بریکنگ نیوز

امریکا کیساتھ امن کا حصہ تو بن سکتے ہیں جنگ کا نہیں، وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں دوٹوک اعلان

5d35e92ee7c3e.jpg

Pakistan’s Prime Minister Imran Khan meets with U.S. President Donald Trump in the Oval Office of the White House in Washington, U.S., July 22, 2019. REUTERS/Jonathan Ernst

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ امن کا حصہ تو بن سکتے ہیں جنگ کا نہیں اور ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں یہی ہمارے مفاد میں ہے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب کیا اور یہ خطاب ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

وزیراعظم کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت
وزیراعظم نے خطاب کے آغاز میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازع رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ الیکشن کو قابل قبول بنایاجائے، ہم نے پوری اصلاحات کی ہے جس پر ابھی بحث نہیں ہوئی اور وقت آگیا ہے کہ الیکشن لڑیں لیکن فکر نہ ہو کہ مجھے دھاندلی سے ہرادیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پہلے دن تقریر کرنے کی کوشش تو تقریر نہیں کرنے دی گئی، ہم نے 133 میں سے 4 حلقے ڈیمانڈ کیے تھے، عدالت میں جا کر کیس لڑکر وہ حلقے کھلے، 2013 کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات ہیں، ہم اس نتیجے پر آئے کہ ای وی ایم لائی جائے، اگر اپوزیشن کی اور تجویز ہے تو ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ای وی ایم مشین ہوتو پولنگ ختم ہونے پر سب رزلٹ آجاتا ہے، اگر ہم اصلاحات نہیں کریں گے تو ہر الیکشن میں یہی سلسلہ ہوگا۔

شوکت ترین نے میرے وژن کے مطابق بجٹ بنایا، عمران خان
بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ وزیرخزانہ شوکت ترین اوران کی تمام ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے میرے وژن کے مطابق بجٹ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ مشکل فیصلوں سے عوام کو بڑی تکلیف ہوئی، ابھی لوگ مشکل میں ہیں، اردگان جب آئے تو ترکی قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا انھوں نے بھی مشکل فیصلے لیے، حکومت ڈیفالٹ سے بچنے کی پوری کوشش کرتی ہے، 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا اورہم کوشش کرتے رہے کہ کہیں اور سے پیسہ مل جائے لیکن ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

ان کا کہنا تھاکہ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دیں گے، یہ سبسڈی آٹا گھی چینی وغیرہ پر ملے گی، یوٹیلٹی اسٹورز پر ڈیٹا موجود ہوگا جبکہ 90 ہزار انڈر گریجویٹ طلبہ کو اسکالرشپ دیں گے، پناہ گاہوں کا پورے ملک میں جال بچھانے جارہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ سارے کسانوں کو رجسٹر کررہے ہیں، 13 ایکڑ سے کم اراضی والے کسان کو سبسڈی دیں گے، کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کی براہ راست مدد کریں گے جبکہ زرعی شعبے میں ٹیکسز پر ایک ارب روپے کی چھوٹ دی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو بڑھایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ستر فیصد اپنے چھوٹے کاشتکار کو فوائد دیں گے، کسان مارکیٹیں بنائی جائیں گی تاکہ مڈل مین کا کردار ختم ہو۔

وزیراعظم نے اپوزیشن بینچز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ جب اپوزیشن میں تھا توملک نے فیصلہ کیا کہ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوں، جب امریکی جنگ میں شامل ہوئے تواس وقت بھی جنگ میں شمولیت کی مخالفت کی تھی، امریکی جنگ میں شامل ہونا ہماری حماقت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی جنگ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، 70 ہزار افراد شہید ہوئے، امریکی جوکہتے رہے مشرف حکومت کرتی رہی، مشرف نے کتاب میں لکھا پیسے لے کرلوگوں کوامریکیوں کے حوالے کیا۔

ڈرون حملوں سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ 30 سال سے ایک دہشت گرد برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے توکیا برطانیہ ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دے گا؟ امریکا ہمارا دوست ہے اورہمارے ہی ملک میں ڈرون حملے کرتا رہا، جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو میں نے اس کی مخالف کی جس پر مجھے ’طالبان خان‘ کہا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مائیک مولن نے کھلی سماعت میں کہا امریکا ڈرون حملے حکومت پاکستان کی اجازت سے کررہا ہے، کھلی سماعت میں کہاگیا کہ حکومت پاکستان اپنے عوام سے کیوں جھوٹ بولتی ہے؟ اسامہ بن لادن پر ایبٹ آباد میں امریکا نے حملہ کیا تو ہمارے بیرون ملک پاکستانی چھپ گئے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے، دونوں طرف پاکستانی مارے جارہے تھے، کیا کوئی دوست ملک اپنے اتحادی کے ملک میں بمباری کرتا ہے؟ ہمارے ملک میں اجازت دی گئی اور پھر کہتے تھے ہم ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اس وقت کی حکومت کا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ امریکا کو انکار کرتے، عوام سے جھوٹ بولا جاتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ امریکا افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا تھا ہمیں برا بھلا کہا گیا، ہم پر افغان معاملے میں دوہری پالیسی کا الزام عائد کیا گیا، ہم افغانوں کو جانتے ہیں، ہمارے بھائی ہیں، انہوں نے کبھی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی، امریکا نے افغانستان سے جانے کی تاریخ دے دی، ہمیں کہا جارہا ہے کہ طالبان کوٹیبل پرلے آئیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ مجھے سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان امریکا کواڈے دے گا؟ ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں جو افغان عوام چاہتے ہیں، ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں یہی ہمارے مفاد میں ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں، پاکستان اب کسی صورت اپنی خودمختاری پرسمجھوتا نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ امن کے شراکت دارہیں جنگ کے ہرگزنہیں۔

اسمبلی میں تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان کے ‘دہشت گردی کیخلاف جنگ’ پر مؤقف پر اپوزیشن ڈیسک بھی بج اٹھے اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ارکان نے حمایت میں ڈیسک بجائے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top