بریکنگ نیوز

چین کی مشترکہ مستقبل کے حوالے سے کمیونٹی کے قیام کی تجویز دور اندیشی اور بصیرت کی آئینہ دار ہے۔

WhatsApp-Image-2021-06-28-at-8.41.20-AM.jpeg

پولینڈ کی نئی بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے نائب صدر سیزنا

(خصوصی رپورٹ):-

پولینڈ کی نئی بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے نائب صدر اور ریپبلک آف پولینڈ کے سیزم کے رکن ، اندریج سیزنا نے کہا ، چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی قیادت میں ، چینی عوام نے ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا دیا ہے۔ پیپلز ڈیلی کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے
سیزنا نے نشاندہی کی کہ سی پی سی نے گزشتہ ایک صدی میں چین کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک شاندار سفر کیا ہے اور اب بھی اس کی طاقت و حمیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے کامیاب تجربات دنیا کیساتھ بانٹے جائیں تو یہ ایک بیش قیمت دولت ہوگی۔

سیزنا کے دفتر میں ایک کتاب کے الماری پر “ژی جنپنگ: گورننس آف چائنا” کے پہلے جلد کے پولش ورژن کی ایک کاپی موجود ہے ، جسے وہ کئی بار غور سے پڑھ چکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس کتاب میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کے راز مضمر ہیں۔

سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری ژی جنپنگ چین کے مستقبل کے بارے میں گہری سوچ رکھتے ہیں ، سیزنا نے کہا کہ چینی رہنما لوگوں کی فلاح و بہبود پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں ، اور لوگو کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بہت زیادہ کوششیں اور مصروف عمل رہتے ہیں۔
اور چینی معاشرے میں اقتصادی ڈیویلپمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک توازن برقرار رکھنے کی بھر پور سعی کر رہے ہیں۔

سیزنا نے چین کے بہت سارے دورے کیے ہیں اور وہ غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابیوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

سیزنا کے مطابق ، سی پی سی نے معاشرتی عدل اور متوازن ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل ذکر نتائج دیکھے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں چین کے وسطی اور مغربی علاقوں میں لوگوں نے اپنی تیز رفتار ترقی سے حیرت زدہ کیا ہے ، اور یہ کہ چینگدو ، چونگ کنگ اور وسطی کے دیگر شہر اور مغربی چین ملک کی وسعت پسندانہ پالیسیز کا ایک محاز بن کر ابھرے ہیں اور ان علاقوں میں مقامی لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا ہے۔

سیزنا نے کہا کہ
چین کہ زمینی حقائق پر مبنی ، سی پی سی اور چینی حکومت نے مختلف ترقیاتی مراحل کے لئے ترقیاتی اہداف مرتب کیے ہیں اور ایک مرحلہ وار انداز میں چین کے عوام سے ہر ایک کے ساتھ ان کے عزم کا کے اظہار کو یقینی بنایا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک دولت مندوں اور غریبوں کے مابین بڑے فرق سے پریشان ہیں۔ سی پی سی نے اس مسئلے سے نمٹنے اور لوگوں کے قریب رہ کر ، شفافیت اور انصاف کے حصول کے لئے جدوجہد کی ہے۔ سیزنا نے کہا کہ چین کی گورننس فلاسفی کا مرکزی محور لوگوں کو ترجیع فراہم کرنا ہے تاکہ عوام کو فوائد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے
اور غریب عوام کے حقوق اور دلچسپی کے سامان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور غریب اور ضروتمند کو یکساں انداز میں ڈیویلپمنٹ میں شریک کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے کارکردگی اور منصفانہ شفافیت دونوں کو مدنظر رکھا ہے اور گذشتہ دہائیوں کی ترقی کے دوران ایک مضبوط معاشرتی بنیاد تشکیل دی ہے ، جسے وہ ملک کی تیز رفتار معاشی نمو کے پیچھے ایک اہم عنصر گردانتا ہے۔

چین نے لوگوں کو متحرک اور منظم کرنے اور COVID-19 وبائی مرض کے خلاف جنگ میں سہولیات کی مضبوط صلاحیتوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک متحرک انداز میں اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

جو چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلسٹ نظام کی مضبوطی کا آئینہ دار ہے۔

سیزنا نے زور دے کر کہا کہ وبائی مرض کرونا وائرس پوری انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے اور وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کے لئے یکجہتی اور تعاون ہی سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ سیزنا نے کہا کہ چین نے گھروں سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کے لیے دنیا بھر کے بیشتر ممالک کیساتھ تعاون یقینی بنایا یے۔

چین نے وبائی مرض پر قابو پانے کےلئے بہت سے ممالک کے ساتھ تعاون کیا ہے ، ویکسین اور دیگر امدادی سامان اور حفاظتی آلات مہیا کیے ہے اور وبائی امراض کے تدارک کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے وبائی امراض کے خلاف جنگ میں عالمی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔

وہ چین کی بین الاقوامی سطع پر انسانی ہمدردی کے حوالے سے جاری مجوزہ ویژن کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین کی بنی نوع انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی بنانے کی تجویز بہت وسیع اور گہری بصیرت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

سیزنا نے کہا کہ سی پی سی کی قیادت تاریخ اور چینی عوام کے ایک انتخاب کی عکاسی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پی سی کی کامیابی نے دنیا کو سوشلزم کی طاقت اور اثر و رسوخ کو دکھایا ہے ، اور دیگر ممالک خصوصا بائیں بازو کی جماعتوں کی سیاسی جماعتوں کے لئے یہ واقعتا متاثر کن ثابت ہوسکتی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر میں پولینڈ نے فعال طور پر حصہ لیا ہے ، سیزنا نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کرکے پولینڈ اور چین نے تعمیر و ترقی کے اس مواقع کو قبول کیا ہے اور اقتصادی اور تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور وفود کے تبادلوں سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ . انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تکنیکی جدت ، ماحولیاتی تحفظ ، خدمات اور تجارت سمیت ان شعبوں میں مزید تعاون کریں گے۔

سیزنا نے بتایا کہ پولینڈ کی نئی بائیں بازو کی سیاسی جماعت نے حالیہ برسوں میں سی پی سی کے ساتھ نتیجہ خیز تبادلہ اور تعاون کیا ہے۔

سیزنا کے مطابق ، پارٹی نے امید کی ہے کہ نئی بائیں بازو کی جماعت مسلسل چینی عوام کے ساتھ ساتھ سی پی سی اور مختلف منصوبوں کی حمایت کرے گی ، انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے ، انصاف پسندی اور انصاف کے تحفظ اور پارٹی کی تعمیر کو مضبوط بنانے کے لئے سی پی سی کے ساتھ مزید گہرے روابط بارے تبادلہ خیال یقینی بنانے گی۔ اور پولینڈ اور چین کے عوام کے مابین باہمی تبادلوں اور تعاون میں شراکت کو یقینی بنائیں گے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top