بریکنگ نیوز

پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اور ان کے مسائل

BA9F938A-2CB3-466B-A56C-0CCE82D7BDD6.jpeg

تحریر : عظمت ملک

دو ہزار پانچ میں روزنامہ صحافت اور پھر روزنامہ اذکار سے باقاعدہ صحافت کا آغاز کیا تو اس وقت میڈیا کے نظریات اور میڈیا کے مسائل سب مختلف نوعیت کے تھے لیکن جیسے جیسے میڈیا ترقی کرتا گیا میڈیا کے نظریات ختم ہوتے گئے اور مسائل بڑھتے گئے یہ مسائل کسی بھی طرح میڈیا مالکان کے مسائل نہ تھے یہ مسائل حقیقی صحافیوں کے مسائل تھے جو بڑھتے ہی گئے اور یہاں تک کہ نوبت یہاں پر پہنچ گئی ہے کہ اب صحافیوں کے حقوق کی باتیں تو بہت دور رہ گئی ہیں اب تو تنخواہ کی ادائیگی اور نوکری کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح اور مسئلہ ہے ، یعنی کہ آپ صحافی ہیں اور آپ کو صحافت ہی نہ کرنے دی جائے تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے
دو ہزار پانچ کے بعد عملی صحافت کا حصہ بنا تو اس وقت بہت زیادہ الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا ، جیو ، اے آر وائی ، ایکسپریس ، آج ٹی وی وغیرہ ہی تھے جبکہ اخبارات میں بھی جنگ نوائے وقت اوصاف خبریں کے علاوہ ایکسپریس کا اضافہ ہوا تھا ، اس وقت صحافیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی وقت پر ہوتی تھی بے شک تنخواہیں بہت کم تھیں لیکن صحافیوں کا گزارا اچھا ہو رہا تھا پھر پریس کلب کی انتظامیہ کی محنت رنگ لائی اور صحافیوں کو زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ اور خواب پلاٹ کی صورت میں مل گیا اس وقت صحافیوں کے یہی مسائل تھے کہ پلاٹ اور نوکری کا تحفظ اور تنخواہوں میں اضافہ ، جس کے لیے ویج بورڈ کا معاملہ بھی سامنے آیا
اس وقت صحافیوں کو یہ بھی فکر ہوتی تھی کہ ان کی خبر کی وجہ سے ان پرکوئی مشکل آن پڑی تو کون ساتھ دے گا ، صحافتی تنظیمیں اور پریس کلب بہت متحرک تھے اور کسی صحافی کو کوئی فون پر بھی گالی دے دیتا تو چھوٹے سے میلوڈی میں واقع دو کمروں کے پریس کلب کے باہر احتجاج شروع ہو جاتا اور صحافیوں کا آپس میں اتفاق بھی مثالی تھا جو پریس کلب کے الیکشن کے دوران ایک دو ہفتے کے لیے مقابلہ کی فضا اختیار کرتا لیکن اس کے بعد پھر صحافیوں کے حقوق کے لیے الیکشن سے دو دن بعد ہی سب ایک بینر تلے اکھٹے ہو جاتے
تنخواہیں کم تھیں سہولیات کم تھیں لیکن اخبارات کے دفاتر میں ہر وقت رونق لگی رہتی اخبارات کے دفاتر کی کینٹین پر ہمیشہ رش لگا رہتا کبھی کس اخبار سے کوئی دوست آیا کبھی کون مہمان ۔۔۔۔۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا ۔۔۔۔
اس وقت ہر رپورٹر کا خواب تھا کہ وہ ایکسپریس اخبار میں جائے وہاں تنخواہ اچھی تھی انشورنس تھی دفتر اچھا تھا پک اینڈ ڈراپ تھی کمپیوٹر پر خبریں بنتی تھی اور تھوڑا سا جدید ماحول تھا ۔۔۔
پھر پاکستان میں الیکڑانک میڈیا کا شور اٹھا ، کاروباری شخصیات نے دیکھا کہ ہر برے کام سے بچنے کا واحد رستہ میڈیا ہی ہے اور اس طرح کاروباری شخصیات کے چینل اور اخبارات دھڑا دھڑ مارکیٹ میں آنے لگے ، صحافی بیس ہزار کی تنخواہ لے رہے تھے تیس کی آفر ملی وہاں چلے گئے جو پیدل تھا اس نے موٹر سائیکل خرید لیا جس کے پاس موٹر سائیکل تھا اس نے گاڑی لے لی ، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آئی
لیکن کسے پتہ تھا کہ یہ چند سالوں کی تبدیلی اور چند سالوں میں تنخواہوں کی مد میں حاصل ہونےوالے چند لاکھ روپے ان کے تمام حقوق سلب کر لیں گے ان کی تمام صحافت اور اس پیشہ کی ایمانداری اور ذمہ داری کو کھا جائیں گے اور ان کے حقوق تو دور ان کی زندگی کو بند گلی میں لا کھڑا کریں گے
اس وقت ہمارے کتنے اینکر ہیں جو صرف اس وجہ سے نکالے گئے کہ ان کے پروگرام سے حکومت یا کسی شخصیت یا ادارے کو مسئلہ تھا کتنے رپورٹر مالی بحران کی وجہ سے نکالے گئے کتنے سب ایڈیٹر مالی بحران کی وجہ سے فارغ کیے گئے کتنے پیج میکر ، پروف ریڈر ، سب ایڈیٹر ، میگزین سٹاف اور رپورٹر نوکریوں سے فارغ ہوئے اور جو اس وقت نوکریاں کر رہے ہیں وہ کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں
جو کام کر رہے ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ تنخواہ نہ بھی دیں کہیں نوکری سے نہ نکال دیں ، یہ حالات کیسے پیدا ہوئے گزشتہ تقریبا دس سالوں میں میڈیا کے یہ حالات صرف اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ میڈیا مالکان نے صحافیوں کو استعمال کیا ہر بڑے کاروباری شخصیت نے اپنا ٹی وی اخبار نکال لیا پھر اس کے بعد دھڑا دھڑ وہ صحافی ایک ایک لاکھ یا پچاس ہزار ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیے جو فیلڈ کے منجھے ہوئے رپورٹر تھے ۔۔۔۔ چند ماہ کام کرایا پھر کوئی بھی چھوٹی سی بات پر نوکری سے فارغ ۔۔۔۔۔ اور پھر اشتہارات کی کمی کا بہانہ اور حکومت کی طرف سے دباو کا مسئلہ اور ایسے جواز جو سمجھ سے بالا تر ہیں ان کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ
ایکسپریس گروپ نے سینکڑوں لوگوں کو فارغ کیا مالی بحران کی وجہ سے ۔۔۔۔ کیا سلطان لاکھانی صاحب کو بھی کوئی مالی بحران پریشان کر سکتا ہے ؟ جنہوں نے جب ایکسپریس شروع کیا تو یہ ان کی سویں (ایک سو) ملٹی نیشنل کمپنی تھی ۔۔۔۔ کیا دنیا گروپ کے میاں عامر کو کوئی مالی بحران پریشان کر سکتا ہے کہ انہوں نے تنخواہوں میں کٹوتی اور سینکڑوں لوگوں کو ادارے سے نکالا ۔۔۔۔۔ کیا ملک ریاض آپ نیوز والے ڈیڑھ دو سو بندوں کو تنخواہ نہیں دے سکتا ، جو سپریم کورٹ کو جرمانے کی مد میں چار سو ارب روپے دے رہا ہے وہ دوچار کروڑ روپے نہیں دے سکتا ان ورکروں کو جنہوں نے کئی ماہ سے دن رات محنت کی
یہ سب جھوٹی اور مصنوعی دنیا ہے جہاں یہ میڈیا کے بڑے بڑے ادارے قائم ہو گئے ہیں اب صحافیوں کا بھی آپس میں اتفاق نہیں رہا اب پریس کلب کے الیکشن کی دشمنی سارا سال چلتی ہے اب کسی صحافی پر حملہ ہو تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس گروپ کا ہے اب صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کا ورکر بنا دیا گیا ہے اب صحافیوں کو حکومت اور میڈیا مالکان نے مل کر یو ٹیوب تک محدود کر دیا ہے
ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم پھر سے سب اکھٹے ہوں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوں سب رپورٹر ، سب ایڈیٹر ، اینکر ، تجزیہ نگار ، کالم نویس اور میڈیا کے دیگر ورکر اکھٹے ہوں اور صرف ایک مقصد ہو کہ انہوں نے اپنے جائز حقوق لینے ہیں چاہے وہ میڈیا مالکان ہوں یا چاہے وہ حکومت ہو یا چاہے وہ کوئی
ادارہ ہو ۔۔۔۔۔
اس وقت ہمیں ایک نئے اور منفرد پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو صرف میڈیا ورکروں کے لیے کام کرے ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ