بریکنگ نیوز

پنجاب کے وزیر اطلاعات کی پروفیسر وارث میر کے خلاف ھرزہ سرائی

WhatsApp-Image-2020-06-05-at-7.56.02-PM.jpeg

ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری حارث خلیق پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین عابد ساقی کونسل آف پاکستان نیوزپیپرزا یڈیٹرز کے صدر عارف نظامی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی سمیت صحافیوں ، ادیبوں اور شاعروں کی بڑی تعداد نے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے ایک حالیہ ویڈیو بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے معروف دانشور اور صحافت کے استاد پروفیسر وارث میر مرحوم پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے انہیں غدار وطن قرار دیا اور انکے خاندان کے خلاف نفرت پھیلا کر انکی جان و مال کے لئے خطرات پیدا کرنے کی کوشش کی پنجاب کے وزیر اطلاعات کا یہ بیان دراصل جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی حامد میر کی طرف سے ایک ٹی وی پروگرام میں شوگر کمیشن انکوائری رپورٹ کے تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب پر تنقید کے خلاف تھا لیکن وزیر اطلاعات اپنے باس پر حامد میر کی تنقید سے اتنے آگ بگولا ہوئے کہ انہوں نے 33 سال قبل وفات پانے والے پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دے ڈالا جن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان انہیں 2013 میں ہلال امتیاز سے نواز چکی ہے فیاض الحسن چوہان کی بے خبری کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وارث میر نے 1971 میں مکتی باہنی کی حمائت کی اور بنگلہ دیش جا کے حسینہ واجد سے ایوارڈ وصول کیا وزیر اطلاعات کو یہ معلوم نہیں کہ وارث میر 1971 میں پنجاب یونیورسٹی میں استاد تھے اور حکومت کی منظوری سے طلبہ کا ایک وفد لیکر ڈھاکہ گئے تھے تا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں پل بن سکیں جس کی گواہی اس وفد میں شامل حفیظ خان اور جاوید ہاشمی دے چکے ہیں اور بنگلہ دیش حکومت نے بھی اسی کوشش کا اعتراف کیا وارث میر 1987 میں انتقال کر گئے اور انہوں نے کبھی بنگلہ دیش جا کر ایوارڈ وصول نہیں کیا تھا انہوں نے کبھی مکتی باہنی کی حمائت نہیں کی جہاں تک فوجی آپریشن پر تنقید کا تعلق ہے تو اس آپریشن کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے بھی مخالفت کی تھی جو بعدازاں پاکستان کے وزیر خارجہ بنے فوجی آپریشن پر تنقید سے کوئی غدار نہیں بن جاتا 1971 کے فوجی آپریشن کے بارے میں ایسی تنقید موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے ٹی وی انٹرویوز میں کر چکے ہیں صوبائی وزیراطلاعات نے اپنے بیان میں یہ بھی تسلیم کر لیا کہ گذشتہ سال صوبائی حکومت نے پنجاب یونیورسٹی کے قریب وارث میر انڈر پاس کا نام اس لئے تبدیل کیا کیونکہ صوبائی حکومت حامد میر سے خوش نہیں تھی صوبائی وزیر حامد میر پر تنقید ضرور کریں لیکن تنقید اور دھونس و دھمکی میں فرق ہونا چاہئیےلہذا ہم انکےاس بیان کو آزادئ اظہار پر حملہ سمجھتے ہیں اور وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پنجاب کے وزیر اطلاعات کی طرف سے وارث میر پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا نوٹس لیں یاد رہے کہ بنگلہ دیش حکومت نے 2012 میں صرف وارث میر نہیں بلکہ فیض احمد فیض، حبیب جالب، ملک غلام جیلانی، غوث بخش بزنجو اور دیگر پاکستانیوں کے لئے فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ کا اعلان کیا تھا پنجاب حکومت نے ان میں سے کسی کو غدار وطن قرار نہیں دیا کسی کے نام پر انڈر پاس اور سڑک کو تبدیل نہیں کیا صرف وارث میر انڈر پاس کا نام بدلا صرف انہی پر غداری کا الزام لگایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب حکومت کا اصل مسلئہ وارث میر نہیں حامد میر کی صحافت ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ