بریکنگ نیوز

کیا مسائل صرف اور صرف کراچی میں ہیں

IMG-20200613-WA0106.jpg

تحریر: ڈاکٹر عبدالواحد
ٹوئیٹر : Abwahidf

کچھ دنوں سے میڈیا پر چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اور بازگشت سنائی دی جا رہی ہے کہ کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرکے تحت ظلِ شہنشاہِ نیازی کرکے ترقی اور کامرانی کے منازل طے کرواکر پاکستان کو ایشائی ٹائیگر بنایا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کراچی کیوں۔اگر صنعت و حرفت کی ترقی درکار ہے تو لاہور اور فیصل آباد کیوں نہیں، اگر بندرگاہ کی تعمیروترقی درکار ہے تو گوادر کیوں نہیں۔اگر میٹرو پولیٹن سٹیز کی ترقی مقصد ہے تو پھر لاہور، ملتان پشاور کیوں نہیں اور اگر پسماندگی کا خاتمہ منظور ومقصود ہے تو پھر کوئٹہ خضدار اور سکردو چلاس کیوں نہیں پھر صرف اور صرف کراچی کیوں۔
دراصل کراچی کے انتخاب کی بہت سی وجوہات ہیں مگر نمایاں وجوہات میں سرفہرست کچھ وجوہات کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ سندھ حکومت سے ہے۔پہلی وجہ تو کراچی کے عوام کے مسائل ہی نہیں ہیں بلکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے یا عوامی بیانیہ (Public Rehtoric) ہے اور اصل مسائل سے عوامی توجہ ہٹانا مقصود ہے۔ اسوقت سب سے بڑا مسئلہ موصولات یا ٹیکسز کا اکٹھا نہ ہونا ہے۔ کرونا کی وجہ سے بہت سارے کاروباری مراکز اور سرگرمیاں بندش کا شکار رہیں جسکی وجہ سے اس سال کی حکومتی آمدنی کے ہدف میں کم وبیش تیس سے پنتیس فیصد کمی آئے گی جسکو پورا کرنے کیلئے اور آئندہ آنے والی آئی ایم ایف کی قسط کو ادا کرنے کیلئے بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا اور اس سے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی اور اسی طرح پنجاب حکومت آٹے کی قیمت کو خاطر خواہ طول دینے کی کوشش کرکے خسارے کو کم کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ اسوقت تمام تر گندم سرکاری ڈپوز میں وافر مقدار میں ذخیرہ ہے خرید گندم 3500 روپے تھی اب 5500 تک فی بوری کی مارکیٹ کی قیمت پہنچ چکی ہے۔ جسمیں مزید اضافہ کیے جانے کی توقع کی جارہی ہے اسی طرح چینی اور باقی اشیاء کی قیمتوں میں انرجی کی قدر میں اضافے سے اضافہ ہوگا اب حکومت کے پاس کوئی ٹھوس اور موثر لائحہ عمل نہیں جسکی وجہ سے عوامی توجہ کو مہنگاہی سے ہٹانےکیلئے counter strategy کے طور پر سندھ پر یلغار کی جائے گی جس سے حزب اختلاف خصوصاً پی پی پی کو زیرعتاب لایا جائے گا تاکہ ان مسائل پر کم سے کم بحث ومباحثہ ہوسکے.

دوسری طرف کراچی کے بلدیاتی نظام میں ایم کیو ایم، وفاقی نظام میں پی ٹی آئی۔اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت اب صوبائی اشوز پر زیادہ اثرواسوخ استعمال نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف شہر قائد کے بلدیاتی ادارے مالی بحران کے سخت ترین شکنجوں میں جکڑتے جا رہے ہیں، اداروں کی زبوں حالی کے باعث شہر کراچی میں صفائی ستھرائی سمیت دیگر اہم امور ٹھپ پڑگئے، جس کے باعث عوام پھر مایوسی کا شکار نظر آتی ہے۔ ایم کیو ایم کی طرف مسلسل پچھلے پندرہ سالوں سے گھوسٹ ملازمین کی بھرتی اور بے جا ملازمتوں کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعدادوشمار کے مطابق ماہانہ پچاس کروڑ کے لگ بھگ فنڈز کا خسارہ ہے، جبکہ ضلع وسطی 7 کروڑ روپے کی رقم کم ملنے کی وجہ سے دشواریوں کا شکار ہے، اسی طرح دیگر ضلعی بلدیات میں ایک کروڑ سے تین کروڑ روپے ماہانہ کمی کی شکایات ہیں، جو اس کا متبادل اپنے ذرائع آمدنیوں سے پورا کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ترقیاتی کام سر انجام دینے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی مصارف کا حجم گزشتہ دس سال میں کافی حد تک بڑھ چکا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ بے جا ملازمتوں میں اضافہ اور گھوسٹ ملازمین، جس کے متوازی او زیڈ ٹی فنڈز بڑھایا نہیں جا سکا ہے۔ قانونی لحاظ سے اس فنڈ کو ہر سال بڑھنا چاہیئے، مگر گرانٹ کی طرح بڑھائے جانے والے او زیڈ ٹی فنڈز بلدیاتی اداروں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، دیکھ بھال کے مصارف سمیت بلدیاتی خدمات کی فراہمی کیلئے گاڑیوں کی خریداریاں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔

اس طرح کراچی کو وفاق کے زیر اثر لا کر سندھ کا زیادہ تر سرمایہ کراچی پر لگا کر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی ساکھ کو بچایا جاسکے گا دوسری طرف کراچی صوبائی خزانے میں 70 فیصد سے زیادہ وسائل ڈالتا ہے۔ اس طرح کراچی کا کنٹرول سنبھال کر سندھ حکومت کو مجبور کیا جائے گا تاکہ وہ وفاق کی طرف سے آنے والے تمام تر فرمودات کو من وعن تسلیم کرسکے۔ کراچی پاکستان کا تجارتی دار الحکومت ہے اور جی ڈی پی کے بیشتر حصہ کا حامل ہے۔ قومی محصولات کا 60 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریباً تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ “آئی آئی چندریگر روڈ”(سابق میکلیوڈ روڈ) پر قائم ہیں۔ جن پر وفاق کنٹرول کرکے اپنا اثرواسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔
کراچی ویژن 2050ء تیار کر لیا گیا ہے اور 2020ء سے 2050ء تک کراچی ماسٹر پلان کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ کراچی کو مستقل طور پر وفاق کے زیر کنٹرول رکھا جائے گا، فاٹا کی سینیٹ نشستیں ختم کرکے کراچی کو الاٹ کی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت پہلے مرحلے میں سندھ میں گورنر راج نافذ کرکے صوبائی حکومت کو برطرف کرکے پولیس میں آئی جی سندھ سے لے کر ایس ایس پی اور کراچی کے تمام پولیس اسٹیشن کے عملے کو تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کرکے کراچی کو وفاقی علاقہ ڈکلیئر کرکے چیف ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے گا اس طرح پی ٹی آئی کراچی میں اپنے ووٹ بنک کو کامیاب طریقے سے بچا سکے گی۔

دوسری طرف اربن اور رورل
کوٹہ سسٹم ختم کرکے موجودہ وفاقی کوٹہ سسٹم لاگو کیا جائے گا، کراچی میں رورل کوٹہ سے نوکری حاصل کرنے والے ایک لاکھ ملازمین کو سندھ واپس بھیجا جائے گا۔ کراچی کی حدود میں تحصیل میرپور ساکرو، کیٹی بندر، گڈانی، حب، مکمل شامل کر لئے جائیں گے، تھانہ بولا خان، ٹھٹہ تحصیل کا بڑا علاقہ بھی کراچی میں شامل کرکے گجو اور نوری آباد تک کا اضافہ کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر وہاں دو نئے شہر بسائے جائیں گے۔ حب، دھابیجی اور نوری آباد میں ملک کے سب سے بڑے 3 انڈسٹریل زون اور میر پور ساکرو میں پورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اگرچہ پی ٹی آئی ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی اگر خدانخواستہ اس غیر آئینی عمل کو دہرایا گیا تو سندھ کی آمدنی کا ستر فیصد سے زائد حصہ کراچی سے پورا ہوتا ہے، ایسا کرنے سے صوبہ سندھ مشکلات اور مصائب میں گھر جائے گا اور صوبے میں لسانی و قوم پرست تحریکوں کو فائدہ ہوگا اور صوبے کی عوام میں مزید تفریق، احساس محرومی اور بگاڑ پیدا ہوگا۔ بلوچستان سے بھی امن وآمان کی صورتحال مخدوش ہوسکتی ہے اس لئے وفاق کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہیے تاکہ دوبارہ سندھو دیش جیسے نعروں اور تحریک سے اس صوبے اور اسکی عوام کو محفوظ رکھا جاسکے.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ