بریکنگ نیوز

پانی سر سے گزرتا جارہا ہے: پاکستانی معیشت کا تنقیدی جائزہ

IMG-20200619-WA0013.jpg

تحریر: ڈاکٹرعبدالواحد (پی ایچ ڈی فنانشل اکنامکس)۔
Twiter: AbwahidF

زمانہ طالبعلمی میں ہمیں مینجمنٹ کے متعلق ایک کہانی پڑھائی جاتی parable of boiling frog اسوقت ہمیں اس فلسفے کی کوئی زیادہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسطرح پانی کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ مینڈک اپنے جسم کا درجہ حرارت پانی کے درجہ حرات کے مطابق ڈھالتا جاتا ہے اور ایک وقت پر پانی کا درجہ حرارت اسکی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے اور اسکی ساری قوت ختم ہوجاتی ہے اور یوں وہ مر جاتا ہے۔
دراصل اکنامکس اور مینجمنٹ کے طلباء کو اس کہانی کے پڑھانے کا مقصد کچھ یوں تھا کہ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو وقت کے فرعون کے جاہ وجلال اور پورے لاو لشکر کے باوجود بچنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس فلسفے کو سمجھانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پانی کے سر سے گزر جانے کے بعد کوئی فیصلہ کارآمد نہیں رہتا پھر انسان ہو یا کوئی ادارہ یا پھر ریاست اپنی موت اپ مر جاتی ہے.
جیسے مینڈک اپنے جسم کے درجہ حرارت کو پانی کے درجے حرارت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسمیں کافی قوت کو صرف کرتا ہے بجائے کہ اس برتن سے نکلنے کی کوشش میں وہی قوت صرف کرے پھر جوں جوں درجہ حرات بڑھتا جاتا ہے اسکے مطابق اپنے جسم کو ڈھالنے کیلئے زیادہ قوت چاہیے ہوتی ہے اس طرح قوت میں کمی آتی جاتی ہے اور دوسری طرف درجہ حرارت بڑھتا جاتا ہے پھر ایک وقت پر ناقابل برداشت ہو جاتا ہے پھر اس مینڈک میں اتنی قوت نہیں رہ جاتی کہ وہ اس برتن سے باہر نکل سکے اور یوں وہ آہستہ آہستہ موت کو گلے لگاتا جاتا ہے اگر وہی مینڈک اسوقت اپنی قوت باہر نکلنے پر لگاتا بجائے جسم کا درجہ حرارت پانی کے درجہ حرارت مطابق ڈھالنے کے جب ابھی درجہ حرارت اتنا زیادہ نہ تھا تو اسکی زندگی بچ سکتی تھی.
یہی حال ہماری معیشت کا ہے ابھی تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی و وفاقی حکومتیں اپنے اپکو اور اپنی معاشی ضروریات اور خراجات کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے خواہشات کے مطابق ڈھالتے جارہے ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا جسمیں ہم نہ اسے جان چھڑا پائیں گے نہ اسکے مطابق ملک کو چلا پائیں گے۔
اگر ہم اپنی معیشت پر نظر ڈالیں تو یہی سلسلہ دیکھنے کو نظرآئے گا کہ ہم آہستہ آہستہ مالیاتی آداروں کے گھن چکر میں پھنستے جارہے ہیں ابھی وقت اور قوت ہے کہ ہم اس سے نکل سکتے ہیں مگر جب پانی ابل پڑا تو نہ ہی پھر ہمارے پاس قوت رہے گی نہ ہی ابلتا پانی ہمیں زندہ رہنے دے گا
سب سے پہلے اس گھن چکر کی وجوہات کو یکھنا پڑے گا پھر اس بات کو مدنظر رکھنا پڑے گا جس کے توسط سے ہم اس گھن چکر سے نکل سکتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ہم بیرونی قرض لیتے کیوں ہیں۔ اس سوال کے جواب کے دو پہلو ہیں۔ پہلا بیرونی قرضہ جات یا تو ہم اس لئے لیتےہیں جب ہمارا ملک کا ٹریڈ بیلینس منفی ہوتا ہے مطلب ہماری روزمرہ کی اشیاء کی درآمدات برآمدات سے بڑھ جاتی ہیں اور دوسرا جب ہمارا کیپٹل اکاونٹ منفی میں ہوجاتا ہے مطلب کیپٹل اثاثہ جات جیسے ریلوے پی آئی اے، موٹروے، جنگی آلات وغیرہ وغیرہ کی خریدوفروخت ہے۔ اس بیلنس کو پورا کرنے کیلئے سب سے پہلے بیرون ملک مقیم پاکستانی جو ترسیلات بھیجتے ہیں وہ کام آتی ہیں اسکے بعد ہمارا ملک مختلف اداروں کی نجکاری کرکے کرتا ہے یا بعض اوقات مختلف قسم کے ساورن بانڈز بیرونی دنیا کو بیچ کر کام چلایا جاتا ہے
اسکے بعد جو رقم بچتی ہے اس کیلئے ہمیں IMF یا ورلڈ بینک یا کسی اور عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑتا ہے پھر ان مالیاتی اداروں کے جو قوائد وضوابط ہوتے ہیں وہ ہماری معیشت کا جگر کا کینسر بن جاتے ہیں نہ وہ سرمایہ پیدا کرنے دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ پیدا شدہ سرمائے کو کھا جاتے ہیں اگلا سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے
۔ اگر ہم اس سوال کی کھوج میں نکلیں تو سب سے پہلی کڑی جو ملتی ہے وہ ہے کتاب No Logo: Taking Aim at the Brand Bullies is a book by the Canadian author Naomi Klein.

یہ کتاب دراصل آبگینہ ہے اس معاشی جنگ کا جسمیں ہم اس بات سے بارآور ہوتے ہیں کہ کسطرح سے عالمی مالیاتی اداروں نے ملٹی نیشنل کیمنیوں نے لوکل صنعت وحرفت کا گلہ دبا اور پھر ملک ٹریڈ بیلینس کے چکر میں کس طرح ایک ایک مالیاتی اداروں کے دروں پر بھیک مانگتا پھرا۔ اس کتاب کے پہلے حصے No Space میں مصنف لکھتا ہےکہ کسطرح ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنی برانڈنگ کو مضبوط کرنے کیلئے سکولوں اورکالجوں میں اپنے اربوں روپے کے اشتہاری سفر کا آغازکیا تو انکو برانڈنگ کیلئے ایسے ایمبسڈر چاہیے تھے جو انکے برانڈ کا پرچار کریں۔ انہوں نے مشہور مشہور فلم سٹار، کھلاڑی اور موسیقار کا انتخاب کیے اور اب انکی بانڈنگ کیلئے ایڈ شپشلسٹ کمپنیاں وجود میں جو انکی مشہوریاں بنایا کرتی تھی کتاب کے دوسرے No choice میں مصنف لکھتا ہے کہ لوکل مال اور لوکل دستکاری کو راستے سے ہٹانے کیلئے انہیں لوک ورثے اور لوک ثقافت کو اپنی موت اپ مارنا تھا اور اس لوک ورثے کے امین یہ لوک فنکار تھے جنہوں نے لوک دستکار اور ثقافت کا گلی کوچے پرچا کیا مگر اس کارپوریٹ سیکٹر کے پاس اربوں ڈالر تھےجوں جوں میڈیا پھیلتا گیا اچکن کی قمیض کی جگہ Nike کی شرٹ، دیسی کھسےکی جگہ Bata کے بوٹ اور عارف لوہار کی جگنی ، پٹھانے خان کی ڈوھڑے اور علن فقیر کی روباہی کی جگہ جسٹ ان بیبر کا As Long as You Love Me ، ابرارالحق کا آجا تیں بہہ جا سائکل تیں،اور عاطف اسلم کا جینے لگا ہوں چھانے لگا۔ منظور دزی کی سلی ہوئی قمیض سے Nike کی شرٹ، اللہ وسائے موچی کی چپل کی جگہ service کے سینڈل چلنے لگے یوں، لیموں کی شکنجبی کی جگہ کوک، کھوئے والی قلفی کی جگہ آئسکریم نے لے لی۔ ہھر ہمارا اپنا کچھ نہ رہا نہ ہمارے اپنے رہے۔ جب عارف لوہار، پٹھانہ خان، علن فقیر اور بلیدی، دوسری طرف سمارٹ فونز کی دوڑ نے جب اپکے نونہالوں کے خیالات سے domestic inustry اور اسکی اشیاء کو نکالا تو پھر لوکل صنعت بھی زندگی کی ہے شام آخری آخری پر آگئی۔ ظلم تو یہ ہوا کہ حکومتیں لوکل صنعت و دستکاری کے فروغ کی بجائے اس کا گلہ دباتی رہی۔
پھر یوں ہوا کہ امپورٹڈ اور برینڈڈ برینڈڈ کی دوڑ لگی اور ہمارے نونہال اسمیں مگن ہوتے چلے گئے اور export کی جگہ import لیتی گئی۔ پھر ہمارا trade balance سجدہ ریز ہوتے ہوتے سرنگوں ہوگیا اور ہمارا ملک عالمی اداروں کے ہاتھوں میدان میں اترے بغیر جنگ ہارنے لگا تب ہم نے اپنی خاجہ پالیسی سے ہاتھ دھویا پھر ہم نے ہر دہشت سے واسطہ لگایا اور WTO کے بعد پھر تو ہم اس آستین کے سانپ کو صرف پالتے رہے (Reference: The Wealth Weapon: U.S. Foreign Policy and Multinational Corporations)

اب یا تو بھیک مانگ مانگ کر چلتے رہیں یا پھر اپنے دستکار کو زندہ کریں اور دستکار کی زندگی پاکستان کی زندگی ہے اور یہ زندگی نونہالان وطن کے ہاتھ ہے اور اس زندگی کو جلا عارف لوہار۔۔ پیار والا دکھڑا کسے نوں نہی سنڑیندا۔ پٹھانڑے خان۔۔میڈا عشق وی توں اور علن فقیر او لطیفنڑ یار وے ۔۔۔کے سلوگن کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اور برینڈڈ شرٹ کی جگہ محلے کی درزی کی سلی ہوئی شرٹ کو پہنا جائے ایک تو ملک پر احسان دوسرا اپنوں کا ذریعہ معاش اور یہ احسان ہوگا اور اللہ کی ذات احسان کا بدلہ احسان سے دیتی ہے جسکے بعد ہمیں balance of trade کو پورا کرنے پر جو پیسہ لگانا پڑتا ہے اس سے گل محمد Harvard university سے حکومت کے اخراجات سے ڈگریاں لے کر آئینگے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ