بریکنگ نیوز

کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے امریکی جمہوریت حقیقت عیاں کر دی

13-2.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ کورونا وائرس کا وبائی مرض دنیا بھر کے ممالک میں خوفناک حد تک تیزی سے پھیل رہا ہے دوسری جانب کرونا وائرس کے باعث امریکہ کی صورتحال ابھی بھی تشویشناک ہے، امریکہ کے حالیہ جاری اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں ابھی تک کورونا وائرس کے 1.64ملین مثبت مریض سامنے آ چکے ہیں اور 90,000ہزار سے زائد افراد کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت ہو چکی ہے۔ تاہم ابھی بھی کچھ امریکی سائنسدان سیاسی مسابقت اور ایک دوسرے پر زمہ داری عائد کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں، جس کے باعث آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے ردعمل میں انتہائی غیر زمہ دارکا مظاہرہ سامنے آ رہا ہے، اور اس امر کوبھی امریکی معاشرے کی طرف سے بھی ایک تباہ کن ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، سوچنا یہ ہے کہ ایک وبائی مرض کے بیچ و بیچ کیا کرنا چاہیے آیا زندگیوں کو فوری طور پر اس وبا کے مقابلے میں بچایا جائے یا معاشی کارکردگی کو آگے بڑھایا جائے، کونسا امر زیادہ اہم ہے ووٹ یا عوام، اور یہ زیادہ سخت انتخاب نہیں ہے، تاہم امریکی سیاستدانوں کے غیر زمہ درانہ رویوں کے باعث نا صرف امریکی عوام کی صحت کے عوامل متاثر ہو رہے ہیں بلکہ عالمی سطع پر اس وبا کے پھیلاؤ کے بھی زمہ دار ٹھہرائے جا رہے ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے امریکی اقدامات نے امریکی جمہوریت کے بنیادی رنگوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کا احترام کرنے کی بجائے انہوں نے خود غرض سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی، اور بے بنیاد انداز میں یہ دعوی کیا گیا کہ کرونا وائرس کے سبب بڑے پیمانے پر مینو فیکچرنگ امریکہ کی جانب لوٹ سکتی ہے، اور گھر سے وائرس نمٹانے کے حوالے سے بے بنیاد دعوے کیئے گئے کہ امریکہ میں کرونا وائرس ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے امریکی سیاستدانوں کی بے حسی اور سرد مہری کا انکشاف ہوا ہے، اور امریکی سیاستدانوں کے جاری بیانات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ جمہوری روایات کے یکسر مخالف جا رہا ہے، امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کیساتھ ہی کچھ امریکی سینٹرز نے اپنے اسٹاک حصص فروخت کرد یئے اور عوام میں کرونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے منفی عوامل کو اجا گر کیا گیا،، ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی امراض کا سامنا کرتے ہوئے امریکی صدر اور کچھ امریکی سیاستدان اپنے زاتی مفادات کو امریکی عوام کی زندگیوں سے بالاتر رکھتے ہیں جس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ کس طرح سے وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے اور امریکی عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں۔ کورونا وائرس کسی طور سے ایک نظریئے کی بات نہیں ہے، اور اس وائرس کو تبھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے جب سائنسی بنیاد پر اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیئے جائیں گے۔ لیکن موجود صورتحال میں امریکی سیاستدان سیاست کو سائنس پر ترجیع دے رہے ہیں اور خود غرضی کے مفادات کو انسانی جانوں پر ترجیع دی جا رہی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پال کرو گمین نے کہا ہے کہ امریکی ماہرین کورونا وائرس کے آغاز سے ہی اسے کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں لیکن ان کے تمام تر کام کو سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں بایؤ میڈیکل ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے بعد سے سائنس اور سیاست کے حوالے سے سیاست کو ترجیع دیئے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کشادگی سے متعلق امریکی فریم ورک کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے اقدامات کبھی بھی روشنی نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ یہ بہت مفصل ہیں۔ امریکہ کے متعدی امراض کے ماہر انتھونی فوکی نے کہا ہے کہ جلد بازی میں معاشی عوامل اور اسکولز کو کھولنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا،، ایک ایسا جمہوری نظام جو خود غرض سیاسی فواید کو ٹھوس سیاسی حقائق اور لوگوں کی زندگیوں پر ترجیع دے اسے کبھی بھی قابلِ دید نہیں سمجھا جا سکتا، روایتی طور پر مئی کو امریکی معاشرے میں ایک پرانے مہینے کے حوالے سے سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت سینئر سٹیزنز کی دیکھ بھال اور مدد کے حوالے سے جو کچھ بھی کر سکتی ہے اسے کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ کچھ امریکی سیاستدانوں نے غیر انسانی طور پر سفارش کی کہ معیشت کی خاطر بوڑھے افراد اپنی جانوں کی قربانی دیں، امریکی معاشرہ جو خود کو جمہوریت کا علمبردار اور انسانی حقوق کا رول ماڈل سمجھتا ہے، الفاظ اور اعمال کی عدم مطابقت اور انتہائی منافقت کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے،اس حوالے سے امریکہ کے حالیہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ امریکہ میں غریب اور سفید فام لوگوں کے مابین کورونا وائرس سے متاثر افراد کی اموات کی شرح دیگر نسلی گرہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اگر آپ اعلی آمدنی کے حامل افراد ہیں تو آپ کئی مرتبہ ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، اس حوالے سے میڈیا سے انٹرویو کے دوران بلِ اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئرمین نے کہا ہے کہ اگر آپ کی آمدنی کم ہے تو آپ ان ٹیسٹس کی جانب کبھی راغب نہیں ہوتے۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ امریکی انسانی حقوق صرف دولتمند ہی حاصل کرتے ہیں اور اس معاشرے میں جمہوریت صرف امیروں کا کھیل ہی ہے۔ امریکی جمہوریت میں بیشتر مسائل ایک طویل عرصے سے موجود رہیں ہیں لیکن کرونا وبا نے ان مسائل کو سب کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ اپریل میں محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے پرنسپل ڈپٹی انسپکٹر جنرل کرسٹی ایک گریم نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں امریکہ میں ہسپتالوں میں موجود طبی سامان کی کمی کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں، اس دستاویز نے واشنگٹن کی صحت کے حوالے سے پالیسز کو سب پر عیاں کر دیا ہے۔ جس کے بعد انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے ہنگامہ خیز پھیلاؤ کے بعد سے متعدد عہدیداروں کو انکے عہدوں سے بر طرف کیا جا چکا ہے، اور انہیں صرف اور صرف سچ بولنے اور واشنگٹن سے اختلافِ رائے رکھنے پر ان کے عہدے سے ہٹھایا گیا ہے۔ اور اسکی اصل اور بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ امریکی سیاست پیسوں اور ووٹوں سے چلتی ہے۔ جمہوریت کسی بھی جگہ پر ایسے لوگوں میں نہیں پائی جا سکتی ہے جو مختلف تاریخی اور ثقافتی پسِ منظر رکھنے والے ممالک میں مختلف ہے، لیکن جمہوریت کو عوام کے بنیادی مفادات کو یقینی بنانا چاہیے۔ چاہے وہ لوگ ملک میں کوئی بھی حیثیت رکھتے ہوں، حقائق نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ ایسا دعوی کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ ایسے ملک میں جمہوریت موجود ہے جہاں سیاستدانوں کے زریعے میکنزیم اور فصاحت امیز الفاظ کی ایک مکمل سیٹ موجود ہو، لیکن عوام اور لوگوں کے لیے کوئی احترام موجود نہیں ہے۔ ہم بعض امریکی سیاستدانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ متکبر اور متعصبانہ رویوں سے دور رہیں اور امریکی جمہوریت کی کمزوریوں کو دوسروں پر عیاں کرنے کی بجائے ملک کے سامنے آنیوالے حقیقی بحرانوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور اسی امر میں امریکہ اور دنیا دونوں کی بھلائی شامل ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ