بریکنگ نیوز

سوشل میڈیا اور موجودہ سرکار

c25560-1.jpg

تحریر آزاد احمد چوہدری

ابھی کچھ سال پہلے ہی کی تو بات ہے کہ وفاقی حکومت یعنی کہ تحریک انصاف کی طاقت سوشل میڈیا کو سمجھا جاتا تھا بات کرتے ہیں ماضی کی 2011 ء میں تحریک انصاف کا مینار پاکستان لاہور کے مقام پر جلسے نے سیاست میں ایک دلچسپ انٹری کی پھر اسکے بعد یکے بعد دیگرے کئی جلسے جلوس ریلیاں کرتے کراتے 2013 کی عام انتخابات میں ناکامی کے بعد پھر سے عوام کو باور کرانے کے لیے کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے ایک سو چودہ دن کا دھرنا پورے ملک میں جلسے ریلیاں یہ سب کچھ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کیا گیا مخالف سیاسی جماعتوں کا خوب مقابلہ کیا گیا جس میں کسی قسم کی قباحت نہ برتی گئی بہت سی فلاسفی جھڑی گئی مگر ہونا کیا تھا 2018 میں انتخابات ہوگئے مر کز میں حکومت بن گئی عمران خان صاحب کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی وہ ملک کے وزیراعظم بن گئے ۔اب بات شروع ہوتی ہے اس سے آگے کی سوشل میڈیا پر تو خوب ٹرینڈز چلائے گئے مخالف سیاسی جماعتوں کو خوب چنے چبوائے گئے اور وہ بھی سوشل میڈیا پر مگر تیاری کچھ نہیں کی گئی سٹڈی سرکل نہ ہونے کے باعث خالی ہوائی دعوے یا یوں کہہ لیں سنی سنائی باتیں پھلائی گئیں جزباتی تقاریر کر کہ عوام کہ جزبات کو اتنا بڑھایا گیا کہ وہ بیچارے سمجھنے لگے شاید تحریک انصاف ہی انکے دھکوں تکلیفوں کا مداوا کرےگی۔ مگر ہونے کو کیا تھا اب جب اڑھائی سالہ حکومت گزر چکی ہے تو تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بھی چپ ہوچکا ہے اس کہ حمایتی اینکر پرسن تجزیہ نگار صحافی تاجر مزدور سرکاری ملازمین سیاسی ورکرز سب ہی خاموش ہوگئے ہیں اور دوسری جماعتوں کی طرف سے طنزح کو خاموشی سے یا کہیں کہیں مقابلے کیساتھ برداشت کر رہےہیں ۔ ہمیشہ ہی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں الیکشن میں کامیابی اسی جماعت کی واضع ہوجاتی تھی جس سیاسی جماعت کی مرکز میں حکومت ہوتی تھی مگر اس بار کچھ مختلف ہے گلگت بلتستان میں الیکشن ہونے کو ہیں اور تحریک انصاف گلگت بلتستان کو دیکھانے کو کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ تحریک انصاف کی سرکار نے اپنے حکومت میں مرکز میں سوائے مرغی انڈے کٹے جیسے شیخ چلی والے خیالات کہ علاؤہ کچھ بھی نہیں کیا اور اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی الیکشن اگلے سال ہونے ہیں ۔جس کی کمپین تحریک انصاف نے تقریباً شروع کی ہوئی ہے مگر وہاں بھی بتانے کو کچھ بھی نہیں ہے مہنگائی زوروں پرہے غریب کا گزارہ مشکل ہے بے روزگاری میں اضافہ ہے مڈل ایسٹ میں جودلوگ بر سر روزگار تھے وہ ان میں سے بے شمار بے روزگار ہو کر واپس آ چکے ہیں ۔ایسے میں کوئی نیا منشور لانے یا پھر کوئی نئی تقاریر کرنے کی بجائے وزیراعظم عمران خان صاحب کی سابقہ حکومتوں کے دوران کی گئیں تقاریر جن پر انہوں نے خود بھی کبھی عمل نہیں کیا انہی کو کاپی پیسٹ کر کہ عوام تک پہنچانے میں کوئی کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے اس بار کچھ مختلف کرنا ہوگا کیونکہ وفاق میں حکومت کی بدترین کارکردگی ہے اور آئے روز اپوزیشن جماعتوں کا سوشل میڈیا خوب دیکھا اور بتا رہا ہے ایسے میں تحریک انصاف آزاد کشمیرکو وہ سوشل میڈیا پر وہ تمام غلطیاں نہیں کرنی ہونگی جو پاکستان میں کی گئیں تھی۔ لوگوں کو زراعت باغبانی لوکل انڈسٹری گلہ بانی اور اسطرح جیسے کاموں کی طرف اشارہ دیں نہیں تو حال برا ہی ہوگا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ