بریکنگ نیوز

مسلمانوں کا خدا مظلوم ہے

IMG-20200712-WA0025.jpg

تحریر: مظفر عباس
نمل یونیورسٹی اسلام آباد

بحثیت مسلمان، ہماری ازل سے ہی روش رہی ہے کہ اپنے تمام معاملات میں دین اسلام کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ چاہے وہ معاشرتی زندگی کے بارے میں ہوں، یا سیاسی ہوں یا اخروی زندگی سے متعلق ہوں۔

اور بحمدللہ اس تناظر میں ہم ہر اچھے برے نتائج کے حامل معاملات کو خدا سے منصوب کرتے ہوئے ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ جیسا کہ، بچہ پاس ہو یا فیل، سفر بخیر و عافیت گزرے یا ملک الموت سے ملاقات کا شرف نصیب ہو، مریض کو صحت کاملہ عطا ہو یا سفر آخرت سے فیض یاب ہو، ملکی معیشت مستحکم ہو یا قرضوں میں اضافے، حکمران نیک ہوں یا بد یا بدتر یا کہ برترین۔ غرض کے کوئی بھی معاملہ درپیش ہو۔

ہمارا جواب ایک ہے، جی بس خدا نے لکھا ہی ایسا تھا تو اب ہم کیا کر سکتے تھے۔ وہ تو خدا بھلا کرے سائنس کا کہ اس نے کچھ معاملات میں خدا کا بھرم رکھا کہ میاں بچے کی ذہانت کے ساتھ ساتھ آپکی توجہ بھی ضروری ہے تاکہ وہ خوش اسلوبی سے زندگی کے ہر مرحلے میں کامیابی حاصل کرے۔

اور مریض کی صحت کی ذمّہ داری ڈاکٹر اور مسافر کی سلامتی کی ذمّہ داری خدا کے ساتھ ساتھ جہاز کے عملے اور پائلٹ حضرات کی تعلیمی قابلیت پر بھی منحصر ہے۔ اور ہاں بلاشبہ اسی طرح برے حکمرانوں کے تسلط میں بھی خدا ذمّہ دار نہیں ہے، بلکہ بڑے فخر اور دھوم دھام سے، بھنگڑے ڈالتے ہوئے، نیلی کالی سیاہی انگوٹھے کے ناخن سے تھوڑا سا پیچھے ثبت کرتے ہوئے ہم نے خود انتخاب کیا تھا۔ میاں اب وہ حکمران کرپشن کرے، یا صلہ رحمی کرتے ہوئے خاندان میں سرکاری عہدے بانٹے یا ملک گروی رکھ کر قرضے لے کر بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیئے یورپ میں سکونت اختیار کرنے کی تگ و دو کرے اور بدلے میں کنگال غریب اپنے آپ پر عراق کا پانی چھڑک کر آگ لگا لے، یا تھر میں بھوک پیاس سے بلک بلک کر جان دے دے تو میاں خدا تو ہرگز ذمّہ داری نہ لے گا ان معاملات کی اور نا ہی اس پر الزام لگایا جائے۔

بس جی قسمت میں لکھا ہوا تھا تو آئی کو کون ٹال سکتا ہے جی۔ جی یہ تو خدا کی طرف سے مقرر تھا انسان اس میں کیا کرے جی۔ یہ اور اس جیسے بیشمار اور مذہبی بہانے ہیں، جن کا استعمال ہر سادہ لوح انسان سے لے کر ، دانشور، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما باآسانی کرتے ہیں اور ڈھٹائی سے کرتے ہیں۔

جب کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ “خشکی و تری میں انسان کے اپنے ہاتھوں سے فساد پھیل گیا ہے”۔ اور جب امام علی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ انسان اپنے معاملاتِ میں کتنا اختیار رکھتا ہے، آپ نے اس شخص سے فرمایا: اپنی ایک ٹانگ اٹھاؤ، اس نے ایسا ہی کیا، پھر فرمایا دوسری بھی اٹھاؤ۔ اس شخص نے کہا ایسا کرنا تو ممکن نہیں ہے میرے لیئے، ورنہ میں گر جاؤں گا۔ آپ نے فرمایا بس انسان کا اتنا ہی اختیار ہے اپنے معاملات پر۔

ان حقائق کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بیشتر معاملات جن کی تعداد نصف سے زیادہ ہے کے اختیار خود انسان کے اپنے ہاتھوں میں ہے، اور انسانوں کے ظلم، طاقتور اور حکمران طبقہ کی ناانصافی کی وجہ سے ملک ملک شہر شہر معاشرتی، معاشی مسائل جنم لیتے ہیں۔ جن کا شکار سب ہی ہوتے ہیں، بالخصوص نادار لوگ۔ خدارا انکا الزام خداوند عالم کی منصف و عادل ذات مقدس پر عائد مت کریں، بلکہ انکے علت و اسباب تلاش کریں تاکہ بروقت تدارک ممکن ہو سکے اور آیندہ آنے والے مسائل سے بچنے کی کارگر تدبیر کی جا سکے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ