بریکنگ نیوز

شیطانی مثلث سے مقابلہ

6lYVAcqT.jpg

تحریر: حسن فاروق
یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم قیام پاکستان سے لے کر آج تک امریکہ کو آسودہ و مطمئن رکھنے میں مصروف رہے اور ہر کاوش اور ہر مرحلہ پر ہم قومی عزت نفس اور ملکی مفادات کو مجروح کرتے چلے گئے۔ اس عاقبت نما اندیش طرز فکر و عمل نے ہمارے جسد قومی کو زخموں سے چور چور کردیا ہے۔ پوری قوم بیزار و پریشان ہے کہ ہماری قیادت ہر آئے دن قومی سلامتی کا مسودہ کرتی رہی اور امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کےلیے ہمیں استعمال کرکے ہمیں سزا دینے میں مصروف رہا۔ تجربات اور مشاہدات اس حقیقت کےغماز ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے طرز فکر اور طرز عمل میں کو یگانگت نہیں ہے۔ ہاں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا ابلیس اتحاد ثلاثہ اور مثلث اپنے فکر و عمل میں ایک ہی نہج پر ہے۔ امریکہ کی حریص فکر پر جہت کی عصبیت میں محصور اپنی سرشت اور جبلت کے فساد میں ملوث ہے۔
اس کے کردار کی موجودہ تاریخ ناگاساگی اور ہیروشیما سے لے کر کئی ممالک میں خون آشامی سے فطرت کے خدوخال کو گورا کرتی ہوئی افغانستان اور عراق میں اپنے ابلیس رقص میں انتہا کر پہنچ کر منہ تڑوا کر لوٹی ہے۔ لاکھوں انسان اس رقصِ شیطانی میں روندے گئے اور کھربوں ڈالر کی املاک تباہ و برباد ہوگئی ہیں۔ اور سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ امریکہ شکست کی رسوائی کے بعد اپنے پیچھے ایسا ذہنی انتشار چھوڑ جاتا ہے کہ کہیں فرقہ واریت کے ذریعے کہیں لسانیت کے ذریعے اور کہیں صوبائیت کے ذریعے ایک قوم منقسم ہوکر آپس میں دست و گریباں ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو سبوتاژ کرنے کیلئے امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر خرچ کئے لیکن ایرانی حکمرانوں اور قوم نے امریکہ کی ساری امیروں کو خاک میں ملا دیا لیکن آج بھی امریکہ کا میڈیا جوبائیڈن کے ایران کے بارے میں پابندیاں نرم کرنے کے عندیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے میں اپنے تمام تر وسائل دن رات بروئے کار لادیا ہے۔
اس وقت پورے کرہ ارض پر امریکہ کا ہدف صرف مسلم ممالک ہیں۔ پاکستان کو معاشی و معاشرتی بحرانوں میں مبتلا کردیا اور جبکہ دُنیا جانتی ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کی بناء پر 26 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ 2001ء سے 2020ء تک پاکستان میں 19 ہزار 130 واقعات میں 80 ہزار جانوں کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔
امریکہ، اسرائیل اور بھارت نے ایجنڈے کی تکمیل کےلیے اربوں ڈالر کے عوض اپنی ہمارے گمراہ قبائلی افراد کی قبائل غیرت و حمیت کو خرید کر افغانستان میں اپنی آغوش میں محفوظ پناہ گاہیں اور تربیت کے ساتھ ساتھ فراوانی کے ساتھ جدید اسلحے سے لیس کر کے پاکستان کی سلامتی کونشانے پررکھا ہوا ہے جس کے لیے پاکستان کو بھاری اخراجات کا بوجھ اٹھا کر برسوں سے پرامن سرحد کو بھاؤ لگا کر محفوظ کرنا پڑگیا۔ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کیلئے جب دوبارہ پاکستان کی ضرورت پڑی تو پاکستان نے اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے فریقین کر مذاکرات کی میز پر بٹھا کر امریکہ کو ایک مرتبہ پھر رسوائی سے محفوظ کرکے باعزت واپسی کا راستہ مہیا کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس کے جواب میں امریکہ سے افغانستان میں بھارت کے تخریبی اڈوں کی سلامتی، بقاء اور استحکام کے خلاف مخصوص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ میں کئی بار بڑی ذمہ داری کے ساتھ ان خدشات کا اظہار کرچکا ہوں کہ بھارت اپنے اکھنڈ بھارت کے خواب کی تکمیل کیلئے پاکستان کو انتہائی نقصان پہنچانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور سی پیک کے خلاف امریکہ کی آشیرآباد پر کھلے عام تخریبی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ پچھلے دنوں آئی ایس پی آر نے مضبوط شواہد کے ساتھ بھارت کے مکروہ چہرے کو ننگا کرتے ہوئے اقوام عالم کو ڈرونز فراہم کیے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بھارت دہشتگردوں کے تربیتی مراکز کی پشت پناہی کررہا ہے۔
دہشتگردوں کے 66 تربیتی مراکز افغانستان اور بھارت میں کام کررہے ہیں بھارت کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے کی تقسیم کررہا ہے۔ را کی طرف سے ٹی ٹی پی کی معاونت کی ثبوت بھی ہیں۔ دہشتگرد تنظیموں کو مختلف ذرائع سے رقوم فراہم کی جارہی ہیں۔ بلوچستان میں انتشار کیلئے 235 ملین ڈالر بھونک چکا ہے۔ سی پیک کو سبوتاز کرنا بھارت کا واضح پلان ہے۔ اس کیلئے اپنی ایجنسیز میں خصوصی میل بنا رکھا ہے۔ اس سیل کا مینڈیٹ سی پیک منصوبوں میں خال ڈالنا ہے۔ اب تک سیل کو 80 ارب روپے دے چکا ہے۔ تاہم سی پیک منصوبوں کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان کے جوان شب و روز بھارتی سازشوں کیلئے تیار ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان سنگین بحران اور مخدوش حالات سے گزر رہا ہے امریکہ نے ایٹمی اثاثوں کے نام پر جو نفسیاتی جنگ چھیڑ رکھی ہے اس سے وہ ابھی تک پیچھے نہیں ہٹا حالانکہ اگر کسی ملک میں مخالف تحریکوں کے باعث ایٹمی اثاثوں پر قبضہ یقینی ہے تو پھر بھارت اور اسرائیل کے ایٹمی اثاثے بھی انتہائی غیر محفوظ ہیں کیونکہ بھارت میں دو درجن سے زائد تحریکیں فعال ہیں۔ ہر روز کئی درجن افراد اس کا شکار ہورہے ہیں لیکن امریکہ سمیت کئی یورپی ملک کو کوئی تحفظات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے۔ اس کا ایٹمی قوت ہونا عصبیت زدہ قوموں کو گمراہی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بین الاقوامی سازشوں کو سمجھے اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعے اپنے گھر کے ذریعے اپنے گھر کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی حکمت عملی واضح کرے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔ کرم خوئی، رواداری اور عفو درگزر کے ذریعے اس بحران سے نکلنے کی تدبیر اختیار کی جائے۔ مل کر ان بیرونی سازشوں کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ