بریکنگ نیوز

مسائل کے اصل ذمہ دار* ؟

IMG-20200711-WA0016.jpg

*تحریر، عدنان شیخ*

کراچی کورنگی میں ایک اور عمارت گرگئی مگر مجال ہے جو کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو چار دن میڈیا کا شور ہوگا اس کے بعد شائد کوئی تحقیقاتی کمیٹی بن جائے اور پھر کچھ دن بعد جیسے لے دیکر غیر قانونی عمارتیں بنتی ہیں بالکل ویسے ہی لے دیکر تحقیقات بند ہو جائے گئی اور سارہ قصور ان غریبوں کا ہوگا جو اس میں دب کر مر گئے اور مرحومین کے لواحقین کو کچھ دے دلاکر یا دھونس دھمکی سے خاموش کروادیا جائے گا کیونکہ ایسی جگہوں پر مکانات بنانے والے بلڈرز اور بنوانے والے ادارے کے کسی بھی افسر یا بلڈر پاکستان کے کسی قانونی گرفت سے بالاتر ہیں ،
اللہ والا ٹاون واقعہ کراچی میں کوئی نیا یا پہلا واقعہ نہیں ہے اور شائد آخری بھی نہیں ہو کیونکہ جب تک اس قسم کی تعمیرات میں ملوث اداروں کے عملے کے خلاف موثر قانونی کاروائیاں اور حقیقی قرار واقعی سزا نہیں ہوتی یہ عمارتوں کے گرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور انسان مرتے رہیں گے سرمایہ داروں کا سرمایہ بڑھتا رہے گا اور افسر شاہی چلتی رہے گی اللہ والا ٹاون واقعہ کے بعد اصولی طور پر تو ہونا یہ چاھیئے تھا جس وقت یہ عمارت تعمیر ہوئی تھی اس وقت کے افسران کو فوری طور پر گرفتار کرکے انکے انکے اہلخانہ کے تمام اثثاجات و جائدادیں ضبط کرلی جایئں جو ان افسران نے اس قسم کی غیرقانونی تعمیرات سے کمائی ہیں اور اُس بلڈر کو بھی گرفتار کرلیا جائے جس نے جعلی NOC جعلی نقشہ جعلی لیز دیکھاکر غریب عوام کو لوٹا اورناقص مٹیریل کی تعمیر غیرقانونی عمارت فروخت کرکے پیسہ بٹورے اور چلتے بنے ، اس قسم کے عناصر کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ان کی ضبط کئے گے اثاثہ جات سے لواحقین کے رہنے کا موثر انتظام کیا جائے تاکہ آئیندہ کوئی فرد یا اداروں میں موجود شخص انسانی جانوں کے ضیا میں ملوث نا ہو ارو دیگر اس قسم کی سوچ حامل افراد کیلئے نشان عبرت ہو،
گزشتہ دنوں کراچی میں بارش نے بلدیاتی نمائندوں اور اداروں کا پول کھول کر رکھ دیا 35 سال سے بلدیات میں اور ہر حکومت میں حصےدار رہنے والوں نے کراچی کو ڈوبو دیا گلی محلوں شاہراہوں پر پانی آج بھی موجود ہے بارش نے جو حال کراچی کا کیا اس سے انکے داعووں کا مکرُو چہرہ سامنے آگیا اور روشنیوں کے شہر کی ترقی کی قلعی کھول گئی مگر مجال ہے جو شرمندگی کا زرا برابر بھی احساس ہوا ہو بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانیں کے مترادف کراچی کی تباہی کا زمہ دار ایک بار پھر حسب روایت غریبوں کو ٹھرا دیا گیا اور نالوں تجاوزات کا شور مچاکر بری الزمہ ہونے کی کوشش کی جارہی ہے آج 60 سال بعد 60 کی دہائی کا گجر نالہ اُسی شکل میں واپس کرنے کی باتیں اور منصوبے بنائے جارہیں ہیں تاکہ عوام کی توجہ انکی کرپشن اور جرائم سے ہٹ سکے اس صورتحال میں یہاں چند سوالات بنتے ہیں ، کیا 1960 میں کراچی اتنے ہی مکانات تھے ؟ کیا اس وقت کراچی میں 40 گز پر پر 6 منزلہ عمارتیں تھیں ؟ کیا اس وقت 500 اور 1000 گز پر 8 8 پورشن تعمیر تھے ؟ کیا 1960 میں پلے گراونڈز اور پارکس کی زمینوں پر چائنا کٹنگ کرکے 10 10 مالہ فلیٹ تعمیر تھے ؟ کیا 1960 سے اب تک کراچی میں کوئی سیوریج سیسٹم بنایا گیا ہے جو شہر کی بڑھتی آبادی کی مناسبت سے ہو ؟ میرے ان تمام سوالات کا جواب صرف نہیں ہی ہے،
آپ لوگوں نے اور آپ لوگوں کے اداروں میں بھرتی ملازمین افسران نے صرف کراچی کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھ کر اس کے انڈے جو کہ اس ملک کا % 60 ٹیکسز صرف اپنی شاہ خرچیوں اور اپنی اولادوں کی شاہانہ زندگیوں اور اپنے ملک سے باہر کاروبار میں استعمال کیا شہر آج بھی 1960 کی سڑکوں نالوں واٹرانیڈسیوریج سسٹم پر ہی موجود ہے یعنی لکڑ پتھر سب ہضم تجاوزات کی آڑ میں اپنے سرمایہ داری و سیاسی منشور پر عمل پیرا ہوکر ایک بار پھر غریبوں کو بے گھر کر رہے ہیں تاکہ انکے آنسووں اور درد کو اپنے سیاسی و مالی فائدے میں استعمال کرسکیں
بارشوں میں کراچی ڈوبنے کی وجہ گجرنالہ پر تجاوزات بتاکر بہت آسانی سے اپنی نااہلی پر بہت آسانی سے پردہ ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے والے اگر 60 70 سال سے آباد گجر نالہ مکیں ہی کراچی کی ڈوبنے کی وجہ ہیں تو تب آپ لوگ کہاں تھے جب یہ آباد ہورہے تھے ؟ تب آپ لوگ کہاں تھے جب نالہ کے بعد 30 فٹ چھوڑکر انہیں لیز مالکانہ حقوق دیئے جارہے تھے آج جب وہ لوگ وہاں پر اپنی ذندگی بھر کی جمع پونچی محنت کی کمائی سے عزت سے سر چھپانے کا سائبان بناکر بیٹھیں ہیں جو کہ حکومت وقت نے اپنی تمام تر قانونی تقاضوں پر پورا اترتے ہوئے ان غریبوں کو دی تھی آج گجر نالہ پر تجاوزات کے نام پر ایک طرف سے 105 فٹ نشانات لگاکر توڑ پھوڑ کا عندیہ دیا جارہا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے حالانکہ 60 فٹ چوڑا نالہ اور 20 20 فٹ کی دونوں اطراف میں سڑکوں سے زیادہ کی ضروت نہیں بنتی (اگر غریب امیر کے فرق کی عینک اتار کر دیکھو) 60 فٹ چوڑا نالہ اگر تھوڑا گہرائی کیساتھ بہتا رہے بنا کیسی رکاوٹ کہ تو کراچی میں گزشتہ بارشوں سے زیادہ بھی بارشیں ہوجائیں تو بھی کبھی نالہ اورفلو نہیں ہوگا مگر اس کے ساتھ ضروت اس امر کی بھی ہے کے شاہراہوں پر موجود برساتی نالے جوکہ سڑکوں کے نیچے دبا دیئے گئے ہیں انہیں کھول دیا جائے برساتی نالوں سے سیوریج لائینوں علیحدہ کیا جائے رہائشی و صنعتی علاقوں کی سیوریج پائپ لائنز جو کے بہت قدیم و بوسیدہ ہوچکی ہیں انہیں آبادی کی مناسبت اور ضروریات کے پیش نظر ماہر اور ایماندار انجینیرز کی زیرنگرانی تبدیل کی جایئں، نالہ کے دونوں اطراف بلند دیواریں تعمیر کی جائیں تاکہ اس میں کچرا نا پھنکا جاسکے جو ہر یوسی میں موجود پرائیوٹ خاکروب گھروں سے ماہانہ ماوضہ وصول کرکے اٹھاتے ہیں، شہر بھر میں کچرا کنڈیاں واپس تعمیر کی جائیں جہاں سے بلدیاتی عملہ روز کی بنیاد پر کچرا اٹھائے ، نالہ گنگ جو کس زمانے میں روز کی بنیاد پر نالہ صاف کرتی تھی اس کو اسکی اصل شکل میں پھر سے بحال کیا جائے تو ہی کراچی کے مسائل میں کمی لائی جاسکتی مگر جس طرح سے گجر نالہ کی تعمیر کے لئے پہلے سے موجود جگہ کے باوجود بھی ایک طرف سے 105 فٹ کی مزید توڑ پھوڑ سے کراچی شہر کے مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ