بریکنگ نیوز

آٹھ اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

download.jpg

تحریر: نورین ناز گنڈہ پور

8 اگست کی صبح منو جان روڈ کوئٹہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال “انور کاسی” کو بے دردی سے قتل کردیا گیا، میت کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا اور یہ خبر سنتے ہی  تمام وکلاء برادری سول ہسپتال جمع ہوئے تو ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک زوردار دھماکہ ہوا جسکے نتیجہ میں  75 وکلاء جان بحق ہوگئے۔

شہید ہونے والوں  میں ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان اور آج نیوز کے محمد شہزاد بھی شامل تھے۔ یہ دن میری زندگی کا غمگین ترین دن ہے کیونکہ اس المناک دھماکے سے ہم بہت پیچھے چلے گئے اور بلوچستان کی آنے والی نسلیں یتیم ہوگئ۔

ہماری نسلوں کے کے رہنما ہم سے چھین لئے گئےانصاف کی آواز کو ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش کر دیا گیا۔

لاکھوں مظلوموں کی آواز کو ایک لمحے میں ساکن کردیا گیالوگ زمین کھود کر ہیرے نکالتے ہیں ہم نے زمین کھود کر اپنے ہیرے جیسے لوگ دفنا  دیئے

زمین نے ان عظیم لوگوں کو اپنے سینے میں چھپا لیا۔ دل چاہتا ہے وہ ماتم کریں کے عرش  لرز اٹھے۔

جس طرح آج بلوچستان کی زمیں اس دھماکے سے لرز اٹھی دشمن وار کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتا ہےان پتھروں میں رہنے والے پتھروں جیسے مضبوط لوگ اپنے سینے میں ایک دل بھی رکھتے ہیں جو محسوس کر سکتا ہے۔

فولادجیسے جسم کے اندرایک دھڑکتی ہوئ چیز دھڑکنا بھول جاتی ہے جب انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنےمحسنوں  اپنی نسلوں کے رہنما اور اپنے مستقبل۔کی خوشیاں اپنے ہاتھوں سے زمین میں دفن کرنا پڑتی ہیں 

اور اسوقت انہیں خود بھی ایک دفعہ جیتے جی مرنا پڑتا ہےاور واپس جی اٹھنے کے لئے زمانے لگتے ہیں۔

آغا کہتا ہے بلوچستان میں بولنے کی اجازت نہیں یہاں صرف چشمے بولتے ہیں جھرنے فریاد کرتے ہیں صحراوں کی ہوائیں چیختی ہیں درد کے جھکڑ چلتے ہیں۔

اور جب کوئ بولنے کی ہمت کرے تو زمیں پر انسانوں کے ہاتھوں زلزلہ آجاتا ہےاور ایک ہی لمحے میں سب آوازوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔

اور پھر صدیوں انسانیت انصاف کے لئے تڑپتی رہتی ہے بلوچستان کے پہاڑ اور بنجر زمین انصاف کیلئے ترستی رہتی ہے۔

نہیں مانتی نور کسی M.pکے نعروں کو ناہی کسی حکمران کے کھوکھلے دعووں کو جب تک 8 اگست کو ہونے والے نقصان  کے ایک ایک لمحے کا ازالہ نہیں ہو جاتا۔

وہی ہوگا میرا ہیرو میری زمین کا ہیرو جو سب سے پہلے اس انصاف کے تقاضے کے لئے آواز اٹھاے گا۔

میں نے اپنی آنکھوں سے ان شہدا کے بچوں کی بے بسی اور بیواوں کی آنکھوں  میں ویرانی دیکھی۔

اپنے ان عظیم وکلاء ان عظیم رہنماوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئےمیرے پاس الفاظ ہی نہیں کہ انکی عظمت کو بیان کروں اور نا اس دکھ کو جو ان کے جانے کے ان کے خاندان اور بلوچستان کا مقدر بنا۔

مگر میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گی ان شہید وکلاء کو کے جانے کے بعد بھی آپ نے ہمیں خالی دامن نہیں چھوڑا اپنا حوالہ ہم سے جوڑ کر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا۔

ہم اپنی آنے والی نسل کو فخر سے بتائیں گے کہ ہم بھی اس عہد کے لوگ ہیں جس میں اتنے عظیم الشان لوگ موجود تھے۔

ہمارے بڑے ہمیں محمد بم قاسم طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر کی مثالیں دیتے ہیں تو ہم  بھی بلال کاسی داود کاسی قاہر کاسی ایمل کاسی اور باز محمد شہید کی  مثالیں دیں گے کہ اس بنجر زمیں نے اتنے زرخیز لوگ پیدا کئے اور پھر دوبارہ اپنے سینے میں چھپا لیا۔

ہم سے دشمن کا ٹھکانہ ڈھوںڈا نہیں جاتا 

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ