بریکنگ نیوز

کشمیر اور ایٹمی طاقتوں کی چکی

IMG-20200806-WA0024.jpg

تحریر:- چودھری وقار احمد بگا
مسلہ کشمیر پر آجکل ہر دوسرا شخص اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہے جو کہ آزادی اظہار رائے کے تحت ہر فرد کا بنیادی حق ہے مگر کیا یہ تجزیے مسلہ کے حل کیلئے کافی ہیں ؟ کیا ایجنسیز کی پیداوار قوم پرست تنظیمیں مسلہ کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں؟ کیا دونوں ممالک کشمیر کو اپنی نمائندگی کا حق دینے سے نہیں ڈرتے ؟ کیا جو لوگ کشمیر کانفرنسیسز کر رہے ہیں وہ صرف لوگوں کی توجہ کیلئے ڈھونگ نہیں رچا رہے؟ کیا پاکستان کی طرف سے شاہ راہوں کے نام تبدیل کرنا اور بیس کیمپ کا نام بدلنا اور نقشہ تبدیل کرنا معمولی اقدام ہیں جن سے تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہوگا؟ یقیناً قارئین صاحبِ علم ہیں اور ان سوالوں کے جواب بخوبی جانتے ہیں مگر میرے ناقص علم اور مختصر مشاہدے کے مطابق کسی بھی تحریک کی کامیابی تین بنیادی نقاط پرمشتمل ہوتی ہے۔
عوامی تحریک ،سفارتی جدوجہد اورمسلح جدوجہد کے بغیر تاریخ نے کبھی کسی تحریک کو کامیاب نہیں لکھا۔اس لیئے ان تین نکات پر عمل کیئے بغیر مسلہ کشمیر کا حل مشکل نظر آتا ہے۔
عوامی تحریک بنیادی طور پر ایسی تحریک ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں جلسے جلوسوں کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کروا کے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور عالمی دنیا کو اپنی تحریک کے اغراض و مقاصد سے باور کرایا جاتاہے۔ احتجاج کسی بھی تحریک کی بنیاد ہوتے ہیں اور مہذب قومیں یہی راستہ اپنا کر پُرامن طریقے سے دنیا کو اپنا پیغام بھیجتی ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بھی بے شمار احتجاج ہوئے اور دنیا بھر میں ہوئے مگر ان احتجاجوں کے بعد ایجنسیز کی مداخلت تحریک کو جانبدار بنا دیتی ہیں اور تحریک سے مخلص کارکنان کی محنت رائیگاہ چلی جاتی ہے۔
سفارتی سطح پر معاملات ہی کسی تحریک کو کامیاب بناتے ہیں مگر بدقسمتی سے کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی سفارتی مقصد کیلئے استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ جب تک کشمیر کی قیادت کو نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا تحریک غیرجانبدار طریقے سے نہیں چل سکتی اور نہ ہی عالمی دنیا ان چیختی چنگاڑتی آوازوں پر دھیان دے گی۔
تیسرا آخری اور قدیمی نقطہ مسلح جدوجہد کا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلح جدوجہد جو ثابت قدمی سے ہوئی ہو کبھی ناکام نہیں ہوئی مگر اسکے نقصانات تاریخ کے سینے پر تا قیامت بوجھ ہیں۔ اگر اس تحریر میں طالبان اور امریکہ کے امن معاہدے کا ذکر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح طالبان نے مسلح جدوجہد کر کے عالمی طاقت امریکہ کو مزاکرات کیلئے مجبور کیا۔بے شک طالبان نے اس جدوجہد میں طالبان نے اپنا جانی اور مالی نقصان کیا اور امریکہ بھی ایک جنگ کی وجہ سے مقروض ہوا مگر نتیجتاً اگر معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تومسلح جدوجہد کی جیت ہو گی اور بہت سی نئی تھیوریز بنیں گی۔
مسلح جدوجہد کی کامیابی سفارتی کی کُنجی پر منحصر ہوتی ہے جب تک سفارتی سطح پر خطے کی نمائندگی کیلئے ایک ٹیم موجود ہو آجکل کے جدید ترین دور میں مسلح جدوجہد کا مطلب ماوں کے بیٹے قربان کرنا ہی ہے اور طالبان امن معاہدہ بھی مسلح جدوجہد کے بعد بات چیت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کوئی ان پڑھ نہیں بلکہ ایم فل اور ہی ایچ ڈی سکالرز ہیں مگر بدقسمتی سے سفارتی سطح پر آواز اٹھانے کی قوت کشمیریوں کے پاس نہیں جو مسلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی اور اہم رکاوٹ ہے جبکہ آزادی پسند تنظیمیں اپنے مفاد کی خاطر تقسیم ہو کر نہتے جونوانوں کو اشتعال دلا کر مرواتی ہیں اور احتجاج کیش کرواتی ہیں اور اگر یہ تنظیمیں ریاست کے ساتھ مخلص ہیں تو ایک پلٹ فارم پر آ جائیں اور شکوک و شبہات کو مار دے دیں۔ تمام تنظیموں کے کارکنان سو فیصد ریاست کے وفادار ہیں مگر انکی جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر بغیر کسی تربیت کے اشتعال دلایا جاتا ہے، کم از کم انکی تربیت کی جائے اور ایک جاندار پالیسی بنا لی جائے جس کے تحت وہ تحریک کا کامیاب بنائیں ۔(دونوں ممالک کی افواج کو گالیاں نکالنے سے کبھی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔ جوشیلے نعروں کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا جائے تاکہ دنیا آپکی بات کو سنجیدگی سے سنے)۔جہاں تک بات سفارتکاری یا نمائندگی کی ہے تو کشمیر کا بیس کیمپ آج تک ایک ٹکے کا کام نہیں کر سکا۔آج تک پاکستان اور انڈیا نے کشمیریوں کو اپنے ہی مسلے پر بولنے کا حق ہی نہیں دیا اور اربوں ڈالر لگا کر پروپگنڈے کیئے جا رہے ہیں ۔
گزشتہ برس بھارت کی جانب سے کشمیر کو اپنے نقشے میں دیکھانا اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کی طرف سے بھی نیا نقشہ جاری کرنا کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ہی لیگل کرتا ہے اور اگر اب صرف بیس کیمپ یعنی آزادکشمیر کو نمائندگی کا حق دیا جائے اقوام متحدہ میں قرارداد جمع کروا دی جائے تو یقیناً مسلہ کسی حل کی طرف جائے گا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہی پڑھا ،سمجھا اور لکھا جائے کے لاکھوں کشمیریوں کو دو ایٹمی طاقتوں نے آپسی لڑائی میں ایک ایسی چکی سے پیسا ہے جس نے کشمیریوں کی وفاداریوں اور جدوجہد کو منافقت اور ظلم سے توڑ کر اپنے مفادات کیلئے خطہ کو چار حصوں میں تقسیم کے فارمولے پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کیئے گئے ہیں ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ