بریکنگ نیوز

امریکی سیاستدانوں کی جانب سے چین کوکرونا وائرس کے حوالے سے فرضی قصور وار ٹھہرانے کا مضحکہ خیز عمل حقائق تبدیل نہیں کر سکتا

388b25fd-0cd2-479d-9186-1ed9aecf2309.jpeg

(خصوصی رپورٹ):۔ ایک تاریک طوفانی رات کو انتہائی شیطانی دہشتگردوں کے ایک گروہ نے ایک گاؤں پر اچانک حملہ کیا، گاؤں کے جس گھر پر سب سے پہلے کیا گیا وہ آگ اور بارود کے شعلوں سے بڑھک اٹھا، اس خاندان نے اس تباہی و بربادی کے بعد زندگی کی جانب اپنی جدو جہد جاری رکھی، اسی گاؤں کے ایک اور خاندان نے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے صورتحا ل کو مزید اپنے تیز ترار جملوں سے مزید اندوہناک بنا دیا، اور زبان و بیان نے ایسے تیز نشتر چلائے کہ اس بدقسمت خاندان نے دہشت گردوں گروہ کو مشتعل کر دیا تھا اور اس گاؤں پر حملہ کر کے اس شیطانی دہشتناک گروہ نے اپنا بدلہ لیا ہے۔ دوسری جانب ایک حیرت انگیز انداز میں گاؤں کے جس خاندان پر حملہ کیا گیا تھا، وہ حملہ آوروں کے خلاف سخت جنگ لڑا، اور جان لیوا خطرات کے باوجود پیچھے نہیں ہٹا، اس طرح سے اس خاندان کیساتھ ایک طویل جنگ وجدل کے بعد دہشت گردوں کا گروہ سخت مایوسی کا شکا ر ہوا اور انہیں اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے ایک سخت جان خاندان پر جنگ مسلط کر کے کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں کیا ہے، اور اس خاندان کو وہ شکست نہیں دے سکتے، اور یوں اس دہشت گرد گروہ نے اپنا رخ کسی اور جانب موڑنے کا فیصلہ کیا، دوسری جانب گاؤں کے جس خاندان نے پہلے خاندان پر حملے کو درست قرار دیا تھا دہشت گردوں کے گروہ نے انہیں ہی اپنے حملے کا ہدف بنایا، اور دہشت گردوں کے گروہ کے حملے میں انہیں سخت جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دہشت گردوں کے شدید حملے کے باعث دوسرا خاندان مکمل طور پر مغلوب ہو گیا، حملہ آور اس کے گھر میں گھس آئے اور انہیں بیدردی سے قتل کر دیا گیا، جس کے باعث اس گھر کو شدید جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اس امر میں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جب دہشتگرد گروہ اس خاندان کو بیدردی سے تبا ہ برباد کر رہا تھا،دوسرا خاندان اس تمام تر صورتحال سے نمٹنے اور اپنی ناکامی پرغور نہیں کر رہا تھا، بلکہ شکایات کرنا شروع کر دیتا ہے کہ گاؤں کے پہلے خاندان کو دہشت گرد گروہ نے کیوں ہلاک نہیں کیا تھا، اور یہاں تک مطالبات شروع کر دیتا ہے کہ پہلا خاندان اس کے نقصانات کی تلافی کرے، اگر اب ہم آج کی دنیا کے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ ہی لگے گا کہ یہ دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے عوامل کی منظر کشی کی گئی ہے۔ امریکہ کو آج بھی کرونا وائرس کی وجہ سے سخت مسائل کا سامنا ہے، امریکہ میں اب تک کرونا کے حوالے سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد اور اموات کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ برعکس اس امر کے کہ اس ملک کے سیاستدان حقائق کے برعکس کیا کچھ بیانات دیتے ہیں۔ امریکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے ہی چین پر الزامات کی بارش کر کے اپنی عوا م کی توجہ چین کی جانب مبذول کروانا چاہتا تھا، تاکہ امریکی عوام کے سامنے اپنی نا اہلی کو چھپایا جا سکیم اس حوالے سے کچھ امریکی سیاستدانوں نے پہلے ہی سے چین پر معلومات چھپانے کے حوالے سے الزامات عائد کیئے تھے، اور اس افواہ کو دنیا بھر میں پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ کورونا وائرس ایک چینی لیبارٹری سے پھیلائیا گیا ہے، چین کی جانب سے ان بے بنیاد الزامات کو بار بار غلط ثابت کیا گیا، اور مختلف ممالک نے سائنسدانوں اور طبی ماہرین کی جانب سے بھی ان الزامات کی تردید کی گئی، اس تناظر میں حال ہی میں امریکی سیاستدانوں کی جانب سے چین کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے قربانی کا بکرا بنانے کے حوالے سے ایک لفظ کا استعمال بھی کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ چینی حکومت کی وجہ سے آج دنیا تکلیف کے شدید عمل سے گزر رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو امریکی حکام کی جانب سے پیش کی گئی یہ منطق ایسے ہی ہے جیسے اوپر بیان کی گئی کہانی میں گاؤں کا دوسرا خاندان پیش کرتا ہے اور اپنی نالائقی کا زمہ دار پہلے خاندان کو ٹھہراتا ہے، دنیا کا کوئی بھی کسی بھی متعدی بیماری کے مقابلے میں سب سے پہلے یہ ہی کوشش کرتا ہے کہ اسے ملک سے فوری طور پر خاتمہ یقینی بنایا جائے، تاہم اس متعدی امراض کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بھی ملک حتمی گارنٹی نہیں دے سکتا، ایسے ہی کورونا وائرس ہے جس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بھی ملک فوری گارنٹی دینے کے حوالے سے قاصر ہے۔ کرونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ سے قبل انسان اس طرح کے وائرس کے پھیلاؤ اور ممکنہ پہلوؤں کے حوالے سے آگاہ نہیں تھا، کیونکہ اس طرح کی منتقلی اور شدید پھیلاؤ اس قدر بڑے پیمانے پر آج تک نہیں دیکھا گیا تھا، اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس بیماری کے حوالے سے دنیا میں سب سے پہلے چین میں رپورٹ ہوئی لیکن اس حوالے سے حتمی نہیں کہا جا سکتا کہ انسان سے انسان تک اس وائرس کی منتقلی کب، کہاں اور کیسے شروع ہوئی، چین کو اپنے قیام کے بعد سے جن متعدی بیماریوں کا سامنا رہا ہے، یہ بیماری ان سب میں تباہ کن اور اندوہناک رہی ہے اپنے نتائج کے حوالے سے، وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کے حوالے سے عوامل کے تدارک کے لیے چینی صدر شی جنپنگ نے ہر سطع پر ایک متحرک کردار ادا کیا ہے۔ لوگوں کی صحت اور اس وائرس کے حوالے سے حفاظت یقینی بنانے کے لیے چین نے صوبہ ہوبی اور اس کے دارلحکومت ووہان میں اس وبا کے خاتمے اور روک تھام کے حوالے سے بہترین اور موثر حکمت عملی مرتب کی، اور چین نے اس بیماری کے پھیلاؤ کے روکنے اور ممکنہ کنٹرول کے لیے اور مشتبہ مریضوں کے علاج کے حوالے سے موثر اقدامات کا فوری آغاز یقینی بنایا، اور ایک ماہ کی قلیل مدت کے دوران اس بیماری کے کنٹرول کے حوالے سے سخت حکمتِ عملی یقینی بنائی گئی، یوں چینی صوبی یوبی اور ملک کے دیگر صوبوں تک اس کے حوالیسے موثر حکمتِ عملی یقینی بنائی گئی، اور چین نے دنیا کے برعکس صرف اور صرف تین ماہ میں اس وبا کو کنٹرول کیا اور اسے پھیلنے سے کنٹرول کیا گیا، 1.4بلین آبادی کے حامل ملک چین کو اس وبا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اقدامات کو یقینی بنائے جانا کسی طور بھی سہل نہیں کہا جا سکتا۔ کرونا وائرس سے لڑنے اور اس وبا کو کنٹرول کرنے کے حوالیسے چین نے ایک متحرک کردار ادا کیا، اور اس وائرس کی منتقلی کے عوامل کو موثر حکمتِ عملی سے کنٹرول کیا گیا، اور اسی حکمتِ عملی کے سبب عالمی سطع پر اسے کنٹرول کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ درحقیقت اس وبا کے پھیلنے کے بعد سے اور اسے ممکنہ عوامل کی مدد سے کنٹرول کرنے کے حوالے سے چینی اقدامات کی تعریف امریکی سیاستدانوں کی جانب سے بھی آئی ہے، اس حوالے سے امریکی سیاستدانوں کی جانب سے چین کی پیشہ ورانہ انداز میں ان وبا کے کنٹرول کے حوالے سے اقدامات کو سرہا گیا ہے، اور چینی کوششوں کو مثبت انداز میں سراہا بھی گیا ہے، اور اس تمام تر صورتحال میں چینی صدر شی جنہنگ کے کردار کو مثبت انداز میں اور انکی متحرک قیادت کو خرجِ تحسین پیش کی گئی ہے اس وبا کے کنٹرول کے تناظر میں، کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی چین نے 23جنوری سے ووہان اور ہوبی صوبے میں تمام ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر آؤٹ باؤنڈ چینلز کو بند کر دیا گیا، اور 8اپریل تک ان ہوائی اڈاوں سے کوئی پرواز نہیں اڑائی گئی، اور نا ہی کسی شہر کو ٹرین روانہ ہوئی، 31جنوری کو امریکی حکومت نے تمام دیگر ممالک کی نسبت سب سے پہلے تین بڑی ایئر لائنز کیساتھ غیر ملکی پروازوں کا سلسلہ بندکیا، اور دو فروری تک چین نے تمام دیگر ممالک کیساتھ اپنی سرحدین بند کر دیں، اور تمام مقامی اور غیر ملکی باشندوں کو 14دن کے لیے قرنطینہ کر دیا گیا،اور انہیں ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی یقنی بنائی گئیں، اس تمام تر صورتحال میں امریکی حکام نے یہ ہی سوچا کہ جب تک چین اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور کنٹرول کرنے کے لیے موجود ہے انہیں کچھ نؤکرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اور چین کیساتھ فضائی رابطے بند کر کے امریکہ سکون سے آرام کرتا رہا، اور حقائق سے یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ چین دو مہینے انتہائی جانفشانی نے اس وبا کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا جب امریکی حکام دو مہینے ادھر ادھر ضائع کرتے رہے، اس حوالے سے کولمبیا یونورسٹی کی ایک ریسرچ ٹیم کے مطابق امریکہ نے معاشرتی سطع پر فاصلاتی انتظامات یقینی بنانے میں مجرمانہ غفلت کی، اور اس غفلت کے نتیجے میں ہزاروں افراد ابتداء میں ہی اس وائرس کا شکار ہوگئے۔ اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم کے نتائج کے مطابق اگر مارچ کے مہینے میں امریکہ میں سوشل معاشرتی فاصلاتی عوامل کو یقینی بنا لیا جاتا، امریکہ میں اس قدر بڑی ہلاکتوں سے بچا جا سکتا تھا اور چھتیس ہزار لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی تھی، دوسری جانب کچھ امریکی ابھی تک یہ امر نہیں سمجھ سکیں ہیں کہ چین میں یہ وبا پہلے کیوں پھیلی، لیکن یہ وبا چین مختلف صوبوں میں پھیلنے کی بجائے پوری دنیا کے ممالک میں پھیل گئی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسے تمام لوگوں کو ان وجوہات کی وجہ بیان کرنا بہت آسان ہے، جو واقعتا نہیں سمجھتے اور شاہد نہیں جاننا چاہتے اور اس حوالیسے کچھ لوگوں سے جواب خود سے ہی سوچ رکھا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے، کرونا وائرس سے لڑنے کے حوالے سے چین کی ملک گیر کوششوں اور سفری پابندیوں کا حوالہ دیا جاتا ہے، صرف ہوبی صوبے میں ساٹھ ملین آبادی کو مکمل لاک ڈاؤن کرنا اور متحرک انداز میں اسے کامیاب کرنا اور مشتبہ مریضوں کو کامیابی سے تمام سہولیات فراہم کرنا، ایک بڑے پیمانے پر رضا کرانا بنیادوں پر ان عوامل کو یقینی بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے ماسک کے استعمال، اور مقامی اور غیر ملکی لوگوں کا چین میں حکومتی پابندیوں کے حوالے سے معاون کردار اور ملک کی مجموعی آبادی کی جانب سے اس وبا کے کنٹرول اور اسکے خاتمے کے حوالے سے متحرک کردار کو سراہا گیا ہے، اس کے برعکس کچھ امریکی لوگوں کی جانب سے با قابلِ فہم انداز میں یہ بھی کہا گیا کہ کہ کیسے یہ وبا چین کے دیگر صوبوں میں نہیں پھیلی اور کیسے چین کی سرحد سے دیگر ممالک میں پھیل گئی، غیر ملکی میڈیا کے اعدادوشمارکے مطابق کینیڈا کء کئی بڑے صوبوں کے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کینڈا میں پھیلا ہوئی کرونا وائرس امریکی مشتبہ مریض ساتھ لائے، اسی طرح سے سے آسٹریلیا نے مارچ میں واضح طور پر کہا کہ ملک میں 80فیصد کرونا وائرس مشتبہ بیرونِ ملک سے آئے ہیں اور ان مشتبہ مریضوں کے ان لوگوں سے معاملات رہے ہیں جو امریکہ سے آئے ہیں۔ اس طرح سے تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے جاری ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ستر فیصد سے زائد مشتبہ مریض جو کرونا کے تصدیق شدہ ہیں انکا کسی ناکسی صورت امریکی مشتبہ مریضوں سے رہا ہے۔ اس حوالے سے فرانسیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق فرانس میں گردش کرنے والے وائرس کا تناؤ نا معلوم ہے، اسی طرح سے سنگا پور کے جو معاملات کروناکے حوالے سے چین سے درامد کیئے گئے ہیں انکے مقابلے میں دیگر ممالک کے حوالے سے ان کا حصہ دس فہصد سے بھی کم ہے۔ متعدہ بیماریوں کے حوالے سے جاپان کے قومی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کہا گیا کہ مارچ میں جاپان میں کورونا کی نشاندہی کی گئی، جس کا آغاز چین سے نہیں ہوا، اس حوالے سے مختلف مریضوں میں کرونا کے حوالے سے پائے جانیوالے تناؤ کے حوالے سے جو تحقیقات سامنے آئیں ہیں اس حوالے سے امریکی تحقیقاتی ادارے اس نتجے پر پہنچے ہیں کہ یہ تناؤ یورپی زائرین میں پائے جانیوالے تناؤ سے مشابہت رکھتا ہے، اس حوالے سے یہ ناقابلِ تردید بات ہے کہ چین پوری کوششوں کے ساتھ لوگوں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنایا ہے، بلکہ عالمی سطع پر اس وبا کے تدارک اور کنٹرول کے حوالے سے ایک متحرک کردار ادا کیا ہے، دوسری جانب دنیا کے بیشتر ممالک کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاؤ ارو نقصانات کے حوالے سے باہمی ہم آہنگی کو تقویت ملی ہے، جو باہمی مسابقت اور اخلاقیات کے حوالے سے بھی پوری بنی نوع کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، چین نے لوگوں کی زندگی کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے ترجیعانہ بنیادوں پر عوامل کو یقینی بنایا ہے، اور بنی نوع دنیا کی سبھی اقوام ان چینی اقدامات کو ایک حیرت انگیز انداز میں دیکھ رہے ہیں۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ