ جذبات کی ترجمانی تک یہ سب اچھا تھا۔ پر دوسری طرف آپ کا فعل آپ کے الفاظ کے منافی تھا جو کہ زبانی الفاظ نہیں تھے بلکہ رقم ہو گئے، یمن کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف آپ کا ووٹ۔
باقی دو موضوعات پر جو آپ نےجو فرمایا وہ میری تحریر کے لئیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ۔
یہ تو تھا خان صاحب کی شرکت کا مختصر احوال، اب بات کرتے ہیں اُن الفاظ کی جو خان صاحب کے متوالے سوشل میڈیا پر رقم کر رہے ہیں، دنیا میں کوئی بھی سیاسی کارکن آپ کو خان صاحب کے سپورٹر سے کم تر نظر نہ آئے گا کہ یہ صرف اپنے لیڈر کے کالے چشموں اور نظر سے ہی احوال ریکھتے ہیں۔ اور جو یہ متوالے رقم کر رہے ہیں اخلاق سے گری زبان استعمال کر کے۔۔۔ چھوڑو رہنے دو پھر سہی۔۔ اگر بات آگے چل کر غیر اخلاقی الفاظ کی طرف بڑھنے لگے تو ادھوری تحریر ہی مناسب ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ