بریکنگ نیوز

چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر بینظیر

IMG-20201222-WA0000.jpg

تحریر نائمہ بریڑو
سیکریٹری اطلاعات
پاکستان پیپلز پارٹی
شعبہ خواتین ضلع
جنوبی کراچی
27 دسمبر کی شام پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین شام ھے جس نے پاکستان کے عوام کو ایک گوہر نایاب سے محروم کر دیا. جب 27 دسمبر 2007 کاسورج غروب ہورہا تھا تو سیاسی افق پر تین دھائیوں سے چمکنے والا درخشاں ستارہ غروب کردیا گیا.
جمہوری اداروں کے استحکام، پاکستان کی بقا، انسانی حقوق، عوام کی حقیقی حکمرانی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کوشاں دختر مشرق اور پاکستان کی بیٹی
شہید محترمہ بینظیر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کے بعد ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے میں بے دردی سے شہید کردیا گیا.

راولپنڈی جہاں منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے شہید کیا گیا تھا اور آمریت کے ایک اور سیاہ دور کا آغاز ہوا تھا.

لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی ,اپنے ملک کی بقاء اور جمہوریت کی حکمرانی کی بات کرنے والی والی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی گئ .

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے سیاسی جدوجہد کا آغاز شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد عملی طور پر شروع کردیا.

عوام کے حقوق اور جمہوریت کی حکمرانی کے ذریعے مسائل کا حل ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہا عوام کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھنا عوام سے گہری محبت ہی نے بےنظیر بھٹو کو بےنظیر بنانے میں کردار ادا کیا ۔
عالمی دنیا میں بھی شہید رانی محترمہ بےنظیر بھٹو ایک قدأور رہنما کے طور جانی جاتی ہیں بلکہ انکو عالمی سطع پر بھی ایک مدبرانہ دانشور ترقی پسند خواتین اور عالمی حقوقِ کی علمبردار تعلیم یافتہ تہزیب یافتہ شائستہ کردار کی خاتون سمجھا اور جانا جاتا ہے۔
شہید بےنظیر بھٹو پاکستان کو جدید دور کی ایک ترقی یافتہ روشن خیال مسلم ریاست بنانا چاہتی تھیں جدید تقاضوں کے برعکس انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطع پر بھی عالمی برادری کے ساتھ انسانی حقوق غربت کے خلاف جنگ میں کمی لانے ناانصافی کے خلاف اور خاتمے کے لئے محکوم قوموں کی حقوق کے لیے انکی کوششوں کا اعتراف خواتین بلکہ سب نے تسلیم کرلیا ۔
بین الاقوامی سطح پر بین الاقوامی تنظیموں ، اداروں کے حکومتوں کی طرف سے ان کو دئیے گئے اعزازی ایوارڈز گویا تعلیمی اداروں کی اعزازات سے بھی زیادہ ہیں جو انھیں عالمی خدمات کے برعکس مختلف خدمات کے لیے خدمت کے عوض بطور اعزاز حاصل ہوئے ۔
1996میں بیجنگ میں منعقدہ عالمی وومین کانفرنس میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے انھیں انسانی حقوق کی خواتین کے حقوق اور تیسری دنیا کےپسے ہوئے طبقات پسماندگی کے خلاف جدوجہد کے لیے پوری دنیا میں انکی خدمات کو سراہا گیا اور انکو عالمی میڈیا عالمی جرائد نے اپنے نیوز پیپر کے اولین صفحات میں نمائندگی دے کر بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا ۔
1996میں انھیں گنیز بک آف ولڈ ریکارڈ میں دنیا کی مشہور ترین شخصیات کے ساتھ مشہور ترین سیاستدانوں میں شمار لکھا گیا ۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا پاکستان میں جمہوریت کی بقاء جمہوریت کی بحالی کیلیے انکی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو اکثر کہا کرتی تھیں کہ وہ جلاوطنی ختم کرکے جب 1986کو زندہ دلان لاہور کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انکو پاکستان عوام کی جانب سے جو امید اعتماد وفا ملی وہ دوسری دفعہ 18اکتوبر کو کراچی میں وھی جذباتی منظر دیکھنے کو ملا ۔
پاکستان میں اکثر لوگوں کی طرح مجھے بھی مارشل لاء کے تاریک دور کا تجربہ تھا لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کے برعکس مجھے ان تجربات کو ریکارڈ کرنے کا موقع میسر تھا اگر میں بھی جمہوریت کے خلاف معاہدہ کرتی تو شاید میرے بھائی بھی گمنامی سے قتل نہ کیے جاتے انکے خلاف سازشیں انکے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کےساتھ ساتھ ہی سازشیں عروج پر رہیں مگر وہ عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے عوام سے محبت کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مضبوط بنانے پر گامزن ہوگئے ۔
آج 27دسمبر صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی انھیں بنی نوح انسان خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
بدقسمتی سے پاکستان میں سیاہ نقاب سیاہ دستانے جمہور اور جمہوریت سے دشمنی ازلی قصہ ہے ۔
جس طرح ایک شاعر نے کہا تھا کہ ہم کوفہ کے رہنے والے کچھ ایسا ہی کرتے ہیں جو اپنے سر سے بڑھ جائیں انھیں ماردیتے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ ہمیشہ شہادتوں کا علم بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور 27 دسمبر کو ایک اور عظیم قائد نے ملکی ترقی خوشحالی عوام کی حقوق کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خود کو کروڑوں دلوں میں امر کردیا
اور آج بھی عوام یہی نعرہ بلند کرتے ہیں
چاروں صوبوں کی زنجیر
بےنظیر بےنظیر

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top