بریکنگ نیوز

کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ اور چینی عوام نے ٹھوس اقدامات کے ساتھ سوشلسٹ نظام کے استحکام کو یقینی بنایا یے۔ بنگلہ دیش امن کونسل کے سربراہ

unnamed.jpg

(خصوصی رپورٹ):-

بنگلہ دیش امن کونسل کے سکریٹری جنرل ، ڈاکٹر ایم کیوسیم نے کہا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) نے مارکسزم کو چین کے حقیقی حالات میں عملی اور لچکدار انداز میں مربوط کیا ہے ، اور ترقی کی ایک منفرد راہ تلاش کی ہے ،۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ1840 سے جب پہلی افیون کی جنگ شروع ہوئی ، چینی عوام نے قوم کو محکوم ہونے سے بچانے کی خاطر ہمت جرآت کے ساتھ جدوجہد کی ہے ، کیوسیم نے کہا کہ اس طویل مدتی جدوجہد کے دوران چین نے مختلف سیاسی نظام اور ترقیاتی راہیں آزمائیں۔

تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ چین کی قومی آزادی اور خوشحالی صرف سی پی سی کی سربراہی میں ہی حاصل ہوئی ، ان کا کہنا تھا کہ انکی اس وقت عمر 80 سال کے قریب ہے اور جب وہ جوان تھے تو بب بنگلہ دیش کی کمیونسٹ پارٹی کے اہم رکن تھے۔

کیوسیم نے کئی بار چین کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ہر دورے سے اس نے ملک کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا ، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اپنی اصلاحات اور وسعت پر مبنی پالیسیز کے آغاز کے بعد سے ہی چین میں تیز رفتار ترقی کو اپنی آنکھوں سے وقوع پزیر ہوتے دیکھا ہے ، اور وہ واقعتا ملک پر حکومت کرنے میں سی پی سی کی عظیم کامیابیوں کی جدوجہد تعریف کے قابل ہے۔

بیجنگ ، شنگھائی ، ڈالیان ، ووہان اور دیگر چینی شہروں کا دورہ کرنیوالے اس شخص کا کہنا ہے کہ
چین میں سوشلزم تیز رفتار ترقی کیساتھ پروان چڑھ رہا ہے ، جسے چینی شہروں میں چوڑی کھلی سڑکوں ، جگمگاتی روشنیوں اور چین کے شہروں میں مہمان نواز لوگوں کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے ،

کوسیسم نے کہا کہ غربت کے خلاف سخت جنگ جیتنے سے لے کر COVID-19 وبائی امراض پر کنٹرول حاصل کرنے تک کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ نے چینی عوام کے ساتھ مل کر سوشلسٹ نظام کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مطلق غربت جس نے کئی ہزار سالوں سے ملک کو دوچار کر رکھا تھا سی پی سی نے کامیابی سے غربت کے خاتمے کے اہداف کو پورا کیا جو اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈا میں پائیدار ترقی کے شیڈول سے دس سال قبل طے شدہ ہے۔

کویسیم نے کہا ، سی پی سی کی سربراہی میں ، چین نے بڑے مسائل کو حل کرنے کے لئے چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلزم کی طاقت اور چینی عوام کے اتحاد اور محنت سے ، انسانی ترقی کی تاریخ میں ایک معجزہ پیدا کر کے دکھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین نے غربت کے خاتمے کے اہداف کو گھروں میں حاصل کرنے کے دوران ، اقوام متحدہ کے ’غربت کے خاتمے کے اتحاد میں شمولیت اور جنوب-جنوبی تعاون کے لئے امدادی فنڈ قائم کرکے عالمی ترقیاتی امور کو حل کرنے میں معاونت کرتے ہوئے ترقی میں بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے۔

کواویڈ 19 وبائی امراض کے اچانک حملے کے پیش نظر ، چین نے لوگوں اور ان کی زندگی کو اولین اور فوری تحفظ فراہم کرتے ہویے موثر اقدامات اٹھائے ہیں ، ان اقدامات کی بدولت چین کو دنیا بھر سے تعریف و توسیع حاصل ہوئی ہے ،

کیوسیم نے نشاندہی کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ سی پی سی کی قیادت اور چینی عوام کی یکجہتی نے چین کی کامیابی سے حاصل کی گئی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انٹرویو کے دوران ، کیوسیم نے پیپلز ڈیلی کی ان کی کالی “ژی جنپنگ: چین کی گورننس” نامی کتاب کو دکھایا ، جسے وہ کئی بار پڑھ چکے ہیں اور پوری کتاب کو مختلف نوٹس سے بھر رکھا ہے۔

کیوسیم نے کہا کہ انہوں نے کتاب سے بہت سارے فلسفیانہ افکار اور حکمتیں حاصل کی ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ جس چیز انہیں خاص طور پر متاثر کن محسوس ہوتی ہے وہ چین کا نیا ترقیاتی فلسفہ ہے جس میں جدید ، مربوط ، گرین ، اوپن اور مشترکہ ترقی کی نمائش کی گئی ہے اور ساتھ ہی ایک مشترکہ کمیونٹی کی تعمیر کے اہم خیال کو بھی پیش کیا گیا ہے جسے بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

ایک سو سالوں سے ، سی پی سی نے اپنی اصل اہداف اور مقاصد کے حصول کے مشن پر عمل پیرا ہونے کے لئے چینی عوام کی جانب سے بھر پور حمایت حاصل ہے۔

اور ان کے مطابق ، خود اصلاحات کے لئے دیرینہ کوششوں کی وجہ سے اس کی طاقت اور عزم کو برقرار رکھا ہے۔

کیوسیم نے کہا کہ چونکہ 2021 کا سال سی پی سی کے قیام کی صد سالہ تقریبات کی مناسبت سے اہم ترین سال ہے ، اسے امید ہے کہ چین سی پی سی کی سربراہی میں مزید شاندار کامیابیوں کو حاصل کرسکتا ہے اور انسانیت کی نشوونما میں مزید حکمت اور طاقت کا عملی حصہ یقینی بنا سکتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top