بریکنگ نیوز

اب کے بار دنگل کچھ یوں سجے گا

IMG-20200613-WA0106.jpg

تحریر: ڈاکٹر: عبدالواحد
ٹوئٹر: abwahidf
وٹس ایپ: 03112211990

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر برنارڈ لیوس جو کے اسلام اور اسلامی تاریخ کی تحقیق میں دہائیوں سے خدمت سرانجام دے رہے تھے نے کیمونزم اور سوشلزم کے تدارک پر ایک مقالہ مرتب کیا اور اس پر ایک مذاکرہ بھی منعقد کروایا اس مقالے میں انکے بقول سوشلزم کی لہر کو صرف اور صرف اسلام بطور دیوار کے طور پر روک سکتا ہے کیونکہ اُس دور میں مغرب اور مشرق دونوں میں سوشلزم بطور ایک نظام کے طور پر ابھر رہا تھا جیسے پوری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا میں سوشلسٹ جماعتیں اپنا سکہ منوا رہی تھیں جیسے پاکستان میں نیشنل پارٹی، پیلپزپارٹی، عوامی مسلم لیگ، عراق میں عراقی کیمونسٹ پارٹی، ایران میں ڈاکٹر مصدق ملک، مصر میں جمال عبدالناصر نمایاں کردار ہیں۔ انکے نظریہ کے مطابق اسلام کو بطور مذہب نہیں بلکہ ایک سیاسی اس سے بڑھ کر ریاستی قوت کے طور پر سوشلزم کے خلاف لایا جائے جسمیں اسنے یہ تجویز دی کہ روایت پسند مذہبی طبقے کو صف اول کے طور پر لایا جائے جنکی آماجگاہ اور سہولت کار کے طور پر مساجد، مذہبی اداروں، مدارس اور مذہبی عدالتیں کو استعمال کیا گیا اور بعد ازاں اسلامک فنانس اور اکنامکس کے نام پر معاشی ذرائع بشکل اسلامک بنکس متعارف کروائے گئے۔ دوم ریاستی اسلام جسمیں تمام ریاستی مشینری اور اداروں کو اسلامئز کرایا گیا اور تیسری کڑی مذہبی جماعتیں بالخصوص طلباء یونین تھیں جیسے اخوان المسلمین، جاعت اسلامی، فدایان اسلام وغیرہ وغیرہ۔
برنارڈ لیوس کے اسی نظریے کے اوپر پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک مذاکرے کا انعقاد کرایا گیا۔ جسمیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی کلچر سے منسلک مظہرالدین صدیقی جس نے کافی تصنیفات لکھیں جسمیں ‘کیمونزم اور اسلام’، ‘مارکسزم اور اسلام’ اور تاریخی مادیت اور اسلام’ نے اس بات پر زور دیا کہ کیمونزم اور سوشلزم کا راستہ صرف اور صرف اسلامی بنیادی عقائد اور شعار کے ہی ذریعے روکا جاسکتا ہے۔ یہ ایک دجالی اور ملحدی طریقہ ہے
اُسوقت تعلیم کا یہ عالم تھا کہ ستر فیصد لوگ ایم اے اسلامیات وعربی میں فارغ التحصیل ہوئے روشن خیالی اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کو ملحدیت یا مرتدیت کے نام سے جانا جانےلگا اسلامی ممالک میں تمام تر جامعات میں نظریاتی سرحدوں اور صدیوں پرانے نظریات کی ارتقاء کی جدوجہد ہونے لگی۔ پاکستان میں اسوقت لینڈ ریفارمز لائی گئیں تو اسکی بھی مخالفت مذہبی عناصر کی جسکے روح رواں مودودی صاحب بعنوان تحفظ زمینداران تحت شرعیہ۔ اس طرح عرب دنیا میں حسن البناء رمضان سعید اور پاکستان میں مولانا مودودی کی تصنیفات اور نظریات کو جامعات میں ترتل کے ساتھ پڑھایا جانے لگا اس پورے کھیل کےپس پردہ دو قوتیں کارفرما تھیں ایک اسلامی مطلق العنان حکومتیں جسمیں سعود فیملی سرفہرست تھیں اور عالمی سامراجی قوتیں سی آئی اے ایم آئی سکس اور عالمی مالیاتی ادارے۔
اسوقت سوشلزم کا علمبردار روس تھا جسکی بنیادی قوت اسکی بیس بائیس لاکھ فورس تھی اس لئے اسکا متبادل بیانیہ بھی جہادی تنظمیں اور جہادی شورش تھی ہر جامعہ گلی کوچے میں سبیلنا سبیلنا کی رٹ تھی اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت کا ہر نوجوان کی سوچ پہلے شدت پسندی کی طرف مائل ہوئی پھر polarization میں تبدیل ہوگئی۔اب تقریباً نوے سے پچانوے فیصد تعلیم یافتہ طبقہ عقلی سائنسی اور منطقی دلیل سے بیزار ہوگئے ہیں مگر اب کے بارے سوشلزم خالصتاً سوشلزم کی حالت میں نہیں آیا اب اسکی کیفیت ریاستی طور پر سوشلزم اور اوپن مارکیٹ کے طورپر عیاں ہوئی ہے جسکی بیساکھی اب صرف سوشلزم پر نہیں ہے اسکے بڑے بڑے وفادار اور سٹیک ہولڈر ہیں۔دوسری طرف وسائل معاشی ہیں پیداوار کی جنگ ہے اب کے بار سرد جنگ کی کیفیت کچھ مختلف ہے اب فوجوں کو نہیں روکنا اب سپلائی چین کا راستہ روکنا ہے اسکا پہلا وار کرونا لاک ڈاون کی صورت میں ظاہر ہوا جسکی دوسری لہر عنقریب ایک ڈیڑھ سال کی مدت کیلئے پھر آئے گی۔ میں ہمیشہ سوچتا رہتا تھا کہ آیا کہ انتظامی طور پر اور پھر علمی میدان میں اور نوجوانوں کے اندر اس دفعہ کی سرد جنگ کس طرح سرائیت کرے گی۔ اسکا اس معاملے میں میں ہمیشہ پرانے سیاسی کھلاڑیوں کی گفتگو کو سنتا تھا جسمیں مولانا فضل الرحمان خورشید شاہ، خاقان عباسی، اور سابق صدر آصف علی زرداری صاحب وغیرہ وغیرہ اور اسی طرح عالمی پیڑرزن کو فالو کرتا تھا تو مجھے سمجھ آئی اسکی بار ہر ملک کیلئے علیحدہ لائحہ عمل اس ملک کے چائنا کے ساتھ تعلقات پر استوار کیا گیا مثلاً پاکستان کے چائنا کے ساتھ تعلقات مضبوط معیشت کیلئے مرتب تھے تو ملک میں نااہل اور آئی ایم ایف زدہ نظام حکومت لایا گیا انڈیا کے ساتھ زمینی تنازع کی وجہ سے فاشسٹ جماعت ہندوتا کو لایا گیا گلف میں عرب ممالک کو حصے بخروں میں تقسیم کرکے باکٹ کی صورتوں میں ڈھالا گیا ان سبکے پیچھے لائحہ عمل وہی پرانا پاپولرسٹ نظریہ تھا جسکے نعرے کچھ یوں تھے ڈٹ کے کھڑا اب کپتان، مودی آگے پاکستان کی بربادی لائے گا وغیرہ وغیرہ اب میرا اگلا یہ سوال تھا علمی طبقے میں یہ کیسے سرائیت کرےگا اسکا جواب بھی لاک ڈاون کی صورت میں مل گیا کہ اب ہر نوجوان کہہ رہا ہے فری لانسنگ ہی اگلی دنیا ہے اب ان حمار سے کوئی پوچھے کہ جب پیداوار نہیں ہوگی تو فری لانسنگ کیا دعایا کلمات کی ہوگی۔ اب ہماری عملی معاشی اور معاشرتی بقاء اس چیز میں ہے کہ ہم اس ملک میں صنعتی زرعی اور سائنی پیداوار اور ذرائع پیداوار کو فروغ دیں چائنا ک ساتھ سیکنڈ فیز اف CPEC پر عملدرآمد کو بڑھائیں اب انفراسٹرکچر اپنی تکمیل کو ہے اب انڈسٹریل اسٹیٹ، سمال میڈیم انڈسٹری، الٹر نیٹو مارکیٹس اور فنانسنگ پر توجہ دیں تو تب ہماری اگلی نسل اس قابل ہوگی کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کا مداوا کرسکیں ورنہ افریقہ کے رہنے والے لوگوں سے بھی بدتر نظام زندگانی ہوگا.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ