بریکنگ نیوز

تعلیم نسواں

IMG-20201121-WA0063.jpg

تحریر :رداامجد

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے , اور تعلیم نسواں ایک بہت اہم پہلوں ہے ۔جسے ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں لیکن اس موضوع کا معشیت سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ آج کا میرا موضوع تعلیم نسواں کی تعلیمی اہمیت اور اس میں آنے والی رکاٹوں کو بیان کرے گا , ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کے بعض خاندانوں میں تو لڑکی کا پیدا ہونا ہی جرم تصور کیا جاتا ہے ۔اور ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بچوں کو بچیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ہمیں ان باتوں سے خود کو نکالنا ہوگا۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا , کہ ایک عورت کا بھی پڑھا لکھا ہونا اتنا ہی ضروری ہےجتنا ایک مرد کا ہے۔ بلکہ ایک پڑھی لکھی عورت پوری نسل کو سوارتی ہے۔

ایشیاء کے ممالک میں پاکستان تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہے۔ پاکستان میں تقریبا 22.6 ملین بچے ، جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں ، ابھی بھی اسکول سے باہر ہیں۔ تمام بچے ہی نا قابل قبول تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں ، لیکن لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ خاندان یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ بیٹی یا بہن کو تعلیم دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک بیٹے کو دینا ضروری ہے۔ کچھ خاندانوں میں لڑکیاں کو ایک خاص عمر سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لڑکیوں کے تعلیم سے متعلق رویوں میں مختلف برادریوں میں نمایاں طور پر فرق پایا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں ، لڑکیوں کو تعلیم سے منع کرنے والے ثقافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے خاندانوں کو دباؤ اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بہت سے خاندانوں میں بیٹیوں سے صرف گھر میں صفائی ، کھانا پکانے ، چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال اور خاندانی کاموں میں مدد فراہم کرنے کی تو قع رکھی جاتی ہے ۔ جبکہ ایک غریب فیملی میں بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے بچیوں سے کام کروایا جاتا ہے ۔لیکن اگر ایک بیٹی تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ ایک خوشگوار زندگی بسر کرسکتی ہے ۔ اس کے برعکس بہت سے خاندان میں صرف بیٹوں کو ہی اپنا مستقبل سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں بوڑھے والدین کا حامی سمجھا جاتا ہے ، حقیقی وارث کہا جاتا ہے ۔ جبکہ بیٹی کو ایک بے بنیاد نظریہ کی وجہ سے اسے اس کے بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ کہ وہ دوسرے گھر کی امانت ہے , اس کی تعلیم پر خرچ کرنا پیسے کو ضائع کر نے کے مترادف ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی نہ پانا , ایک بہت بڑا مسئلہ اور آنے والے سالوں میں پاکستان کی معشیت پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے ۔ جو کسی بھی ملک کی معشیت کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسںی طرح اگر ملک میں خواندگی کی شرح بڑھے گی تو مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ خواندگی لوگوں میں ان کے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ اس سے اچھی صلاحیتوں کے حامل افراد اعلی معیار زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، ملازمتیں ڈھونڈنے کے بہتر مواقع رکھتے ہیں ، اور وہ نئی مہارتیں سیکھنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ جو ان کو کام کے میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ جس ملک میں خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے اس میں سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے ساتھ ساتھ پیسوں کی آمدورفت زیادہ ہے ۔ اس کے نتیجے میں اس ملک کی معیشت پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ ایک معاشرے کی معاشی خوشحالی اور خواندگی کا ایک دوسرے پر بہت اثر پڑتا ہے جو مشترکہ طور پر مل کر ترقی کرتے ہیں اسی لیے خواندگی کی شرح کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو تعلیم دلوائی جائے۔ حدیث مبارکہ میں ہے ….. بے شک تعلیم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔

تعلیم نسواں میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ
دیہی اور قدامت پسند علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم اس لیے بھی بڑا چیلنج ہے۔ کیوں کہ دیہی علاقوں میں اسکولوں اور اساتذہ کی کمی ہے جبکہ والدین معاشرتی اور قدامت پسند پس منظر کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو گھروں سے باہر نہیں بھیجنا چاہتے ہیں۔ بس نام نہاد “غیرت” کے نام پر قتل و غارت گری ، تیزاب حملوں ، گھریلو تشدد ، جبری شادی کروا دینا , ایک انداز ے کہ مطابق ہر سال تقریبا ایک ہزار غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ حکومت کو جلد ازجلد اس بڑے گیپ کو ختم کرنے کے لیے فوری حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ والدین کے دلوں اور دماغوں سے یہ خوف نکالنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اگر گھر سے باہر کسی لڑکی کو تعلیمی درسگاہ میں بھیج رہے ہیں تو وہ یقین رکھیں کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کو ثابت کرنی ہوگی کہ بچی ریاست مدینہ میں رہتی ہے , نہ کہ یورپ کے کسی ملک میں …

بین الاقوامی سطح پر بھی , تعلیم کے مساوی حق کو تسلیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے انسانی حقوق کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعلیم میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرئیں ، خواہ وہ روزمرہ کی زندگی کی ہو یا ان کے بنیادی حقوق کی ، ریاست کو مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے . ریاست لوگوں میں شعور پیدا کرے اور اس کے ساتھ اپنے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کرے۔
#Bolurdu1

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ