بریکنگ نیوز

کراچی کے مسائل کا حل کیا صرف بلدیاتی الیکشن ہیں

IMG-20200903-WA0048.jpg

*کراچی کے مسائل کا حل کیا صرف بلدیاتی الیکشن ہیں؟*
تحریر۔سیدظفرحسن بابو
بیشک اس بار کراچی میں بارشوں نے تمام ریکاڈ تور دیئے اس وقت کراچی شہر کی صورتحال انتہاتی تکلیف ذدہ ہے بڑے پیمانے پر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں مختلف علاقوں میں پانی نے شدید تبائی پھلائی جس کی وجہ سے اس شہر میں آباد لوگ کی ایک بڑی تعداد شدید مشکل کی صورتحال سے دوچار ہیں اگر آپ اس شہر کے پرانے برسات کے ریکارڈ پر نظر دوڑائیں آپکو ایک صدی پہلئے ایسی خوفناک بارشوں کا سلسلہ نظر آئیگا کراچی کی صورتحال بارش کے حوالئے سے کچھ عرصہ قبل اس قدر خراب ہو چکی تھی کے بیس پچیس سال سے اس شہر میں ہر سال مسجدوں میں بارش کیلئے دعائیں کرائی جاتی تھی کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تیزی سے نیچئے جارہی تھی جن علاقوں میں بورنگ کا پانی پچیس سال پہلئے 70 فٹ گہرائی پر دستیاب ہوتا تھا ان علاقوں میں پانی کی سطح 200 ,سے 250 فٹ پر آگئی تھی ایسی صورتحال میں کراچی میں موسمی تبدیلی بیشک کسی نعمت سے کم نہیں جس شہر میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈیم جو سوکھنے کی حالت میں آچکئے ہوں زمین کا پانی کئی سو فٹ نیچئے چلا کیا ہو اور ایک برسات کے سلسلئے نے اس شہر کے تمام پانی کے ذخائر کو انکی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے زیادہ بھر دیا آپکی زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی یہ کسی نعمت یا معجزے سے کم نہیں مگر یہ رحمت کچھ انسانوں اور علاقوں کیلئے شدید عزاب بن جائے ہمکو اس پر سیاست کرنے کی ضرورت نہیں اس پر انتہائی ٹھنڈے مزاج سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے جن کی وجہ سے کراچی کے کچھ علاقوں میں پانی حد سے زیادہ جمع ہوا اور نکاسی آب کی کوشش ناکام نظر آئی۔پورا شہر جانتا ہے اس شہر کی میئر شپ جماعت اسلامی اور متحدہ قومی مومنٹ کے پاس ہی رہی ہے اگر آج اس شہر میں نکاسی آب کی پرابلم سامنے آرہی ہیں تو اس پر اخلاقی طور پر ان لوگوں کو کراچی کے شہریوں سے معافی مانگنی چاہیئے جن کو اس شہر کی عوام نے اپنا بلدیاتی نمائندہ بنایا اور ان کی عدم توجہ سے کراچی کو یہ مسائل درپیش آئے ۔ان حالات میں جماعت اسلامی کا کردار کافی حد تک مثبت رہا مگر متحدہ قومی مومینٹ مکمل بلدیاتی نظام ہاتھ میں ہونے کے باوجود اس پریشانی کے وقت میں بھی عوام کو ریلف دینے کے بجائے اپنی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالنے کیلئے ہمیشہ کی طرح قوم پرستی کی سیاست شروع کردی تاکہ اپنی ناقص چار سالہ کارکردی پر قوم پرستی کا پردہ ڈالا جا سکئے اور پھر اگلئے الیکشن کی تیاری اسی لسانیت کے نعرے پر شروع کی جائے تاکہ پھر دوبار اس شہر کی مئیر شپ پر قبضہ حاصل کیا جاسکئے۔پی ٹی آئی بھی اس مواقع پر بارش کی وجہ سے پیدا ہونے والئے مسائل کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر ہی ڈالنے پر مجبور ہے متحدہ وفاق میں ان کی اتحادی ہے جس کی بنیاد پر وہ وفاق میں اقتدار پر پرجماں ہے متحدہ پر انکی تنقید وفاق میں تخت عمرانی کی بنیادیں ہلا دیئگی وہ پارٹی پالیسی کی وجہ سے متحدہ کے مئیر پر تنقید نہ کرنے پر مجبور ہے انکی کوشش اور دعا ہے وفاق کراچی کو اپنے ماتحت کرلئے تو انکی اچھی دال روٹی چل جائیگی۔ میری نظر میں اس وقت کوئی بھی مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرنےکو تیار نہیں اس بار ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقے بارش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن میں کئی کئی فٹ پانی نے اس پوش علاقے میں شدید تباہی مچا کر رکھ دی ہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں کی صفائی سیوریج اور واٹر سمیت تمام کا کنٹومینٹ بورڈ کی زمہ داری ہے ان علاقے سے اس مد میں کنٹو مینٹ بورڈ ہی سرچارج وصول کرتا ہے جو شہر کے مثالی علاقے کہلاتے ہیں مگر ان علاقے کا بھی نظام اس خوفناک بارش کے سامنے فیل نظر آیا اب ضرورت اس امر کی ہے ہمکو یہ بحث ختم کرنے ہوگی غلطی کہا سے ہوئی ضرورت اب اس بات کی ہے غلطی کو بہتر کسی طرح سے کیا جائے ڈیفنس کلفٹن کے تمام معملات پاکستان آرمی کے ماتحت ہے وہ اب سنجیدگی سے اپنی غلطی کو درست کرنے کی دن رات کوششں کرئینگئے باقی بات بلدیاتی اداروں سے منسلک اداروں کی 28 اگست مئیر کراچی کی مئیر شپ کا آخر دن تھے اب ضرورت اس بات کی ہے پہلئے فوری طور پر سڑکوں پر پیچ ورک کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا جائے اور ساتھ میں فوری گٹروں کی صفائی کروائی جائے جو مٹی بارش کے پانی میں بہہ کر گٹروں میں گئی ہے ان کو نکالا جائے تاکہ اب گٹر بند نہ ہوں شہر میں ساتھ ساتھ فوری کچرے کو صاف کروایا جائے۔اس کے بعد فوری طور پر بلدیاتی الیکشن سے پہلئے سٹی گورئمنٹ کے ماتحت کام کرنے والئے افراد کی سروس ویری فیکیشن کی جائے تاکہ آپکو اس محکمیے سے منسلک ان افراد کی معلومات ہو(کنڈی مین۔ سویئپر ۔نالہ گینگ جن کا کام نالو کی صفائی کا ہوتا ہے۔حلال خور جن کا کام قبرستان کی صفائی کا ہوتا ہے ان کی تعداد کتنی ہے ان سب کی روز تھم ویری فکشن لازی کرار دی جائے تاکہ بلدیات کے حاضر اسٹاف کی معلوم سامنے آئیں۔ہر سرکاری ملازم کی ڈیوٹی ٹائم آٹھ گھنٹے ہے۔ سویپر اور کنڈی مین سمیت تمام افراد کی صبح شام دو بار تھم ویری فیکیشن کر وائی جائے کراچی میں تقریبا 318 چھوٹے بڑے نالے ہیں ان پر سے تعمیرات فوری ختم کروائی جائے متاثرین کو دوسری جگہ آباد کیا جائے اس کے بعد پھر بلدیاتی انتخابات کروائے جائے کراچی جو پاکستان کا معاشی حب کہلاتا ہے کیا وجہ ہے یہ شہر پاکستان کو تو 68 فیصد ریبنیو دیتا ہے مگر خود سٹی گورئمنٹ کا محکمہ ریبنیو اس شہر سے اپنے ادارے کے ٹیکس جمع کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتا ہے جبکہ کراچی سٹی گورئمنٹ کو مالی اعتبار سے پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ ہونا چاہیئے تھا۔سندھ گورئمنٹ کو چاہیئے فوری طور پر کسی غیر جانب دار ادارے سے سٹی گورئمنٹ کے تمام اداروں کا فوری آوڈیڈ کرایا جائے تاکہ اس ادارے کی اصل صورتحال سامنے آئے اور آئندہ الیکشن میں کامیاب ہونے والئے میئر کراچی کو آپ ایک بہتر وسائل سے مضبوط ادارے اور اختیار کے ساتھ کراچی کے عوام کی خدمت کرنے کیلئے پیش کرسکئے کراچی کے مسائل کا حل صرف بلدیاتی الیکشن نہیں اب وقت ہے اداروں کی اصلاحات کا جو اب آپکے ہاتھ میں ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ