بریکنگ نیوز

آن لائن کلاسز: دورافتادہ طلباءکے مسائل اور انتظامی بدحواسی

IMG-20200613-WA0106.jpg

تحریر: ڈاکٹر عبدالواحد ( پی ایچ ڈی فنانشل اکنامکس)

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اعلان کے بعد پاکستان کے طول و عرض کی تمام جامعات نے باقاعدہ آن لائن کلاسز کے اجراکا فیصلہ کیا تو تمام دور افتادہ علاقوں کے طلباء وطالبات سراپا احتجاج ہوگئے اس پورے معاملے کودیکھنے کے بعد مجھے مرزا غالب کا ایک شعر یاد آیا کہ ” ہم کو ان سے وفا کی ہے امید ، جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔ اس شعر کے طالب و مطلوب دونوں فریق ہیں بلکہ تینوں مطلب اساتذہ بھی اسمیں شامل ہیں کہ جو مطالبہ طلباء کررہے ہیں جامعات اور ہائیرایجوکیشن کمیشن سے اسکا ادراک دونوں فریقوں کو ہی نہیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور جو چیز جامعات اور HEC چاہتی ہے وہ طلباء اور اساتزہ کو نہیں معلوم۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔اس پورے شورش میں جو مسئلہ ہے اسکی طرف کوئی متوجہ نہیں ہو رہا۔ وہ مسئلہ یہ ہے اس پراجیٹ کے End users کو تمام معاملات میں بطور فریق ہی تصور نہیں کیا گیا۔ پبلک پالیسی formulation اور implementation کے دوران سب سے اہم پہلو جو ہوتا ہے وہ ہے Stakeholders Buy-in and in consltation ہے مطلب تمام stakeholders سے مشاورت اہم سنگ میل ہوتا ہے اگر اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ پالیسی ایک well documented piece of paper مطلب بہت ہی خوبصورت مرتب کی ہوئی ایک خوبصورت دستاویز کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔
یہی حال HEC کی آن لائن کاسز کی پالیسی کا ہے اول تو HEC نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ اس پورے Episode میں stakeholders کی وضاحت ہی نہیں کرسکا HEC کے نزدیک طلباء اور اساتذہ اس معاملے کے کوئی کردارہی نہیں ہیں HEC کے نزدیک جامعات کے سربراہان اور HEC خود اسکے stakeholders ہیں تو اسکا نتیجہ اپکے سامنے ہے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر HEC سب سے پہلے تمام stakeholders کی وضاحت کرتی اور پھر ان stakedolders سے مشاورت کرکے ایک پالیسی وضع کرتی تو نتائج اج یہ نہ ہوتے جو اب ہے۔
چلو اگر ہمارے نظام میں اتنے باشعور اور فہم وفراست کے حامل طلباء اور اساتذہ نہیں تھے تو دوسری غلطی HEC نے کی وہ یہ پبلک پالیسی کے قوانین کے مطابق دوسرا مرحلہ ہے اپنی پالیسی resoures کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
اگر اس پہلو کو مدنظر رکھا جائے تو E-learning کے لئے کسی جامعہ کے پاس کوئی جدید LMS نہیں سسٹم تھا. دوسری طرف تمام طلباء اور اساتذہ کو انکے آبائی علاقوں میں جانا پڑا جہاں اول تو نیٹ ورک ہی نہیں ہے اگر ہے بھی سہی تو 2 G ہے جس سے zoom اور Google meet وغیرہ وغیرہ جیسے فورم کو استعمال کرنا بہت مشکل بلکہ نہ ممکن ہے مگر ان تمام نا مساعد حالات اور واقعات کو مدنظر رکھے بغیر یا ان کا کوئی متبادل حل دے بغیر آن لائن کلاسز کا اجرا کیا گیا جس سے دورافتادہ علاقوں کے طلباء اور اساتذہ کو ان نہ مساعد حالات سے نبردآزماء ہوناپڑا۔
اور اسکے ساتھ ساتھ جامعات میں موجود server اس استطاعت کے قابل نہ تھے کہ ان پر ہزاروں طلباء وطالبات کا ڈیٹا اور قواعد اور مضامین سے متعلق لازمی مواد اپ لوڈ کیا جاسکتا ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جامعات کے پاس طلباء سے متعلق e-learning کے ضروری قواعد موجود نہیں تھے۔ تیسری کمزوری یہ دکھائی گئی کہ مارچ سے مئ تک فیصلہ سازی کیلئے مشاورت کیں گئیں مگر اس دوران اساتذہ اور طلباء گھروں میں بلکل استراحت فرماتے رہے پبلک پالیسی سازی میں یہ جزو بھی کافی اہمیت کاحامل ہے کہ implementation سے قبل اس ٹیم کی capacity buliding پر کافی توجہ دینی چاہیے اس پورے عرصے میں HEC کو چاہیے تھا کہ وہ جامعات کے اساتذہ اور طلباء کی e-learning سے متعلق capacity build کرتی اور اور مختلف webinar کے ذریعے انکی ذہن سازی اور e-learning سے متعلق عادت بنائی جاتی۔
مگر دو تین ماہ کچھ کیے بغیر جامعات اور HEC نے اچانک کروٹ بدلی اور یہ فیصلہ صادر فرما دیا اب سوال یہ ہے کہ یہ سیمسٹر تو گزر جائے اور متوقع حالات کے مطابق اگلا سال بھی یہی رونا رہے گا تو پھر اسکے لئے جامعات اور HEC کی کیا تیاری ہے۔ اول تو یہ اس فلاحی بجٹ میں اعلی تعلیم کی بجٹ پر پچاس فیصد کٹ لگائی گئی جس سے جامعات کو اس سے بڑھ کر نامساعد حالات سے گزرنا پڑے گا کیونکہ طلباء کی فیس کولیکشن میں کم و بیش پچیس سے تیس فیصد کمی آئے گی دوسری طرف بجٹ میں کٹوتی تو جامعات کیلئے اپنے LMS کی capacity میں اضافہ اور لوکل سرور سے cloud computing میں جانے کی راہیں بس خواہشات اور تحفظات کی صورت میں نظر آئینگی مگر شرمندہ تعبیر نہ ہو پائیں گی دوسری طرف HEC کے بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے ان کے پاس وسائل کی کمی ہوگی نہیں تو دوسری صورت میں HEC طلباء اور طالبات کو لیپ ٹاپ اور انٹر نیٹ کی Devices مہیا کرنے سے قاصر رہے گا جسکی وجہ سےاگلے سیمسٹر میں جامعات کو اس سے زیادہ مساعد حالات اور احتجاجات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کیلئے حکومت چاہیے کہ HEC کے بجٹ میں کٹوتی کے بجائے ایک bailout package دے جسمیں تمام دور افتادہ اورغریب طلباء وطالبات کو لیپ ٹاپ اور devices مہیا کی جائیں اور جامعات کو انکے LMS اور Sever کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کیلئے مزید بجٹ مہیا ہوسکے جس سے اس عفریت سے چھٹکارہ حاصل ہوسکے۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ