بریکنگ نیوز

حامد میر: قاتلانہ حملوں کے باوجود بھی غیر ملکی شہریت کی آفر ٹھکرا دی۔

images.jpg

نیوزڈیسک

حامد میر صحافت کی دنیاء میں پاکستان کا ایک چمکتا ستارہ ہیں۔ اپنے تو دور دشمن بھی ان کی بے باک صحافت اور حق گوئی کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ صحافت کو ایک مقدس پیشہ اور اپنا جنون سمجھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے والد محترم پروفیسر وارث میر مرحوم کے نقش قدم پر چل کر ناصرف اپنا بلکہ وطن عزیز کا بھی ہمیشہ نام روشن کیا ہے۔

حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کے حکم پر وفاقی کابینہ میں موجود مشیران اور معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کی گئی۔ جس میں وزیراعظم کے پندرہ معاونین و مشیروں میں سے سات لوگ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ جن میں شہباز گل، معید یوسف، ندیم بابر، زلفی بخاری، شہزاد سید قاسم، ندیم افضل گوندل، ثانیہ ادریس شامل ہیں۔

یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد سوشلستان میں حکومتی عہدے کے باوجود غیر ملکی شہریت رکھنے پر بحث چھڑی تو پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق طارق نے لکھا: جب آٹھ سالہ جلاوطنی میں میرے پاس موقع تھا ہالینڈ کی شہریت حاصل کرنے کا تو ایسا نہیں کیا، جنوری 1986 میں مارشل لاء اٹھنے کے بعد فروری 1986 کو پاکستان پہنچنے والا پہلا فرد تھا جو کسی یورپین ملک کا ریفیوجی سٹیٹس چھوڑ چھاڑ کر محنت کش عوام کی جدوجہد میں حصہ لینے واپس آیا۔

فاروق طارق کی ٹوئیٹ کے جواب میں سنیئر صحافی و کالم نگار حامد میر نے لکھا: فاروق بھائی ہم نے آپکے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب سے پہلے 2006 میں ایک غیر ملکی چینل میں نوکری کی آفر ٹھکرائی پھر 2007 میں جنرل پرویز مشرف نے پابندی لگائی تو ایک یورپی ملک میں سیاسی پناہ کی پیشکش ہوئی ان کا بھی شکریہ ادا کیا 2014 میں قاتلانہ حملے کے بعد بھی غیرملکی شہریت کی آفر ٹھکرانے پر فخر ہے۔

حامد میر، فاروق طارق اور ملک رمضان اسراء کی ٹوئیٹ

ٹوئیٹر صارف کاشف علی نے عمران کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ کونسا لیڈر تھا جو کہتا تھا جن کے اثاثے، جائیدادیں اور شہریت غیرملکی ہوں وہ کیسے اپنے ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں؟

ایک اور صارف احمد مہر نے حامد میر کے اقدام کو سہراتے ہوئے لکھا: ‏‎لائق تحسین ہے یہ اقدام، اور قابل ستائش ہے آپ کا فیصلہ۔

اور ساتھ ہی انہوں نے حامد میر کو مخاطب کرکے لکھا: آپ تو سیاست دانوں میں کافی پاپولر ہیں انکو بھی یہی سبق دیں کہ انکی کمائی ان کا اٹھنا بیٹھنا ، جینا مرنا سب کچھ پاکستان میں ہو اور پاکستان کے لئے ہو کیونکہ جب خود کشتی میں سوار ہوں گے تو کشتی کو منجدھار تک لے جانے کی بھی کوشش کریں گے۔

لیکن یہاں پر احمد مہر شائد سیاستدانوں کے علاوہ لوگوں کے بارے ایسا مشورہ دینا بھول گئے۔

صحافی و کالم نگار ملک رمضان اسراء نے سنیئر اینکرپرسن حامد میر کو لکھا کہ: ‏‎فخر ہے استاد محترم کہ آپ نے قاتلانہ حملوں کے باوجود بھی غیر ملکی شہریت ٹھکرائی۔ آپ ایک بہادر باپ کے بیٹے ہیں اور ہمیں آپ سے ہمیشہ ایسی ہی توقعات تھی ہیں اور رہیں گی کیونکہ آپ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دعا ہے اللہ ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔

ملک رمضان اسراء کی ٹوئیٹ

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ