بریکنگ نیوز

جو ہم پہ گزری سو گزری

IMG-20200816-WA0013.jpg

تحریر: ڈاکٹر عبدالواحد

ملکی وعالمی حالات و منظر نامے کو دیکھ کر کافی دنوں سے میں تذبذب کا شکار تھا کہ اس پر کیا تحریر مرتب کی جائے۔ پھر مجھے پچاس کی دہائی کی اسی طرح کی بدلتی عالمی دنیا اور ریاستی جبری ہتھکنڈوں کی سرگزشت سامنے آئی اور فیض احمد فیض کی منگلمری جیل 29جنوری 1954 کی بیان کی ہوئی کرب و ستم سے سرشار داستان کہ “جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں ۔ ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے” یادی آئی اور آج کی دنیا پر نظر دوڑائی تو وہی منظرنامہ سامنے آ گیا۔ یہ ریاستی جبر اور نظربندیاں ابتدائے عشق سے دانشور ، سیاسی اور سماجی طبقے کے شانہ بشانہ ہیں یہ کوئی نئی ریت وروایت نہیں کہ کسی کے اثاثوں کی بحث کرنے پر کالم کا نہ چھپنا اور کسی ہردلعزیز کی کامیاب طرزحکومت پر لب کشائی کرنے پر ریاستی جبر کا سامنا ہو بلکہ روز اول سے یہی دستور رہا ہے کہ کوئی سر اٹھا کے نہ چلے۔ یہ اوائل کی بات ہے کہ جب شہنشاہ معظم کی قصیدہ خوانی نہ کرنے پر پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات (پاکستان ٹائمز، امروز، لیل و نہار، سپورٹس ٹائمز) پر قبضہ کر لیا۔لیل و نہار کے مدیر سبطِ حسن کو برطرف کردیا گیا جبکہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مظہر علی خان اور امروز کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی نے استعفی دے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ بعدازاں تمغات اور اعزازات سے سرفراز ہوئے۔

پھر کچھ اس سے بڑھ کر ہوا کہ اخبارات ورسائل نے مذہبی پردہ پوشی کرلی اور عہد کیا کہ وہ سنسنی خیزی کم کرنے کے لیے اخباری صفحات آدھے کر دیں گے، فلم ایڈیشن اور خواتین کی قابلِ اعتراض تصاویر سے بھی اجتناب ہوگا۔ نیز ایسے مضامین شائع نہیں ہوں گے جن سے قومی اداروں، ملک یا اس کی نظریاتی تضحیک کا پہلو نکلے۔ ظلم تو یہ ہے جنکوں کہا جاتا ہے کہ وہ عوام کی آواز بنے انہی کے دور کے ڈیفنس آف پاکستان رولز ہیں جن کےتحت کسی بھی اخبار یا رسالے کا ڈیکلریشن منسوخ ہو سکتا تھا اور صحافی یا ایڈیٹر سلاخوں کے پیچھے جا سکتا تھا۔ اس دور میں صحافی بھی چھپن چھپا کھیلا کرتے تھے
عوامی توجہ مبذول کروانے پر اخبارات میں خالی جگہ یونہی چھوڑ دیتے تھے تاکہ اس خلا سے بھی مزاحمت کی بو آئے۔ اس پر بھی پابندی لگادی گئی آج تو عوامی وزیراعظم اور اسکے ہمنواء خود بڑی بڑی چھوڑتے ہیں کہ انکے دور اقتدار سے پہلے تو صحافت بالکل اتنی آزاد نہ تھی جو آج ہے رفتہ رفتہ بات سیلف سنسر شپ تک آ پہنچی ہے. اجکل کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا صرف اور صرف فروغ جہالت اور قتل معرفت میں سرشار ہے بات یہاں تک نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے میڈیا مالکان تو اسمیں ملوث توہوتے ہی تھے اور آج بھی ہیں مگر جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے، اور مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے،ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا، ظلمت کو ضیاء سرسر کو صباء بندے کو خدا کیا لکھنا، کی کویتائیں لکھنے والے استاد دانشور اور علم دوست لوگ بھی شہر خاموشاں میں چلے گئے۔

آجکل کے دانشور اس بات پر قلم آزما ہیں کہ ارتغرل غازی کے فلاں قسط میں بڑا دلیرانہ انداز تھا عمران خان جائے نماز پر بیٹھ کر کس طرح دعائے ملک وملت کرتے ہیں۔ اور رونے کا مقام تو اس سے بھی آگے ہے کہ جامعات کے طلباء پبجی کھیلنے اور اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ انکے مقالہ جات کی کامیابی پر پرفضاء اور روح پرور مناظر میں بیٹھ کر سیر ہوتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان مناظر کی عکس بندی کرکے سوشل میڈیا پر اس بات کو جتاتے ہیں کہ وہ کتنے اعزاز کے مالک ہیں کہ خداوند بزرگ وبرتر نے انہیں کتنے سعید طلباء سے نوازا ہے۔ عملی میدان میں اجکل کوئی مقالہ ایسا نمودار نہیں ہورہا جس سے کم ازکم ایک محلہ ترقی کی سعادت پاسکے۔ محلہ تو محلہ اس سعادت مند طالبعلم کو بھی دوبارہ پڑھنے کی سعادت نہیں ہوتی۔ سماجی اور معاشرتی تنزلی کی انتہاء ہے UNDP کی ہیومن ڈویلپمنٹ کی فہرست میں گرچہ آبادی کے لحاظ سے چھٹے بڑے ملک کا جنوبی ایشیاء میں مقام صرف اور صرف افغانستان سے آگے ہے۔ علمی اور تحقیقی دنیا میں پاکستان کی کوئی جامعہ تین سو میں بھی اپنا مقام نہ بناسکی۔ سوشل سائنسز کے پنتیس سو جرائد میں ایک بھی پاکستانی جریدہ شامل نہیں۔ اور patents کی دنیا میں 57 نمبر پر ہے اور سالانہ صرف دس سے بارہ کی تعداد میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں. دوسری طرف جامعات کے پاس پچاس ہزار سے زائد اساتذہ ہیں جنمیں ساڑھے دس ہزار اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں اور اڑھائی ملین سے زائدہ طلباء مگر عملی وتحقیقی کاوش یورپ کے اس ملک بھی کم جسکی کل آبادی اڑھائی ملین سے کم ہے۔ان تمام تر حالات کے پس پردہ وہ ریاستی مذہبی اور معاشرتی سنسر شپس ہیں جو کسی دانشور، طالبعلم اور معلم کو بات کی حقیقت تک نہیں پہنچنے دیتے جس سے نئی دنیا آشکار ہوتی ہے.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ