بریکنگ نیوز

مستقبل کا پاکستان

6lYVAcqT.jpg

تحریر: حسن فاروق

آفات ایک لمحے میں رونما نہیں ہوتیں۔ آفات سے بچاؤ و بحالی کے ماہرین کے مطابق اب فطرت تباہی یا آفات کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ مسلسل ہونے والے قدرتی عمل نہیں ہوتا بلکہ انسانی متحرکات، افعال اور سرگرمیاں جو قدرتی عمل میں دخل اندازی کرتے ہیں کرہ ارض پر تباہی کا باعث بنتی ہیں وبائی امراض کے مائکرو جرمز ہمیں مسلسل پرانی اور نئی شکلوں کے ساتھ متاثر کررہے ہیں۔ چند ایسے ہیں جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ممکنہ خطرات کی نگرانی، تشخیص اور وبا کے جواب دینے میں کتنی تیاری کئے ہوئے ہیں۔
سمندری طوفان ، زلزلے ، لینڈ سلائیڈنگ، وبائیں، قحط، سیلاب اور آتش فشاں جیسی ماحولیاتی اور قدرتی سرگرمیاں ہمہ وقت جاری رہتی ہیں۔ یہ تمام قدرتی اعمال تو ہیں مگر آج کل کے جدید دور میں ان میں سے کسی کو بھی قدرتی آفت نہیں کہا جاسکتا۔ آفات قدرتی نہیں بلکہ انسانی انتخاب کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ معاشی، سماجی متحرکات کے ساتھ ساتھ خطرات کی نشاندہی آفات کی روک تھام و تغفیف جیسی پیشگی حکمت عملی کی کمی و اصل وجوہات ہین جو ایسے سانحات کا سبب بنتی ہیں۔
بحران ہمارے سماج کی کمزوریوں، موجودہ خطرات، غیر مؤثر حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں تذبذب کو بے نقاب کرتے ہیں جو کہ عام حالات میں ظاہر نہیں ہوتے۔ ہماری تاریخ انسانی المیوں سے بھری پڑی ہے۔ کرونا وائرس کی وباء نہ تو پہلا المیہ ہے اور نہ ہی یہ آخری ہوگا۔
کرونا کے بحران کے بعد نارمل کیا ہے؟ انہی حالات میں واپسی جو پہلے تھے؟
کیا ہم نے وہی نظام بحال کرنا ہے جو آج ہمیں یہاں تک لایا ہے یا کوئی بہتری بھی لانی ہے؟
آفات ہماری سوچ، رہن سہن اور مستقبل کی پیشگی تیاری کو مزید پختہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ انفرادی سطح پر تو ہر عقلمند انسان ہی کرتا ہے۔
مگر کیا حکومتیں اور کمیونٹی کی سطح پر بھی ہم مستقبل کی آفات کی تیاری کرتے ہیں؟
کیا ہم پر آنے والی آفات کا مقابلہ ایسے ہی کریں گے؟
آفات اور ہنگامی حالت سے نپٹنے کو چار بڑے مرحلوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ہر ایک مرحلہ کی اپنی اہمیت ہے۔
1۔ آفات کی روک تھام اور تغفیف۔
2۔ تیاری جس میں آپریشنل تیاری اور ہم آہنگی شامل ہے ۔
3۔ رسپانس، جس میں تباہی کے مطابق مربوط ریسکیو اور ریلیف کا آغاز۔
4۔ طویل مدتی بحالی، تعمیر نو اور دیرپا منصوبہ
پاکستان نے ہمیشہ آفات سے نمٹنے کے لئے ردعمل کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا مطلب سانحہ وقوع پذیر ہونے کے بعد ہوش آتا ہے۔ ہماری آفات سے نپٹنے کی صلاحیت اس لئے بھی کم ہے کہ ہمارا سارا نظام امدادی کاروائیاں تک ہی محدود ہے اگر طویل مدتی اقدامات میں ان وجوہات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کمیونٹئی آفت کا شکار ہوئی تھی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ متاثر کمیونٹی پھر سے کسی آفت کا شکار نہ ہو اور پہلے سے زیادہ نقصان بھی اٹھائے۔
ہمارا عمومی رویہ ایک آگ بھجانے والے عملے کی طرح ہے جو ہر لگنے والی آگ کو جلد یا بدیر بھجا تو دیتے ہیں مگرآگ لگنے کی وجوہات ختم نہیں کرپاتے۔ نتیجہ میں ہر بار صرف آگ بجھانے والی امدادی کاروائیوں کو ہی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ کرونا وبا ء غیر معمولی ضرور ہے مگر غیر معمولی کی تکرار ہمارے آفات سے نپٹنے کے نظام کی کمیوں اور قیادت کی کوتاہیوں کی حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ جنوبی کوریا، تائیوان، نیوزی لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک کی موجودہ وباء میں کامیابی، آفات کی روک تھام اور مستقبل کی تیاری، مربوط ریسکیو ریلیف اور طویل مدتی بحالی کے مراحل پرپہلے سےمنصوبہ سازی اور وسائل کی فراہمی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی ہے۔
مستقبل کی تیاری کے لیے پاکستان کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے ہوں گے۔
وسائل کے شعبے میں طبی اور سائنسی آلات اور افرادی قوت کی کمی کو دور کرنا۔
آفت کے اسباب کو سمجھنا اور دور رس اقدامات کر کے مستقل بنیادوں پر حل کرنا۔
طویل مدتی اقدامات مقامی حکومتوں اور کمیونیٹیز کے کردار کو اور اشتراک کو بڑھانا۔
مرکزی طور پر پالیسی اور منصوبہ سازی کے بجائے متاثرہ کمیونٹی کو ساتھ ملانا اور قیادت دینا۔
رضا کاروں اور رفاہی اداروں کو ایک چھتری کے نیچے منظم کرنا۔
موجودہ اور مستقبل کے خطرات کی مسلسل نشاندہی، اندراج اور آگاہی۔
تحقیق میں جامعات کے کردار کر بڑھانا ہوگا۔
پاکستان میں آفات سے نپٹنے کے پورے نظام کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ نظام کو فرسودہ اور مرکزیت پسند طریقے کے بجائے شہری سطح پر لے کر جانا ہوگا۔
جامعات کو آفات پر تحقیق کو تیز کرنا اور حکومت کو وسائل کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔
مگر ان سے پہلے موجودہ وبا ء میں جامع حکمت عملی کے فقدان کا فیصلہ سازی میں تذبذب اور بلاجواز تاخیر، صوبوں اور وفاق میں رابطوں کے فقدان جیسے پرانے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔
اگرچہ پاکستان کے سیاسی اور معروزی حالات کا موازنہ کسی دوسرے ملک سے ممکن نہیں تاہم دوسرے ممالک کی پیشگی تیاروں سے سیکھا جاسکتا ہے غیر معمولی حالات اگر سیکھنا اور تیاری نہیں ہے تو مستقبل کی آفات اس سے بھی شدید ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو مالی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باوجود بھی مستقبل کے لئے پیشگی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ