بریکنگ نیوز

چین اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تبادلوں کے تاریخی رجحان کوئی بھی نہیں پلٹ سکت

unnamed.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ واشنگٹن نے حال ہی میں اپنے عوامی وعدوں سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے چینی طلباء اور محقیقین پر ملک میں داخلے کے حوالے سے غیر مناسب ویزہ پالیسز کا اطلاق کر دیا ہے، امریکی عوام کی جانب سے بھی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور اس پالیسی کو نافذ العمل کرنے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر کی جانیوالی تنقید کے بعد وائیٹ ہاؤس نے چینی طلباء اور محقیقین کے حوالیسے الزامات عائد کیئے ہیں کہ امریکہ کو چینی طلباء اور محقیقین سے ٹیکنالوجی چوری، جاسوسی اور سیکوریٹی کے خطرات لاحق ہیں، اس طرزِ عمل کو خالصتاسیاسی ظلم و ستم اور اور نسلی امتیاز کے حوالے سے تعبیر کیا جا رہا ہے اوران باہمی روابط کی غیر موجودگی میں ثقافتی عوامل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے چینی طلباء اور محقیقن پر جو الزامات عائد کیئے ہیں وہ انتہائی محض خیز ہیں۔ نیو یارک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی عہدیداروں نے اس حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس چینی طلباء کے خلاف کسی قسم کے کوئی ایسے ثبوت نہیں ہیں، جس کے تحت ان طلباء پر منفی الزامات عائد کرکے انہیں ویزوں سے محروم کیا گیا ہے، اس حوالے سے امریکی یونیورسٹیز کے بیشتر محقیقن کی جانب سے بھی ایسے امریکی اقدامات پر کری تنقید کی گئی ہے، اور اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا گیاہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے وائس پروووسٹ مارک سی ایلیٹ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ میں تعلیمی جاسوسی کو سمجھ نہیں سکا ہوں، انہوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ سیکھ چکے ہیں اسے باقاعدہ شائع کرنے کا اسباب کیا جائے، اس حوالے سے کولمبیا یونیورسٹی کے صدر لی سی بولنگز نے کہا کہ علمی تحقیق ایک مشترکہ امر ہے اور انسانی ترقی کے لیے اسے مشترکہ انداز میں آگے لیکر بڑھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی طلباء کی نگرانی اور پروٹوکول کے حوالے سے زیادہ سخت اقدامات کرنے نا گزیر ہو سکتے ہیں اور بالخصوص اگر وہ چینی النسل ہوں۔ چین اور امریکہ کے مابین عوامی سطعپر ثقافتی تبادلے گزشتہ چار عشروں میں تیزی سے فعال ہوئے ہیں اور اس حوالے سے دونوں قوتوں کے مابین علمی تعاون کو بھر پور فروغ حاصل ہوا ہے، اور اس حوالے سے طرفین میں اس حوالے سے باہمی تعاون کے لیے اہم ستون کی حیثیت حاصل کی ہے۔ 1970کی دہائی میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے چین سے کہا تھا چین اپنے ایک لاکھ طلباء کو امریکہ بھیجے تاکہ انہیں بہترین تعلیمی عوامل سے روشناس کروایا جائے، تب سے دونوں ممالک کے مابین تعلمی تعاون اور عمومی تعلقات میں دو طرفہ انداز می بہتری کے حالات پروان چڑھے، اس وقت امریکہ میں چار لاکھ سے زائد چینی طلباء زیرِ تعلیم ہیں اور چین برسوں سے غیر ملکی طلباء کے لیے بہترین سہولیات فراہم کیئے ہوئے ہے، اس طرح سے برسوں سے چین امریکہ تعلیمی تعاون باہمی تعلقات کی کشادگی اورتعاون کے رجحان کا باعث بھی بن رہا ہے۔ واشنگٹن چینی طلباء کو بناوٹی سطعی ہنسی کے ساتھ خوش آمدید کرتا رہا ہے، اور تعلیمی وفود کے تبادلوں کے حوالے سے واشنگٹن چینی طلباء کے لیے مسلسل پریشانیوں کا باعث بنتا رہا ہے، تعلیمی تبادلوں کے حوالے سے چینی طلباء کے لیے تعلیمی ویزوں می مدت کو ایک سال کے لیے محدود کر دیا گیا ہے، اور بیشتر ویزا درخواستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اور گزشتہ کئی مہینوں سے ایک بار پھر سے وائیٹ ہاؤس کی خصوصی ہدایات پر ویزوں کی پراسیسینگ کے عمل کو مختلف رکاوٹوں کیساتھ محدود کیا جا رہا ہے، حالیہ کچھ سالوں کے دوران امریکہ قومی سلامتی کے نام پر آہستہ آہستہ بہت حساس ہو تا جا رہا ہے، اور بسا اوقات امریکی اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ خود کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کرنے جا رہا ہے، کیا امریکہ خود کو دنیا کی سپر پاور کے طور پر سوچ سکتاہے، یہ بہت حساس معاملہ ہے، کچھ امریکی سیاستدان سرد جنگ کے زہنی جنون میں ابھی بھی مبتلا ہیں اور چین مخالف پالیسز کے حوالے سے بار بار مختلف جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان عوامل سے امریکی معاشرے میں مسلسل تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب کچھ صاحبِ بصیرت لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تصادم پر مبنی پالیسز اور باہمی کھپت کے عوامل سے امریکہ کو زیادہ نقصان کا شاخسانہ ہے، امریکی یونیورسٹیز کی جانب سے حالیہ جاری ویزا پابندیوں کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے، ان اقدامات پر زور دینے سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیمپس کلچر اور یونیورسٹیز کی معاشی کارکردگی پر متعدد اثرات مرتب ہونگے، چینی طلباء اور محقیقن پر الزامات سے امریکی سیاستدان نام نہاد ب بیرونی خطرات کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ وہ سیاسی فوائد حاصل کر سکیں، حال ہی میں قانونی اور شہری حقوق کی تنظیم ایشین امریکن ایڈواننگ جسٹس نے امریکی طلباء پر امریکہ میں سائنس ٹیکنالوجی انجیرنگ اور سائنسی کی تعلیم پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کی بنیاد کواسی نسل پرستی اور زینو فوبیا سے ہے، اور اسی وجہ سے سینکڑوں چینی امریکی طلباء کو 1882کے اخراج ایکٹ کے تحت ملک بدر کر دیا گیا، دوسروں کیساتھ تبادلہ کیئے بغیر تنہا سیکھنا جہالت کا باعث بنتا ہے، امریکہ کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے حمایت کیساتھ ساتھ چین کے خلاف شروع کی جانیوالی سرد جنگ بھی وقت کے رجحان کے خلاف ہے۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کی تصنیف ہینڈ شیک آکراس دا پیسیفک نے ایک ایسا سفر شروع کیا جس سے نہ صرف چایئنیز بلکہ امریکی اور پوری اقوامِ عالم کو بے پناہ فاہدہ حاصل ہوا، آج دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات طرفین کے لوگوں کی مشترکہ خواہش اور مفادات کے عین مطابق ہیں، اس حوالے سے واشنگٹن کو اپنے غلط رویئے کو درست کرے سرد جنگ کی زہنیت اور نظریاتی تعصبات کو ترک کرے، اور چینی طلباء اور محقیقین پر اس حوالے سے بے بنیاد الزامات اور پابندیوں کا سلسلہ ترک کیا جائے، دنیا میں کوئی بھی تاریخ کے عوامل کو پلٹ نہیں سکتا، اور اطراف کے لوگوں کے مابین باہمی تبادلوں کی سہولت عوام کی مرضی اور مفادات کے عین مطابق ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ