بریکنگ نیوز

یکساں نظام تعلیم: سیاسی بیانیہ یا حقیقت

IMG-20200613-WA0106.jpg

تحریر: ڈاکٹر عبدالواحد
ٹوئیٹر: AbwahidF

وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے کہ آئندہ سال سے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام کو نافذ العمل کیا جائے گا اور سندھ حکومت نے بھی اس پر سبز جھنڈی لہرائی ہے یہ بات بہت ہی خوش آئند ہے اور اس سے طبقاتی تفریق اور استحصالی نظام کے خلاف پسے ہوئے طبقے کی دادرسی ہوسکتی ہے اور ان کو قومی دھارے (National Integration) میں لایا جاسکتا ہے مگر کیا اس مختلف الانواع اور طبقاتی تعلیمی نظام کو یکساں کرنا اور تمام طبقات کو ایک دھارے میں لانا کتنا قابل عمل کام ہے۔
یہ سوال کافی غور طلب اور تحقیقی نقطہ نظر سے کافی اہمیت کا حامل ہے کہ آیا یہ اصلاحات حکومت کر پائے گی یا نہیں۔ اگر ہم پاکستان میں اصلاحات کی بات کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم کسی قومی ادارے میں خاطر خواہ اصلاح نہیں کرپائے جیسے سامراجی نظام سے جو ادارے اور انکے ضوابط چلے ارہے ہیں وہی من وعن چلے آرہے ہیں۔ ایوب خان کے دور سے آج تک چودہ مرتبہ مدرسہ ایجوکیشن ریفارمز کی کوششیں کی گئیں اسکا نتیجہ لا حاصل رہا۔ لینڈ ریفارم پولیس ریفارم اور نہری نظام کی اصلاحات سبکی سب داخل دفتر ہوچکی ہیں نہ ہی ان میں کوئی اصلاحات لائی جاسکیں نہ ہی کوئی عوام فلاح وبہبود کا راستہ استوار ہوسکا۔
اب بات کرتے ہیں تعلیمی اصلاحات کی۔اسوقت پاکستان میں تین طرح کے تعلیمی نظام رائج ہیں اول سرکاری سکول دوم مدرسہ ایجوکیشن اور سوم نجی سکول اور یہ بھی دو طرح کے ہیں ایک عام نجی سکول اور دوسرے ایلیٹ کلاس۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ ہوگا کہ کونسا نصاب رائج کیا جائے پاکستان ٹیکسٹ بک درس نظامی یا کیمبرج سکول سسٹم کا نصاب یا پھر آکسفورڈ۔اگر عالمی معیار کی طرزکا نصاب مرتب کیا جاتا ہے اور اسمیں مختلف سماجی معاشرتی اور مذہبی مضامین تو اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ ان عالمی معیار کے مضامین پڑھائے گا کون۔ اگر یکساں نظام تعلیم رائج بھی کردیا جاتا ہے اول تو ممکن نہیں کہ نجی سکولوں کے مالکان اربوں روپے تعلیمی نظام سے کما رہے ہیں جو کسی صورت بھی نہیں چاہیں گے کہ انکے اداروں کا سلسلہ و سلوک سرکاری سکول اور مدارس سے جا ملے یہی ایک بیانیہ تو ہے انکے پاس کہ ہم اپکے نونہالوں کو کیمرج اور آکسفورڈ کے معیار کی تعلیم اور مغربی طرز کی تربیت سے نوازتے ہیں اگر یکساں تدریسی سرگرمیاں اور نصاب ہوجاتا ہے تو انکے پاس یہ منجن بکنے کو نہیں رہے گا دوسری طرف مدارس کا اپنا ایک تدریسی سلسلہ ہے جو صدیوں سے چلتا آرہا ہے درس نظامی درآصل اسلاف کی یادگار اور مذہبی ورثہ کے طور پر گردانا جاتا ہے آٹھ سال کا مکمل کورس ہے جسمیں کمی بیشی کی تو گنجائش ہی نہیں ہاں اگر اسکے ساتھ ساتھ عصری مضامین بھی شامل کردیے جاتے ہیں تووہ طلباء کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ درس نظامی کے ساتھ ساتھ ان مضامین کو بھی دیکھ سکیں اگر کچھ کو شامل کیا جاتا ہے تب پھر انکے اور باقی طلباء کے درمیان وہی خلاء رہے گا جو 1876 سے چلا آرہا ہے اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں حکومت کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اسوقت پاکستان میں سوا دو کروڑ کے لگ بھگ بچے سکول ہی نہیں جاتے اب سوال یہ ہے کہ کیا ان بچوں کو پہلے سکول کیوں نہ لایا جائے۔ کیا یہ آئین کے آرٹیکل 37(A) کے تحت بنیادی تعلیم کے حقدار نہیں ہیں کیا۔ کیا یہ بچے کسی مفتوحہ علاقے کے غلام خاندان سے تو تعلق نہیں تو رکھتے جنکو بنیادی تعلیم وتربیت سے محروم رکھا جاتا ہے UN کی HRD Index جو 2020 میں شائع ہوئی میں پاکستان ساوتھ ایشیاء میں اسوقت افغانستان سے صرف آگے ہے۔اور حالت یہ ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں بالخصوص پنجاب نے اس سال تقریبا ستر ارب روپے سے زیادہ کی تعلیم کے بجٹ پر کٹوتی کی ہے اسطرح سالانہ تعلیم کے بجٹ پر کٹوتی کی جاتی ہے تو کس طرح ملک میں تعلیمی سرگرمیاں عروج پر آئیں گی۔ اور جو بچے سکول جاتے ہیں انکی تربیت PEF پارٹنر کے میٹرک پاس اساتزہ کرتے ہیں حکومت نے تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے تعلیمی معیار میں گراں قدر کمی دکھائی ہے ایک تو وہ بچے جو بنیادی تعلیم سے محروم ہیں دوسری طرف وہ جو جاتے ہیں انکی ذہنی نشونماء وہ اساتزہ کرام کر رہے ہیں جنکو خود بنیاد سماجی تربیت کی ضرورت ہے اور یہی حال مدارس اور نجی سکولوں کا ہے آئے روز یہ خبر اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ کم سن بچے اور بچی کے ساتھ تشدد اور زیادتی کی گئی ہے حکومت کو چاہیے کہ پہلے مرحلے میں ان تمام علاقوں میں سکولوں کے قیام کو لازمی بنائے جہاں یہ سہولت میسر نہیں اور اسکے بعد ان سوا دو کروڑ بچوں کو سکول کی دہلیز پر لائےجو گلی کوچوں اور مختلف ورکشاپ میں اپنی معصومیت کو قربان کررہے ہیں اسکے بعد ان اساتذہ کی سماجی اور تدریسی تربیت کی جائے تاکہ وہ اس قابل ہو سکیں کہ وہ بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کر سکیں اور اس کے بعد معاشرے میں ایک مکالمے کا آغاز کیا جائے کہ آیا ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو کہ نہ اگر ہو تو اسکی بنیادی اکائی کیا ہونی چاہیے مگر ان تمام مراحل کیلئے اچھے خاصے بجٹ کی ضرورت پیش آئے گی جو تمام صوبائی اور وفاقی حکومت کو ناگوار گزرے گی اس لئے اس بیانے کو ترتل کے ساتھ عوام کے ذہن نشین کروایا جا رہا ہے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو نہ کی معیاری اور تمام پاکستانیوں کیلئے مفت۔ کیونکہ اس بیانے سے عوام کو مسلسل تسلی دی جارہی ہے کہ تعلیم اس حکومت کا بنیادی نظریہ ہے تاکہ بجٹ میں ہونے والی کمی اور مسلسل کمی سے عوامی توجہ ہٹائی جائے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ